PPP Workers Convention on Feburary 7 in Shaikhupura

Picture
A meeting of the divisional coordinator, district presidents and Party office bearers was held here today under the chair of Mian Manzoor Ahmed Wattoo, President PPP Central Punjab, in which arrangements regarding the holding of Workers Conventions in all 31 districts were finalized besides addressiing the organizational matters of the Party.

It was also decided that the first Convention would be held in Shaikhupura on February 7 for which Asef Khan, President PPP, Shaikhupura, had been asked to make befitting arrangements to give the campaign a jump start.

The divisional cordinators who attended the meeting of today included Chaudhry Manzoor Ahmed, Lahore, Raja Riaz Ahmed , Faislabad,Tansnee Qureshi, Sargodha, Ejaz Summan, Gujranwala and district presidents included, Ashraf Sohna, Okara, Chaudhry Zaki , Shiwal, Hamyun Sarwar Bodla, Pakpattan,Jamail Kalas, Kasur, Roy Shah Jehan Bhatti, Nankana Sahib,Asef Khan , Shaikhupura, Dewan Shamin, Mandi Bahuddin, Asef Nagra, Lahore, Zahid Zulfiqar, Lahore including presidents of diostricts Narowal. Sialkot, Khushab, Jehlum.

While addressing the meeting, Mian Manzoor Ahmed Wattoo bitterly criticized the present government for creating back to back crisis of the scale the people of Pakistan never experienced in the past. The ineptness and mismanagement of this government can not be defined in words due to its abject magnititude, he added.

He observed that the non-availability of gas and electricity had ruined the agriculture and textile sectors in particular because textile had failed to capitalize on the GSP plus facility and the farmers were unable to run their tube wells and the prospects of good crop were dismal.

He said textile and agriculture sectors were the major earners of foreign exchange for the country but the pathetic load shedding of gas and electricity would deprive the country from the mega source of foreign exchange earnings.

میاں منظور احمد وٹو صدر پیپلز پارٹی سنٹرل پنجاب کی زیر صدارت آج یہاں ڈویثرنل کوآرڈینیٹرز اور ضلعی صدور کا اجلاس ہوا جسمیں فیصلہ کیا گیا کہ میاں منظور احمد وٹو سنٹرل پنجاب کے 31 اضلاع کا دورہ 7 فروری سے شروع کرینگے اور اس ضمن میں سب سے پہلے وہ شیخوپورہ جائیں گے جہاں پر ورکر کنونشن بھی ہو گا۔ اجلاس میں بتایا گیا کہ پارٹی کی تنظیم ضلع اور تحصیل کی سطح پر مکمل ہے اور اب یونین کونسل اور وارڈ کی سطح پر تنظیمی امور سنٹرل پنجاب میں ترجیحی بنیادوں پر مکمل کئے جائیں گے۔اجلاس میں سینےئر نائب صدر پنجاب سہیل ملک کے علاوہ جن ڈویثرنل کوآرڈینیٹرز نے شرکت کی ان میں چوہدری منظور احمدلاہور، راجہ ریاض فیصل آباد، تسنیم قریشی سرگودھا، اعجاز سماء گوجرانوالہ اور ضلعی صدور میں اشرف سوہنا اوکاڑہ، چوہدری زکی ساہیوال، میاں ہمایوں بودلا پاکپتن، جمیل کلس قصور، رائے شاہ جہاں بھٹی ننکانہ صاحب، آصف خان شیخوپورہ ،دیوان شمیم منڈی بہاؤالدین، زاہد ذوالفقار لاہور، آصف ناگرہ لاہور اور اسکے علاوہ سیالکوٹ، نارووال، جہلم اور خوشاب کے ضلعی صدور نے بھی شرکت کی۔اجلاس میں چوہدری توکل اللہ ورک، میاں عنصر عباس بھٹی اور چوہدری محمد زکی کے والد کی مغفرت کی دعا کی گئی۔ اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے میاں منظور احمد وٹو نے موجودہ حکومت کی نااہلی اور بد انتظامی کو ہدف تنقید بناتے ہوئے کہا کہ انکی وجہ سے عوام آجکل بجلی، گیس اور پٹرول کے ایسے بحرانوں سے دوچار رہے جنکا انہوں نے اس سے پہلے نہ دیکھا نہ سنا۔ انہوں نے کہا کہ بجلی کے بحران کا جواز پیش کرنے کے لیے حکومت بونڈے جواز پیش کر رہی ہے حالانکہ اپوزیشن لیڈر سید خورشید شاہ نے 2 ہفتے پہلے ہی واضح کر دیا تھا کہ فرنس آئل کے ذخائر ختم ہونے سے ملک اندھیروں میں ڈوب جائیگا اور پھر ایسا ہی ہوا۔ انہوں نے کہا کہ کتنے افسوس کا مقام ہے کہ بجلی کے بحران کی وارننگ کا کوئی اثر نہیں ہوا اور حکومت کی بے حسی قابل مذمت ہے کہ اس نے کوئی قدم نہ اٹھایا۔ انہوں نے کہا کہ پنجاب کے وزیر اعلیٰ کہاں ہیں جو بجلی کے بحران پر سالوں میں نہیں مہینوں میں قابو پانے کے بلند بانگ دعوے کرتے تھے لیکن اب اسی موضوع پر بات کرنے سے گھبراتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ گھبرانے سے ناکامیاں چھپائی نہیں جا سکتیں۔ انہوں نے مزید کہا کہ پاکستان کا زرعی اور ٹیکسٹائل کا شعبہ بھی بجلی اور گیس کی لوڈشیڈنگ سے بری طرح متاثر ہوا ہے۔ انہوں نے کہا کہ یہ دونوں شعبے پاکستان کے لیے کثیر زرمبادلہ کمانے کا باعث بنتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ گیس نہ ملنے کی وجہ سے ٹیکسٹائل سیکٹر جی ایس پی پلس کی سہولت کا کوئی فائدہ نہیں اٹھا رہا اور ملک میں گیس نہ ملنے کی وجہ سے یوریا کھاد کی پیداوار بری طرح متاثر ہوئی ہے اور کسانوں کو مہنگے داموں درآمدی کھاد خرید کراپنی ضروریات پوری کرنا پڑ رہی ہیں۔انہوں نے کہا کہ یہ تاثر صحیح ہے کہ حکومت کسان دشمن پالیسی پر شعوری طور پر عمل پیراہے۔

کیٹاگری میں : News

اپنا تبصرہ بھیجیں