دہشت گرد نہ پاکستانی ہیں، نہ مسلمان, فوجی عدالتوں کی کڑوا گھونٹ سمجھ کرحمایت کی: میاں منظور احمد وٹو

watoo

لاہور (سید شعیب الدین سے) سابق وزیراعلیٰ پنجاب اور پیپلز پارٹی پنجاب کے صدر میاں منظور احمد وٹو نے کہا ہے کہ دہشت گرد نہ پاکستانی ہیں، نہ مسلمان، یہ علم، روشنی، تہذیب و تمدن اور اسلام کے دشمن ہیں۔ یہ ملک کو اندھیروں میں دھکیلنا اور پتھر کے دور میں لے جانا چاہتے ہیں۔ یہ ہماری اولادیں ختم کرنا چاہتے ہیں۔ انہوں نے ہمارے بچوں کو شہید کیا ہے، دہشت گردی کے حوالے سے ہمارے موقف میں ابہام نہیں۔ فوجی عدالتوں کی کڑوا گھونٹ سمجھ کرحمایت کی۔ پوری قوم اور پارلیمنٹ مسلح افواج کے پیچھے کھڑی ہے۔ امید کرتے ہیں اب دہشت گردی کے ناسور کا پوری طرح قلع قمع ہوجائے گا۔ وہ نوائے وقت آفس کے دورہ کے موقع پر خصوصی گفتگو کررہے تھے۔ قبل ازیں انہوں نے ایڈیٹر انچیف نوائے وقت گروپ محترمہ رمیزہ نظامی سے ملاقات کی۔ ملاقات میں سیکرٹری اطلاعات پنجاب راجہ عامر، اکرم شہیدی اور عبدالقدیر بھی موجود تھے۔ بعد ازاں خصوصی گفتگو کرتے ہوئے منظور وٹو نے کہا کہ دہشت گردوں نے بینظیر بھٹو، ہماری مسلح افواج کے جوانوں اور افسروں، ہزاروں بے گناہ معصوم شہریوں کو شہید کیا، ہم ان کے خلاف ہیں۔ مسلح افواج کی جدوجہد کی حمایت کرتے ہیں۔ آصف علی زرداری اور بلاول بھٹو زرداری کے درمیان کوئی جھگڑا نہیں۔ اختلاف رائے جمہوریت کا حسن ہے لیکن پارٹی کے اندر کوئی دراڑ نہیں۔ مخدوم امین فہیم پارٹی کے صدر ہیں، ان کا خاندان پارٹی بنانے والوں میں ہے۔ وہ پارٹی چھوڑنے کا تصور بھی نہیں کرسکتے۔ امین فہیم کو سندھ حکومت سے کوئی گلہ شکوہ تھا تو اب وہ دور کردیا ہے۔ پنجاب میں پارٹی تنظیم کے حوالے سے وٹو نے کہا کہ اضلاع اور تحصیلوں کی تنظیم مکمل ہوچکی ہے، اب یونین کونسلوں اور دیہات کی تنظیموں کی تکمیل کیلئے وہ آئندہ ماہ سے پنجاب کے 26 اور لاہور شہر کے 4 شہری اضلاع کا دورہ کریں گے۔ ہر ضلع میں ورکرز کنونشن ہوگا۔ حکومت بلدیاتی انتخابات کرانے سے خوفزدہ ہے، وہ دانستہ بلدیاتی انتخابات سے کترا رہی ہے۔ اس علم ہے کہ عوام ان سے ناراض ہیں اور یہ بلدیاتی الیکشن بری طرح ہار جائیں گے۔ پرویز مشرف کا بلدیاتی نظام تمام بلدیاتی نظاموں سے بہتر تھا۔ حکومت عمران خان کے جوڈیشل کمشن کے مطالبے کو فی الفور پورا کرے، دھاندلی کے الزامات کی شفاف طریقے سے تحقیقات کرائے، حکومت قومی اتحاد کوہرممکن طریقے سے قائم رکھے اور سیاسی جماعتوں کے ساتھ رویہ برابری اور دوستانہ رکھے۔ حکومت تمام ارکان اسمبلی کو حلقوں میں تعمیراتی کاموں کیلئے یکساں فنڈز دے۔ انہوں نے عمران خان کو شادی کی مبارکباد دیتے ہوئے کہا کہ عمران خان کا سلک شیروانی پہننے کا شوق بالآخر پورا ہوگیا۔ یہ شادی معمول کی کارروائی ہے۔ عمران خان طلاق یافتہ اور برسوں سے تنہا تھے، شادی کرکے اچھا کیا۔
Source: Nawai-e-Waqt

کیٹاگری میں : News

اپنا تبصرہ بھیجیں