Makhdoom Ahmed Mahmood calls on Mian Manzoor Ahmed Wattoo

Meeting Pic
Makhdoom Ahmed Mahmood , newly appointed President PPP South Punjab, called on Mian Manzoor Ahmed Wattoo, President PPP Central Punjab, at his residence and discussed matters pertaining to Party’s organization with a view to make it more vibrant and robust political organization fully geared up to lead the province.

While talking to media after the meeting, Mian Manzoor Ahmed Wattoo congratulated him on his appointment as President PPP South Punjab, and highly appreciated the decision of the Party top leadership as he was very well known personality in the South Punjab for good reasons besides his wide experience and contacts with the cross sections of the society of the country.

He said that his appointment as President South Punjab PPP would be instrumental to resurrect the Party on lines perfectly in harmony with the Party ideology, responsive to the aspirations of the people of the region in particular and of the country in general.

He observed that the new leadership in South Punjab would infuse a new fervor among the workers dedicated to accomplish the mission of the founder of the Party Shaheed Zulfiqar Ali Bhutto.

He added that he belonged to a highly respectable family of South Punjab and his father Makhdoom Hassan Mahmood was the Chief Minister of Punjab and he himself was the Governor of the Province in the recent past.

Makhdoom Ahmed Mahmood thanked Mian Manzoor Ahmed Wattoo for his hospitality adding that he came here to seek his guidance because was an experienced politician of the country.
Responding to a question, he said that it would be his utmost endeavour to ensure the adequate representation of South Punjab in the Punjab Assembly, National Assembly and in the Senate because the region was acutely under-represented.

He added that the country was facing the height of mismanagement because the present leaders were devoid of vision and the leadership that lacked this quality could not deliver. It is like accepting against extreme odds, he observed.

He observed that the bureaucracy was only responsible for the implementation of the vision of the political leadership adding the irony of the fate was that the present government political leadership had no clear road map to get the country out of the vicious cycle of problems.

Responding to another question, he said that the Punjab Assembly, National Assembly and the Senate passed resolutions in favour of the creation of a separate province of South Punjab but he regretted that no progress had been made in this direction that clearly manifested the apathy of the present government.

مخدوم احمد محمود، صدر پیپلز پارٹی جنوبی پنجاب نے آج یہاں میاں منظور احمد وٹو کی رہائش گاہ پر ان سے ملاقات کی ۔ ملاقات کے دوران پارٹی کے تنظیمی امور کے علاوہ اس بات پر بھی غور کیا گیا کہ اسکو مزید فعال بنانے کے لیے کیا اقدامات اٹھائے جائیں۔ملاقات کے بعد میڈیا سے باتیں کرتے ہوئے میاں منظور احمد وٹو، صدر پیپلز پارٹی سنٹرل پنجاب نے کہا کہ انہوں نے مخدوم احمد محمود کو پیپلز پارٹی جنوبی پنجاب کا عہدہ سنبھالنے پر دلی مبارکباد دی ہے اور پارٹی کی اعلیٰ قیادت کے اس فیصلے کو سراہا ہے اور کہا کہ مخدوم صاحب اپنے علاقے میں نیک نامی کی وجہ سے مشہور ہیں اسکے علاوہ ان کا وسیع تجربہ اور معاشرے کے ہر طبقے سے ذاتی تعلقات سے پارٹی کو بڑا فائدہ ہو گا۔ انہوں نے کہا کہ انکی تقرری پارٹی کو اس کی نظریاتی اساس کی بنیاد پر منظم کرنے میں بڑی مددگار ثابت ہو گی اور عوام کی امنگوں کی ترجمان ہو گی۔انہوں نے کہا کہ انکی تقرری سے جنوبی پنجاب میں پارٹی کارکنوں میں شہید ذوالفقار علی بھٹو کے مشن کو پورا کرنے کے لیے ایک زبردست جذبہ پیدا ہوا ہے۔ انہوں نے کہا کہ مخدوم احمد محمود کا تعلق ایک بڑے سیاسی اور عزت دار خاندان سے ہے جنکے والد مخدوم حسن محمود پنجاب کے وزیر اعلیٰ رہے ہیں اور وہ خود اس صوبے کے ماضی قریب میں گورنر رہے ہیں۔مخدوم احمد محمود نے میاں منظور احمد وٹو کی مہمان نوازی کا شکریہ ادا کرتے ہوئے کہا کہ وہ اُن سے رہنمائی حاصل کرنے آئے ہیں کیونکہ وہ ملک کے ایک مدبر اور عملی سیاست پر گہری نظر رکھتے ہیں۔ انہوں نے میڈیا کے ایک سوال کا جواب دیتے ہوئے کہا کہ انکی یہ پوری کوشش ہو گی کہ جنوبی پنجاب کو پنجاب اسمبلی، قومی اسمبلی اور سینیٹ میں بھرپور نمائندگی ملے کیونکہ اسوقت اس ریجن کی نمائندگی ناکافی ہے۔ انہوں نے کہا کہ اسوقت ملکی مسائل کی وجہ موجودہ حکمرانوں کی نا اہلی اور نا سمجھی ہے کیونکہ یہ وژن سے عاری ہیں اور جو سیاسی قیادت وژن سے عاری ہو وہ مسائل کو حل کر ہی نہیں سکتی۔ انہوں نے مزید کہا کہ اس حکومت کے پاس ملکی مسائل کو حل کرنے کا واضح روڈ میپ نہیں ہے اور صرف اڈہاک ازم پر ملک چل رہا ہے۔ ایک اور سوال کا جواب دیتے ہوئے صدر پیپلز پارٹی جنوبی پنجاب نے کہا کہ پنجاب اسمبلی، قومی اسمبلی اور سینیٹ میں جنوبی پنجاب کو نیا صوبہ بنانے کی قراردادیں پاس کی گئی تھیں لیکن افسوس کہ موجودہ حکمرانوں پر جوں تک نہیں رینگی جو کہ انکی لاپرواہی کی انتہاء کی مظہر ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ جنوبی پنجاب میں شدید سیاسی محرومی کا احساس دن بدن بڑھتا جا رہا ہے۔

کیٹاگری میں : News

اپنا تبصرہ بھیجیں