خورشید احمد خان مرحوم ۔ ایک شفیق ملنسار اور عوام دوست شخصیت: ریاض حسین بخاری

download

میرا خورشید خان صاحب سے اتنا تعلق تو تھا کہ وہ پاکستان پیپلز پارٹی کے سابقہ ایم پی اے اور ملتان پیپلز پارٹی کے صدر تھے لیکن ان سے قریبی رابطہ 2008ء انتخابات کے دوران ہوا اور پھر یہ تعلق وقت کے ساتھ ساتھ مضبوط سے مضبوط تر ہوتا چلا گیا۔ اور اس وقت تک قائم رہا جب تک وہ اس فانی دنیا میں موجود رہے۔ پھر وقت نے دیکھا کہ وہ پارٹی کارکنان کے ہاتھوں ہی لحد میں اتارے گئے۔ جب ان کا جسد خاکی لوگوں کے دیدار کے لئے رکھا گیا تب بھی وہ پارٹی کے تین رنگی پرچم میں ہی لپٹے ہوئے تھے بالکل اسی طرح جس طرح انہوں نے پارٹی پرچم اپنے ہاتھوں سے زندگی بھر تھامے رکھا تھا۔ مرحوم کہا کرتے تھے کہ جس شخص نے شہید بھٹو اور محترمہ بے نظیر بھٹو کی قیادت میں کام کیا وہ کسی اور کو کسی بھی صورت اپنا قائد نہیں مان سکتے نہ ہی کسی دوسری پارٹی میں کام کر سکتے ہیں۔ وہ ایک ہر دلعزیز مزدور رہنما تسلیم کئے جاتے تھے ۔ جب انہوں نے الیکشن میں پارٹی ٹکٹ کے لیے درخواست دی تو اس وقت ان کے مقابل ملتان کے ایک بہت بڑے صنعت کار تھے ۔ بی بی شہید نے ان سے پوچھا کہ آپ اتنے بڑے صنعت کار اور سرمایہ دار کا مقابلہ کر لو گے تو خان صاحب نے بی بی سے کہا میں نہ صرف مقابلہ کروں گا بلکہ ان کی ضمانت ضبط کرادوں گا۔ بی بی نے ان کے اعتماد کو دیکھتے ہوئے ان کو پارٹی ٹکٹ جاری کر دیا پھر دنیا نے دیکھا کہ الیکشن میں ایک درمیانے طبقہ کے مزدور رہنما خورشید احمد خان نے ایک بہت بڑے سرمایہ دار کی ضمانت ضبط کروائی۔ یہی اعتماد تھا جس وجہ سے محترمہ بے نظیر بھٹو شہید نے انہیں 1998ء میں پیپلز پارٹی ملتان شہر کا صدر نامز د کیا ۔ تب سے جناب خورشید خان صاحب پیپلز پارٹی ملتان کی صدارت کے فرائض سر انجام دے رہے تھے۔ یہ صرف خان صاحب کی ذات اور ان کی خدمات ہی تھی جن کی وجہ سے وہ اتنے لمبے عرصے تک پیپلز پارٹی ملتان کی صدارت پر براجمان رہے۔
وہ ایک انتہائی ملنسار ۔ شفیق اور حلیم طبعیت کے مالک تھے۔ ان کے پیار میں بھی پارٹی سے محبت موجود ہوتی تھی تو ان کی ناراضگی میں بھی پیار ہی ہوتا تھا۔ انہوں نے جس سے بھی محبت کی بے لوث کی ۔ڈیرہ اڈا کا فرینڈز ہوٹل ان کا مستقل ٹھکانہ تھا۔ وہ سردی ہو یا گرمی بارہ بجے ہوٹل پہنچ جایا کرتے تھے اور پھر شام تک وہیں رہتے۔ جو آپ کے پاس آتا بڑے پیار محبت سے اپنے پاس بٹھاتے ، چائے پلاتے اس کا حال احوال پوچھتے ان کے مسائل سنتے اور حتی المقدور ان کے حل کے لیے کوشاں رہتے ۔لوگوں کے مسائل کے حل کے لیے ان کے ساتھ مختلف دفاتر کے چکر لگاتے اور ذاتی دلچسپی سے ان کے مسائل حل کرواتے۔
