PPP swallowed the bitter pill of supporting military courts as a last resort: Mian Manzoor Wattoo

watoo
Mian Manzoor Ahmed Wattoo, President Punjab PPP, has said in a statement issued from here today that the setting up of military courts through consensus is a step in the right direction to deal with terrorists, with the full might of the law, who have been killing innocent civilians, children and our brave soldiers. Pakistan is in a state of war and such extra-ordinary measures are required to deal with the extra-ordinary situation, he added.
He reminded that in the US such Special Courts were set up after 9/11 to deal with terrorism and terrorists who posed formidable threat to the security of that country.
Pakistan is undoubtedly in a state of war and the establishment of such courts is quite common in the developed democracies to deal with the war-like situation, he argued.
He stated that the PPP had to swallow the bitter pill of military courts as a last resort engrossed to exterminate the evil of extremism and terrorism adding the existing judicial system was not fully geared up for summarily disposal of the terrorism cases.
He pointed out that the apprehensions of the some of the quarters were misplaced because the military courts had been established under the watchful eyes of the Parliament and therefore were different from the military courts established by the dictators. The functioning of the military courts now will meet the narrative of due process of law because the courts would try only those cases of terrorism as referred by the federal government.
He said that the time limit imposed by the constitutional amendment on the functioning of the military courts should address the fear of those who had been crying hoarse since the Parliament passed the amendment in the constitution.
Mian Manzoor Ahmed Wattoo asked the critics about their solution of dealing such criminals who were neither Muslims, nor Pakistanis or human beings unleashing bloodbath almost daily basis?
He said that the working of the military courts would be subject to constant parliamentary scrutiny, the vigil of media and the civil society, reducing the prospects of miscarriage of justice to almost nil.
He observed that if the military courts fail to deliver the Parliament could always review the amendment keeping in view the demands of justice and the security of the people of the country which were the only guiding principles for public policy.
He advised the detractors to hold on and see the results of the special legal mechanism before unleashing their decrying against the system. The military courts should be allowed to work as per the sense of the Parliament, he advised.

پیپلز پارٹی پنجاب کے صدر میاں منظور احمد وٹو نے آج یہاں سے جاری ایک بیان میں کہا ہے کہ سیاسی مفاہمت کے ذریعے ملٹری کورٹس کے قیام کا فیصلہ درست سمت کی جانب ایک اہم قدم ہے جسکے ذریعے قانون کی طاقت سے ان دہشتگردوں اور دہشتگردی کا ملک سے صفایا کیا جائے گا جنہوں نے ہمارے ہزاروں معصوم شہری بچے اور بہادر فوجی جوانوں کو شہید کیا ہے۔ انہوں نے یاد دلایا کہ امریکہ میں بھی نائن الیون کے بعد دہشتگردی سے نمٹنے کے لیے سپیشل عدالتوں کا قیام عمل میں لایا گیا تھا تا کہ ملکی سلامتی کو دہشتگردی سے جو خطرات لاحق ہیں ان سے موثر طریقے سے نمٹا جا سکے۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان حالت جنگ میں ہے اور ایسی غیر معمولی صورتحال سے نمٹنے کے لیے غیر معمولی اقدامات کرنا لازم ہوتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ پیپلز پارٹی کو ملٹری کورٹس کی کڑوی گولی دہشتگردی سے نمٹنے کے لیے آخری ہتھیار کے طور پر نگلنی پڑی کیونکہ موجودہ عدالتی نظام دہشتگردی کے مقدمات کے فوری فیصلے کرنے کے لیے تیار نہیں تھا۔انہوں نے بعض حلقوں کی طرف سے ان عدالتوں کے بارے میں خدشات کو بے بنیاد قرار دیا کیونکہ انکا قیام پارلیمنٹ کے ذریعے ہوا ہے اس لیے اسکے کام کرنے کی نوعیت ان ملٹری کورٹس سے یکسر مختلف ہو گی جو کہ ڈکٹیٹروں کے زمانے میں قائم کی گئی تھیں۔ انہوں نے مزید کہا کہ یہ عدالتیں صرف ان دہشتگردی کے مقدمات کی سماعت کریں گی جنکو وفاقی حکومت بھیجے گی۔ انہوں نے کہا کہ ان عدالتوں کے قیام کی مدت کا 2سال ہونا ہی بے بنیاد خطرات کو ختم کرنے کے لیے کافی ہے۔ میاں منظور احمد وٹو نے ناقدین سے پوچھا کہ انکے پاس ان دہشتگردوں کو کیفر کردار تک پہنچانے کا کوئی حل ہے تو بتائیں کیونکہ یہ لوگ عام انسان نہیں ہیں بلکہ درندوں سے بھی بدتر ہیں جو روزانہ نہتے شہریوں کے خون سے ہولی کھیلتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ملٹری کورٹس پر پارلیمنٹ، میڈیا اور سول سوسائٹی کے علاوہ دنیا کی انسانی حقوق کی تنظیموں کی نظروں کے نیچے کام کریں گی اس لیے انصاف کے تقاضے پورے نہ ہونے کے امکانات تقریباً ناپید ہو جاتے ہیں۔انہوں نے مزید کہا کہ اگر ملٹری کورٹس ڈلیور نہ کر پائیں تو پارلیمنٹ کسی وقت بھی انکے متعلق فیصلہ کرنے کی مجاز ہو گی کیونکہ اسکے پیش نظر عوام اور ملک کی سلامتی ہوتی ہے۔ انہوں نے ناقدین کو مشورہ دیا کہ وہ ان عدالتوں کو کام کرنے دیں پھر اسکے بعد انکے متعلق اپنی رائے بھی قائم کریں اور اس کا اظہار بھی کریں۔

کیٹاگری میں : News

اپنا تبصرہ بھیجیں