اس وقت جوش سے نہیں ہوش سے کام لینے کی ضرورت ہے: آصف علی زرداری

zardari-announce-public-meetings-across-punjab-after-improvement-of-weather-1420991290-7497

کوچیئرمین اور سابق صدر آصف علی زرداری نے پنجاب کے ڈویثرنل کوآرڈینیٹرز اور ضلعی صدور سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ پیپلز پارٹی ایک بڑی سیاسی جماعت کی حیثیت سے ملک میں جمہوریت کے فروغ اور دوام کے لیے اپنا بھرپور اور فیصلہ کن کردار ادا کرتی رہے گی۔ انہوں نے کہا کہ اس وقت جوش سے نہیں ہوش سے کام لینے کی ضرورت ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ اگر موجودہ حکومت گر جاتی تو ان کو سمجھ ہے کہ اس سے جو خلاء پیدا ہوتا وہ کبھی بھی جمہوریت اور پاکستان کے عوام کے حق میں نہیں ہوتا۔ انہوں نے کہا کہ پچھلی دفعہ یوم تاسیس کے موقع پر بعض عہدیداروں نے دھرنے کی سیاست کی وجہ سے نئے الیکشن کو چند مہینوں میں ہوتے ہوئے دیکھا لیکن مجھے ایسے دکھائی نہیں دے رہا تھا۔ انہوں نے شرکاء سے کہا کہ اب آپ لوگ مجھ سے اتفاق کریں گے کہ اب 2 سال تک الیکشن نظر نہیں آرہے اس لیے اس دوران پارٹی کو مزید فعال بنانے پر توجہ دینا ہو گی۔ انہوں نے کہا کہ پیپلز پارٹی نے کئی دور دیکھے ہیں اور کوئی اس کو ختم نہیں کر سکا کیونکہ یہ سیاسی جماعت کوئی لمیٹڈ کمپنی نہیں ہے اور اسکی جڑیں عوام میں ہیں۔ انہوں نے کہا کہ انتخابی سیٹ بیک جمہوریت میں ہوتی رہتی ہیں۔ انہوں نے کہا کہ سری لنکا میں صدر الیکشن ہار گئے ہیں اسکے باوجود کہ انکی پارٹی کو پارلیمنٹ میں خاصی بڑی اکثریت حاصل ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ انڈین کانگرس پارٹی ہندوستان میں بی جے پی پارٹی کے ہاتھوں شکست کھا گئی جسکے کارکن نے انکے ’’باپو‘‘ کو قتل کیا تھا۔ کوچےئرمین نے کہا کہ پیپلز پارٹی ضرور کم بیک کرے گی جیسا کہ نوے کی دہائی میں اسکو صرف 17 نیشنل اسمبلی کی نشستیں ملی تھیں لیکن اسکے بعد پیپلز پارٹی نے دوبارہ الیکشن جیت کر حکومت بنائی۔ کوچےئرمین نے کہا کہ انکی ساری توجہ پیپلز پارٹی کی تنظیم پر ہے کیونکہ اگر پارٹی کی تنظیم مضبوط ہو گی تو پھر ٹکٹ حاصل کرنے والوں کی کوئی کمی نہیں ہو گی۔ انہوں نے شرکاء کے مطالبے کو تسلیم کرتے ہوئے کہا کہ وہ خیبر پختونخواہ اور فیصل آباد میں جلسہ عام کریں گے۔ انہوں نے کہا کہ سیکیورٹی کے خدشات کے پیش نظر ابھی وہ زیادہ جلسے جلوس نہیں کرنا چاہتے اور نہ ہی پارٹی کے کارکنوں کو ان خطرات میں ڈالنا چاہتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ اسوقت ہماری تمام توجہ دہشتگردی کو ختم کرنے پر ہے کیونکہ یہ لوگ ہمارے ملک اور ہمارے مستقبل کے لیے سنگین خطرہ ہیں اور ان کو ختم کرنا اپنے لیے اور آئندہ نسلوں کے مستقبل کو محفوظ کرنے کے لیے اشد ضروری ہے۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان ہی ہماری منزل ہے اور ہم اسکو دہشتگردی کا خاتمہ کر کے امن اور خوشحالی کا گہوارہ بنانے میں پرعزم ہیں۔ انہوں نے کہا کہ انہوں نے مفاہمت کی پالیسی پر عمل کرتے ہوئے 5سال گزارے اور سب کو اس نظام کا سٹیک ہولڈر بنایا۔ انہوں نے کہا کہ اگر وہ چاہتے تو اسوقت کے پی کے میں حکومت بنا سکتے تھے لیکن انہوں نے مفاہمت کو ترجیح دی۔ انہوں نے کے پی کے کی موجودہ صورتحال پر تبصرہ کرتے ہوئے کہا کہ ’’نیازی‘‘ کی حکومت ناکام ہے۔ اس سے قبل صدر پیپلز پارٹی پنجاب میاں منظور احمد وٹو نے خطاب کرتے ہوئے کو چےئرمین کا شکریہ ادا کیا کہ انہوں نے ڈویثرنل کوآرڈینٹیر اور ضلعی صدور سے ملاقات کے لیے انکی گزارش کو منظور کیا۔ انہوں نے کہا کہ وہ فروری کے مہینے میں پنجاب کے 26 اضلاع اور لاہور کے 4 اضلاع کا تنظیمی دورہ کریں گے جسکے دوران ورکرز کنونشنز بھی ہونگے اور ہر ضلعی سطح پر تنظیمی امور کو بہتر بنانے کے علاوہ کارکنوں اور عہدیداروں سے ملاقاتیں بھی کریں گے۔ انہوں نے مزید کہا کہ اس ڈیڑھ مہینے کے دورے کے بعد وہ پارٹی کی اعلیٰ قیادت کو تفصیلاً رپورٹ پیش کریں گے جسمیں پارٹی کو مزید فعال بنانے کے لیے تجاویز بھی شامل ہوں گی۔ اس سے قبل ضلعی صدور اور ڈویثرنل کوآرڈینیٹرز، رائے شاہ جہان، ملک طاہر، محمد مشتاق، سردار سلیم، زاہد ذوالفقار، زکی چوہدری اور افضل صاحب نے اپنے خطاب میں صدر پیپلز پارٹی پنجاب کے صوبے کے ضلعوں کے آئندہ دورے کو سراہتے ہوئے کہا کہ اس سے پارٹی کارکنوں میں ایک نیا جذبہ پیدا ہو گا۔ انہوں نے خواتین، یوتھ اور اقلیتوں پر خصوصی توجہ دینے پر بھی زور دیا۔ انہوں نے اس عزم کا اظہار کیا کہ وہ کوچےئرمین کی قیادت میں شہید ذوالفقار علی بھٹو کے مشن کو کامیاب کریں گے۔کوچےئرمین کے ہمراہ تنویر اشرف کائرہ، ندیم افضل چن، جہانگیر بدر، رحمان ملک، شیری رحمن، رخصانہ بنگش، فوزیہ حبیب، مہرین راجہ اور ثمینہ خالد گھرکی بھی شریک تھیں۔ اسکے علاوہ حاجی عزیزالرحمن چن، سہیل ملک، رانا گل ناصر، راجہ عامر اور منظور مانیکا بھی شرکاء میں موجود تھے۔

کیٹاگری میں : News

اپنا تبصرہ بھیجیں