مجھے ان کے ساتھ سفر کرنے کا اعزاز بھی حاصل ہوا ہے۔ و ہ سال میں دو مرتبہ بڑی باقاعدگی سے گڑھی خدا بخش جیالوں کا قافلہ لے کر جاتے ۔ ان کا ہر طریقے سے خیال رکھتے تھے۔ اور یہ سلسلہ 18اکتوبر 2014ء تک بھی جاری رہا۔ ایک دفعہ مرحوم سلمان تاثیر جب گورنر پنجاب تھے مجھے ایم سلیم راجہ (جنرل سیکرٹری ملتان) اور خان صاحب کے ساتھ لاہور ورکر کنونشن میں جانے کا اتفاق ہوا۔ ہم اپنی گاڑی میں سفر کر رہے تھے کہ وہ چیچہ وطنی کے قریب خراب ہوگئی اور سفر کرنے کے قابل نہ رہی ۔ کیونکہ پارٹی قیادت کا حکم تھا تو انہوں نے ہر صورت لاہور پہنچنا تھا۔ انہوں نے ہائی ایس پر روانگی کا فیصلہ کر لیااور کافی دیر انتظار کے بعد ہائی ایس سے ہی لاہور روانہ ہوگئے اور جب روانہ ہوئے تو اس وقت ہائی ایس میں نششت ہی خالی نہ تھی اور انہوں نے کھڑے ہو کر سفر کیا۔ انہوں نے زندگی بھر شادی نہیں کی وہ کہا کرتے تھے کہ میری شادی پیپلز پارٹی سے ہو چکی ہے۔مجھ سے ناراض بھی ہوتے تھے ۔ ہنسی مذاق بھی کرتے تھے اور اپنی زندگی کے سیاسی واقعات بڑی باقاعدگی سے سنایا کرتے تھے۔ اور ان کے ہر واقعہ میں ہمارے لیے ایک سبق ہوا کرتا تھا۔ مجھ سے دیگر کارکنان کی طرح بہت محبت کرتے تھے ۔ان کی وفات سے ایک ہفتہ پہلے مجھے اسلام آباد جانا پڑا تو انہوں نے مجھ سے کہا کہ واپس آکر ملاقات کرنی ہے اور کچھ سیاسی فیصلے اور ان پر عمل کرنے کا آغاز کرنا ہے ۔ میں ہفتہ کی شام واپس آیا اور چند گھنٹوں کے بعد ان کی وفات کی خبر آگئی اور دوسرے دن بڑے بوجھل دل کے ساتھ میں ان سے ملاقات کی بجائے ان کے جنازے میں شریک تھا۔
جس نے دنیا میں آنا ہے اس نے واپس بھی جانا ہے ۔ لیکن جس خاموشی سے خان صاحب دنیا سے کسی کو تکلیف دیئے بغیر چلے گئے وہ خاموشی اب ہر پارٹی کارکن اپنی زندگی میں محسوس کر رہا ہے۔ مجھے پتہ چلا کہ مرنے سے پہلے ان ہمارے ایک ساتھی عبدالرؤف لودھی بھی ان کے ہمراہ تھے ۔ خان صاحب کی طبعیت اچانک خراب ہوئی اور بے ہوش ہوگئے۔ چند لمحوں بعد پھر ہوش میں آگئے اور پوچھا کہ مجھے کیا ہوگیا تھا تو لودھی صاحب نے کہا کہ شاید آپ سو گئے تھے۔ لودھی نے ان سے کہا کہ اپنے لاڈلے ریاض بخاری کو بلاؤ ان سے مل کر آپ کی طبعیت فریش ہو جائے گی تو خان صاحب نے کہا کہ وہ اسلام آباد بیٹھا ہے کہا ں سے آئے گا۔ اور پھر ان کی طبعیت دوبارہ بگڑ گئی۔ ہسپتال لے جایا گیا لیکن وہ خالق حقیقی سے جا ملے۔ میرے لیے یہ بڑے اعزاز کی بات ہے کہ میں مرتے وقت بھی ان کے دل و دماغ میں موجود تھا ۔ اللہ انہیں غریقِ رحمت کرے۔ (آمین)
