الیکشن سبو تاژ کرنیوالوں کو عوام معاف نہیں کرینگے :منظور وٹو

APP27-07Lahore-300x195
1101718986-1

طاہر القادری کا مارچ نہیں ہو گا،ن لیگ کاگورنر کی دعوت کا بائیکاٹ افسوسناک ہے : پریس کانفرنس ن لیگ کے سابق ا رکان اسمبلی امجد یاسین اوردیگر ساتھیوں سمیت پیپلزپارٹی میں شامل ہوگئے
لاہور(خصوصی رپورٹر،مانیٹرنگ ڈیسک ،نیوز ایجنسیاں) پیپلز پارٹی وسطی پنجاب کے صدر میاں منظور احمد وٹو نے کہا ہے کہ الیکشن سبو تاژ کرنیوالوں کو عوام کسی صورت معاف نہیں کرینگے جبکہ طاہر القادری کا مارچ نہیں ہو گا۔ انتخابات کی راہ میں رکاوٹ ڈالنے والوں کو ناکامی ہو گی، شفاف الیکشن میں کسی بہانے سے التواء ا ور نئی اصلاحات کی قطعی گنجائش نہیں۔جمہوریت کے خلاف کسی سازش کو کامیاب نہیں ہونے دیا جا ئے گا،2 ماہ10 دنوں تک نگران سیٹ اپ قائم ہو جائے گا۔ مسلم لیگ ن نے گورنر پنجاب کی دعوت کا بائیکاٹ کر کے افسوسناک روئیے کا اظہار کیا ہے ۔ان خیالات کا اظہار انہوں نے گزشتہ روز ماڈل ٹاون میں پیپلز پارٹی کے مرکزی سیکرٹریٹ میں فیصل آباد سے ن لیگ کے سابق ایم این اے امجد یاسین کی 20ناظمین و نائب ناظمین، چیئرمین سوتر منڈی فیصل آباد، رحیم یار خان سے سیٹھ محمد امجد، سابق ایم اپی اے ، لیہ سے سید فضل حسین شاہ، سابق صوبائی وزیر سید سجاد حسین بخاری،لودھراں سے ملک اعجاز ارائیں کی پیپلز پارٹی میں شمولیت کے موقع پر پریس کانفرنس کرتے ہوئے کیا، اس موقع پر تنویر اشرف کائرہ، اپوزیشن لیڈر راجہ ریاض، شوکت بسرا، منیر احمد خان اور دیگر بھی موجود تھے ۔منظور احمد وٹو نے مزید کہا کہ طاہر القادری کا ایجنڈا ناقابل فہم ہے ، اس حکومت نے 18ویں،19ویں اور20ویں ترامیم کے ذریعے متعدد اصلاحات متعارف کرا دی ہیں جو پیپلز پارٹی کی حکومت اور اتحادی جماعتوں کاسنہراکارنامہ ہے ، اگلے عام الیکشن میں عوام کے شعور پر شک و شبہ کی کوئی گنجائش نہیں ، وہ جو بھی فیصلہ کرینگے پیپلز پارٹی اسے دل سے قبول کرے گی۔ نئے نظام کے تحت آزاد عدلیہ، فوج اور ایماندار چیف الیکشن کمشنر کی موجودگی میں دھاندلی کی گنجائش نہیں۔ ایک ایسے وقت میں جب سب جماعتیں عام انتخابات کی طرف جا رہی ہیں ن لیگ کا گورنر پنجاب کے مفاہمتی عشائیے میں نہ جانا افسوسناک ہے ۔الیکشن کمشن کی طرف سے جماعتی انتخابات نہ کرانے والی جماعتوں کیخلاف ایکشن لینے کے سوال پر میاں منظور احمد وٹو نے کہا کہ الیکشن کمشن ایسا کوئی قدم نہیں اٹھائے گا جس سے سیاسی جماعتوں کو الیکشن میں حصہ لینے سے روکا جا سکے تاہم پیپلز پارٹی میں جہاں جہاں بھی الیکشن ہونے ہیں کرا دئیے جائینگے ۔ایک اور سوال کے جواب میں پیپلز پارٹی وسطی پنجاب کے صدر نے کہا کہ متحدہ اور ق لیگ حکومت کا حصہ ہیں، ق لیگ اور پیپلزپارٹی میں کوئی سرد جنگ جاری نہیں ہے ۔ جس طرح کا سیاسی شعور بیدار ہو رہا ہے لانگ مارچ نہیں ہو گا تاہم اگر مارچ کی نوبت آ گئی تو شرکاء کی تواضع چائے اور گرم الاو سے کرینگے اور ہمیں مارچ کرنیوالوں پر ترس آئیگا اور چاہئیں گے کہ انہیں بستر بھی فراہم کریں۔

اپنا تبصرہ بھیجیں