Mian Manzoor Ahmed Wattoo demands withdrawal of GST‏

Mian Manzoor Ahmed Wattoo, President Punjab, has said that the fraction of relief given to the people is a crude joke with them when the prices of petrol have slashed almost half in the international market, this he said in a statement issued from here today.
He pointed out the mockery of the government that had raised the GST from 17% to 22% on petroleum products that was synonymous to giving with one hand and taking it away with the other. This gimmickry is unacceptable, he asserted. He demanded that the raised GST be withdrawn
He maintained that the relief was only befitting the car owners and the upper class because the common man was paying almost the same fare for traveling as he used to pay when the prices of petrol were double in the international market.
He further said that the prices of the goods of the poor man use remain almost the same if not showing upward trend. They are not at all better off instead they are paying more as the prices of vegetable and fruits have soared, he added.
He demanded that the government should ensure comparable relief to the people of all sections of the society and especially those who were at the other end of the food chain as they deserve the most.
He called upon the government to ensure maximum benefit to the poor people even at the expense of the privileged class because they could easily bear the burden of such policy of the government. It would be fair by any measure of social justice narrative, he stated.
He particularly mentioned the farmer community in this regard adding that the prices of diesel should be slashed proportionate to its prices in international market enabling them to run their tube wells relatively freely to meet pressing needs of irrigation.
He said that the relief would benefit the farmers immensely as almost all tube wells were now running on diesel due to the excessive load shedding of electricity and consumption of diesel was double as such.
He pointed out that the farmers were already facing the worst crisis due to the apathy of the government and the crippling prices of rice, cotton and sugarcane in the market controlled largely by hoarders, mill owners and the middle man.

پیپلز پارٹی پنجاب کے صدر میاں منظور احمد وٹو نے آج یہاں سے جاری ایک بیان میں کہا ہے کہ بین الاقوامی مارکیٹ میں تیل کی قیمتیں کم ہونے کے مقابلے میں حکومت نے جو عوام کو ریلیف دی ہے وہ اونٹ کے منہ میں ذیرے کے برابر ہے۔ انہوں نے کہا کہ حکومت کی دوسری ستم ظریفی دیکھئے کہ حکومت نے پٹرولیم کی اشیاء پر جی ایس ٹی 17 فیصد سے بڑھا کر 22 فیصد کر دیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ یہ ایسے ہی ہے کہ حکومت نے ایک ہاتھ سے عوام کو کچھ دیا تو دوسرے ہاتھ سے فورًا واپس لے لیا۔ انہوں نے مطالبہ کیا کہ جی ایس ٹی میں اضافے کو فی الفور واپس لیا جائے۔ انہوں نے مزید کہا کہ پٹرول کی قیمتوں میں کمی سے کار کے مالکان اور امیر طبقے کو ضرور فائدہ ہوا ہے لیکن غریب آدمی اب بھی سفر کرنے کے لیے وہی کرایہ ادا کر رہا ہے جو پہلے دیتا تھا۔ انہوں نے کہا کہ حکومت کرایوں میں کمی کروانے میں بالکل ناکام رہی ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ غریب آدمی کے استعمال کی اشیاء کی قیمتوں میں کوئی کمی واقعہ نہیں ہوئی ہے بلکہ سبزیوں اور پھلوں کی قیمتیں بڑھ گئی ہیں۔ انہوں نے پھر مطالبہ کیا کہ عوام کو بین الاقوامی منڈی میں تیل کی قیمتیں جو تقریباً آدھی کم ہوئی ہیں اسی تناسب سے عوام کو ریلیف مہیا کرنے کو یقینی بنایا جائے۔ انہوں نے خاص طور پر کسانوں کا ذکر کیا جو کہ اب ٹیوب ویلوں کو ڈیزل پر چلانے پر مجبور ہیں کیونکہ بجلی کی لوڈشیڈنگ کی وجہ سے بجلی انکو دستیاب نہیں اور اب تمام ٹیوب ویلز ڈیزل پر چل رہے ہیں جسکی وجہ سے اسکی کھپت تقریباً دوگنی ہو گئی ہے۔ انہوں نے کہا کہ اس مد میں اسی شرح سے ریلیف سے کسانوں کو بڑا فائدہ ہو گا اور وہ اپنی آبپاشی کی ضروریات کو اچھے طریقے سے پورا کر سکیں گے۔ انہوں نے کہا کہ کسان اسوقت بہت برے حالات سے گزر رہے ہیں کیونکہ کپاس ، چاول اور گنے کی قیمتیں کریش ہونے سے انکو بہت مالی نقصان ہوا ہے جس نے انکی کمر توڑ دی ہے۔

کیٹاگری میں : News

اپنا تبصرہ بھیجیں