ڈاکٹر طاہر القادری کا ایجنڈا نا قابل فہم ہے: منظور وٹو

APP27-07Lahore-300x195

پیپلزپارٹی پنجاب کے صدر ووفاقی وزیر منظور وٹو نے کہا ہے کہ پہلے تو لانگ مارچ نہیں ہوگا ،اگر ایسا ہو اتو شرکاء کی چائے سے تواضع کرینگے اور انکے لئے آگ کے الاؤ جلائینگے لیکن اتنے زیادہ لوگوں کو بستر مہیا نہیں کر سکیں گے‘مسلم لیگ (ق) کی حکومت کیساتھ کوئی سرد جنگ نہیں اور ایم کیو ایم بھی ہماری اتحادی ہے‘ ڈاکٹر طاہر القادری ہمارے لئے انتہائی قابل احترام ہیں لیکن نگراں حکومتوں کے قیام سے دو ماہ قبل انکا ایجنڈا نا قابل فہم ہے ‘ گورنر کی طرف سے پارلیمانی پارٹی کو بلانا خیر سگالی کا پیغام تھا لیکن (ن) کااس میں شرکت نہ کر نا سمجھ سے بالا تر ہے ۔ ان خیالات کا اظہار انہوں نے فیصل آباد سے (ن) لیگ کے سابق رکن قومی اسمبلی میاں امجد یاسین کی سابق ناظمین‘ نائب ناظمین اور تاجر تنظیموں کے نمائندوں کے ہمراہ پیپلزپارٹی میں شمولیت کے موقع پر پریس کانفرنس میں کیا ۔ اس موقع پر پنجاب کے جنرل سیکرٹری تنویر اشرف کائرہ‘ اپوزیشن لیڈر راجہ ریاض احمد سمیت دیگر بھی موجود تھے۔ منظور وٹو نے کہا کہ پیپلزپارٹی شہیدوں کی جماعت ہے ۔ اسکی قیادت نے عوام کے حقوق کے لئے اپنی جانوں کے نذرانے دئیے ہیں ۔ذوالفقار علی بھٹو نے جمہوریت کے لئے قائد اعظم کا تصور اپنایا اور اسی کو بینظیر بھٹو شہید آگے لیکر چلیں اور انہوں نے بھی عوام کے حقوق کے لئے بھرپور جدوجہد کی ۔ انہوں نے کہا کہ ڈاکٹر طاہر القادری ماضی میں ہمارے ساتھ رہے ہیں لیکن جب اسمبلیوں کی مدت پوری ہونے میں صرف دو ماہ کا عرصہ باقی رہ گیا ہے انکا ایجنڈا نا قابل فہم ہے ۔ انہوں نے کہا کہ گورنر پنجاب مخدوم احمد محمود نے تمام پارلیمانی پارٹی کے اراکین کو عشائیے میں بلا کر خیر سگالی کا پیغام دیا ۔ ان حالات میں جب ہم الیکشن کی طرف جارہے ہیں اور اس میں رکاوٹ کے ذریعے سازشیں ڈالی جارہی ہیں ہمیں مل کر چلنا چاہیے لیکن (ن) لیگ کی طرف سے شرکت نہ کرنا سمجھ سے بالاتر ہے ۔ انہوں نے مزید کہا کہ پیپلز پارٹی قومی مصالحت کے ایجنڈے کی بانی جماعت ہے جس نے ملک و قوم کے لئے ذاتی خواہشات کی قربانی دی ۔ آصف علی زرداری ملک کے لئے اپنے مخالفوں کو گلے لگا رہے ہیں ۔ انہوں نے ایک سوال کے جواب میں کہا کہ الیکشن کمیشن ایسا کوئی اقدام نہیں کریگا جس سے سیاسی جماعتوں کو انتخابات میں جانے سے روکا جائے ۔ یہ پاکستان کا الیکشن کمیشن ہے ،یہ غیر جانبدار اور انصاف دینے والا الیکشن کمیشن ہے یہ کسی جماعت کی راہ میں رکاوٹ نہیں بنے گا ۔ جہاں پارٹی میں انتخابات کی ضرورت ہو گی کرا دئیے جائینگے ۔ انہوں نے کہا کہ مسلم لیگ (ق) سے کوئی سرد جنگ نہیں ، (ق) لیگ او رایم کیو ایم نے صرف اصلاحات کی بات کی ہے اور (ق) لیگ لانگ مارچ میں شریک نہیں ہو گی ۔ انہوں نے کہا کہ پہلے تو لانگ مارچ نہیں ہوگا اگر ایسا ہوا تو ہم شرکاء کے لئے چائے کا بندوبست کریں گے انکے لئے آگ کے الاؤ جلائینگے لیکن اتنے لوگوں کو بستر فراہم نہیں کئے جا سکتے ۔ انہوں نے کہا کہ جب نواز شریف وزیر اعظم تھے تو ساری جماعتیں انکے خلاف سڑکوں پر تھیں لیکن انہوں نے ان سے کوئی مذاکرات نہیں جبکہ آصف علی زرداری نے اس شخص سے مذاکرات کے لئے رحمان ملک کو بھیجا ہے جو منتخب نمائندہ بھی نہیں ۔

اپنا تبصرہ بھیجیں