ان کی وفات پر پارٹی کے ہر کارکن نے بے انتہا آنسو بہائے اور جی پی او گراؤنڈ میں ان کا بہت بڑا جنازہ ہوا جس میں ہر طبقہ زندگی سے تعلق رکھنے والے افراد نے شرکت کی ۔ ان میں سیاست دان ، مزدور رہنما، صنعت کار ، سرمایا دار اور پارٹی کارکنان موجود تھے۔ سیاستدانوں میں سے سید یوسف رضا گیلانی، خواجہ رضوان عالم ، ڈاکٹر جاوید صدیقی ، ملک عامر ڈوگر ، ایم سلیم راجا، بابو نفیس انصاری اور دیگر پارٹی رہنما اور بے شمار پارٹی کارکنان اور صحافی موجود تھے۔ سب نے انہیں اپنے اپنے الفاظ میں خراج عقیدت پیش کیا۔ سید یوسف رضا گیلانی نے کہا کہ وہ پارٹی کا قیمتی اثاثہ تھے اور پارٹی کے لیے ان کی خدمات ہمیشہ یاد رکھی جائیں گیں۔ خواجہ رضوان عالم نے کہا کہ جب بھی پارٹی میں کسی قسم کی تبدیلی کی بات ہوتی یا انہیں جنوبی پنجاب میں ذمہ داری دینے کی بات ہوتی تو یہ دیکھا جاتا کہ ان کا نعیم البدل کون ہوگا تو ہمیں ان کی جگہ ان جیسا کارکن ہی نہ ملتا ۔ ڈاکٹر جاوید صدیقی نے کہا کہ ان کے ہوتے ہوئے ہمیں پارٹی کی فکر نہیں ہوتی تھی کیونکہ خان صاحب نے پارٹی کارکنان کو یکجا رکھا ہوا تھا۔ ملک عامر ڈوگر ایم این اے نے انہیں خراجِ تحسین پیش کرتے ہوئے کہا کہ وہ میرے سیاسی رفیق رہے ہیں اور اس سیاسی سفر میں خان صاحب نے مجھے بے حد سپورٹ کیا ہے اور میں ان کی چاہیتیں کبھی نہیں بھول سکتا۔ غرضیکہ ہر شخص نے انہیں اپنے اپنے الفاظ میں بہترین خراجِ تحسین پیش کیا اور جنوبی پنجاب کی تنظیم کے جو رہنما ملتان میں نہ آسکے تھے انہوں نے اپنے اپنے پیغامات میں بے حد دکھ اور تکلیف کا اظہار کیا جن میں مخدوم شہاب الدین ، جناب حیدر زمان قریشی، شوکت بسرا اور دیگر پارٹی رہنما شامل تھے ۔ پیپلز پارٹی کے ذیلی تنظموں پی ایل ایف ، پی ایس ایف ، پی ایل بی کے سارے کارکنان بھی جنازہ میں شریک تھے۔ جن میں عارف شاہ صاحب ، شیخ غیاث الحق صاحب اور مزدور رہنما شامل تھے۔ یہ ان کی محبت ہی تھی کہ ان کے جنازے میں صحافی برادری بھی کثیر تعداد میں شریک تھی۔
خان صاحب خود تو چلے گئے لیکن جو خلاء ان کے جانے سے پیدا ہوا ہے وہ کب پورا ہوکوئی نہیں جانتا۔ ہو بھی سکے گا یا نہیں یہ صرف اللہ جانتا ہے۔ لیکن ان کی وفات پر ہم سب کارکنا ن عہد کرتے ہیں کہ جس پارٹی کو خان صاحب نے پھولوں کی طرح پالا وہ پیار ، وہ چاہت ہمارے دلوں میں قائم رہے گی اور ان کا مشن جاری رہے گا اور مرحوم کو خراج تحسین پیش کرنے کا یہ بہترین طریقہ ہے۔ آخر میں پی پی پی کی ساری مرکزی ، صوبائی، شہری اور ضلعی قیادت اور کارکنان ان کے لیے زندگی بھر دعا گو رہیں گے کہ اللہ انہیں اپنی جوار رحمت میں جگہ دے اور جنت الفردو س میں اعلیٰ مقام عطاکرے۔ (آمین)
خورشید خان تمہیں پاکستان پیپلز پارٹی کا سلام عقیدت
ریاض حسین بخاری
ڈپٹی سیکرٹری اطلاعات پی پی پی ملتان شہر

کیٹاگری میں : News

اپنا تبصرہ بھیجیں