تمام مسائل کا حل صرف جمہوریت میں مضمر ہے اِس کے علاوہ کوئی بھی نظام ملکی بقاء کے لئے خطرہ ثابت ہوسکتاہے: میاں منظور وٹو

manzoor-watto_lpic-2410

اوکاڑہ۔۔۔۔۔ پیپلز پارٹی پنجاب کے صدر ووفاقی وزیر امورکشمیر وشمالی علاقہ جات میاں منظور احمد وٹو نے کہا ہے کہ لانگ مارچ ڈکلےئریشن پر دستخط کرکے حکومت نے سازشی عناصر کو ناکام بنایا ہے ،اسلام آباد دھرنے کا اختتام کسی کی ہار یا جیت نہیں بلکہ اِس سے جمہوریت مضبوط ہوئی ہے اور دنیا بھر میں پاکستان کا تشخص بہتر ہوا ہے ۔پاکستان میں تمام مسائل کا حل صرف اور صرف جمہوریت میں مضمر ہے اِس کے علاوہ کوئی بھی نظام ملکی بقاء کے لئے خطرہ ثابت ہوسکتاہے ۔

اِن خیالات کا اِظہاراُنہوں نے دیپالپور کے نواحی علاقوں منچریاں اور بستی دربار قلندر میں مختلف ترقیاتی کاموں کی افتتاحی تقریب سے خطاب کے دوران کیا۔میاں منظو ر احمد وٹو نے کہا کہ موجودہ حکومت نے کئی اہم مراحل پر ملک کو قومی مفاہمت کی سیاست کے باعث کامیابی سے ہمکنار کیاہے جس کا تمام سہرا صدر مملکت آصف علی زرداری کے سر پر جاتاہے جنہوں نے تمام جماعتوں کی کڑی تنقید کے باوجود بھی نہایت صبروتحمل کے ساتھ مفاہمت کی پالیسی پر عملدرآمدجاری رکھا بلکہ اپنی مدبرانہ سوچ کا مظاہرہ کرتے ہوئے مخالفین کو بھی گلے لگایا۔

وہ صحیح معنوں میں بھٹوثانی ثابت ہوئے ہیں اور جولوگ اُن پر خوامخواہ تنقید کرتے ہیں وہ دراصل اِس ملک اور نظام کی مضبوطی کے دشمن بنے ہوئے ہیں ۔ اسلام آباد میں لانگ مار چ حکومت کے لئے سیاسی طورپرباعث تشویش نہیں بلکہ امن وامان کے حوالے سے لمحہ فکریہ ضرور تھا جس میں ہزاروں انسانوں کی جانوں کو خطرات لاحق تھے ، لہٰذا حکومت نے اپنی ذمہ داری کو احسن طریقہ سے محسوس کرتے ہوئے ایک اعلیٰ مذاکراتی وفد بات چیت کے لئے ڈاکٹر طاہرالقادری کے پاس بھیجا جنہوں نے وسعت القلبی کا مظاہرہ کرتے ہوئے اُن کی بات کو سنااور اُس سے اتفاق کیا جس کے نتیجہ میں یہ مذاکرات کامیاب ہوئے اور ڈیڈلاک ٹوٹا۔

لانگ مارچ کی ہار یا جیت بڑا سوال نہیں بلکہ متفقہ ڈکلےئریشن وہ اَصل دستاویز ہے جس کے آنے سے سازشی عناصر کو منہ کی کھانی پڑی اور اُن کے تمام اندازے غلط ثابت ہوکر رہ گئے ۔ اِس ڈکلےئریشن سے جہاں جمہوریت کی جیت اور موجودہ نظام کی مضبوطی ہوئی ہے وہیں پر بیرونی دنیا میں پاکستانی عوام کا تشخص بھی بہترہوا ہے اور لوگوں نے پُراَمن رہ کرثابت کردیا ہے کہ پاکستانی قوم بڑی باشعور ہوچکی ہے وہ اپنے اچھے اور برے میں تمیز کرنا چاہتی ہے ۔ پاکستانی ایک پُراَمن قوم ہیں اور وہ دھشت گردی جیسی مذموم کاروائیوں کو ہرگز پسند نہیں کرتے ۔ یہ ایک مثبت سائن ہے جس کا نظارہ پوری دنیا نے اپنی کھلی آنکھوں سے دیکھا ہے ، موجودہ حکومت کے دَور میں جمہوریت جتنی مضبوط ہوئی ہے اُس کی مثال ماضی میں نہیں ملتی ۔

اِنشاء اللہ آنے والا اِنتخاب بالکل پاک شفاف ہوگا جس کی شفافیت پر بعد میں بھی کوئی اُنگلی نہیں اُٹھا سکے گا۔پیپلز پارٹی اپنی کارکردگی کی بنیاد پر آئیندہ ہونے والے اِنتخابات میں بھرپور کامیابی حاصل کریگی ۔ کارکن پوری دلجمعی کے ساتھ کام کریں اور عوام کے ساتھ اپنے روابط کو مزید بہتر بنائیں تاکہ عوام کی زیادہ سے زیادہ عملی خدمت کو یقینی بنایا جاسکے

اپنا تبصرہ بھیجیں