پاکستان پیپلز پارٹی جنوبی پنجاب ۔ کاوشیں اور نتائج – ریاض حسین بخاری

download

میں اکیلا ہی چلا تھا جانب منزل
لوگ ملتے گئے اور کارواں بنتا گیا
یہ شعر مجھے اس لیے یا دآیا کہ آج سے کچھ عرصہ پہلے ڈاکٹر جاوید صدیقی صاحب قائمقام جنرل سیکرٹری پی پی پی جنوبی پنجاب اور میں اکیلے پارٹی مسائل پر بحث کر رہے تھے اور ڈاکٹر صاحب ضمنی الیکشن NA-149سے فارغ ہو کر جنوبی پنجاب میں پارٹی کو از سر نو منظم کرنے کا بیٹرا اٹھا رہے تھے۔ ان کی کمال شفقت کہ انہوں نے میرے کہنے پر مجھ سے خصوصی ملاقات کی اور ہم نے ہر مسئلے پر سیر حاصل گفتگو کی ۔ ڈاکٹر صاحب نے بڑے تحمل سے میری عرضداشتیں سنیں اور ایک لائحہ عمل کا تعین کیا اور اس پر رواں دواں ہو گئے ۔
اس وقت سے لے کر آج تک ڈاکٹر صاحب نے جناب خواجہ رضوان عالم صاحب کے ہمراہ پارٹی کے لیے دن رات ایک کیا ہو اہے۔ وہ پھونک پھونک کر قدم اٹھا رہے ہیں ۔ کیوں کہ وہ جانتے ہیں کہ سیاست کی پرخار وادی میں جو سفر انہوں نے شروع کیا ہے اس میں ان کی مد د کرنے والے تو شاید گنے جا سکتے ہیں لیکن ان کی راں میں کانٹے بچھانے اور روڑے اٹکانے والے بے شمار ہوں گے۔ لیکن ڈاکٹر صاحب نے خود کو دھن کا پکا ثابت کیا ہے اور ہر قسم کے نا مساعد حالات کے باوجود پارٹی کے تنظیم نو میں اپنی تمام تر قوتیں صرف کی ہوئیں ہیں اور خواجہ صاحب ہر لمحے ان کے ساتھ شریک عمل ہیں ۔ ڈاکٹر صاحب نے سب سے پہلے جنوبی پنجاب سیکرٹریٹ قائم کر کے پارٹی ورکر کو ایک مناسب پلیٹ فارم مہیا کیا جہاں پر پارٹی ورکر جب چاہیں آ سکتے ہیں۔ اور وہاں آ کر اپنے جذبات کا اظہار بھی کر سکتے ہیں ۔ وہاں کارکنان کی آپس میں ملاقاتیں بھی ہوتی رہتی ہیں ۔ جنوبی پنجاب کی قیادت نے نہ صرف ملتان میں پارٹی ورکر ز کو اکٹھا کرنا شروع کیا ہوا ہے بلکہ انہوں نے وقتا ً فوقتاً مختلف اضلاع کے دورے بھی کیے ہیں اور کافی حد تک پارٹی کو جنوبی پنجاب میں ایک درست سمت دینے میں کامیاب ہو چکے ہیں۔
پیپلز پارٹی سیکرٹریٹ میں مختلف تقریبات اور میٹنگز بڑے تواتر سے ہوتی رہتی ہیں۔ کارکنان کو ملنے اور ان کے گلے شکوے دور کرنے کا سلسلہ بھی جاری ہے۔ ڈاکٹر صاحب حق المقدوم کوششیں کر رہے ہیں کہ پارٹی کو (خصوصاً جنوبی پنجاب میں ) مستقل اور پختہ بنیاد فراہم کی جائے۔ پی پی پی کے کارکنان کا خاصہ ہے کہ وہ ناراض ہو کر گھر تو بیٹھ جاتے ہیں لیکن پارٹی کو دھوکہ نہیں دے سکتے ۔ اس حقیقت کا قریبی مشاہدہ مجھے اس دوران بڑی شدو مد کے ساتھ کرنے کا موقع ملا ۔ میں نے دیکھا کہ قیاد ت کی محنتیں اور کاوشیں رنگ لا رہی ہیں۔ پارٹی ورکرز اپنے حصار کو توڑ کر اکٹھے ہونا شروع ہو چکے ہیں اور وہ ڈپریشن کو ذہنی طور پر شکت دے کر دوبارہ اپنی پارٹی کی محبت میں اپنا دھن من تن لگانے پر تُل چکے ہیں۔ ان کی محبت کا ایک شاندار مظاہر ہ محترمہ بے نظیر بھٹو شہید کی برسی پر پارٹی ورکرز کنونشن میں ہو ا جس میں جیالوں کا روائتی جوش و جذبہ نظر آیا۔ نئے کارکنوں کے ساتھ پرانے جیالے جو مایوس ہو کر گھر بیٹھ چکے تھے ،دوبارہ اپنی پوری آب و تاب سے تقریب کو ایک پر وقار رنگ دے رہے تھے اور اس کے ساتھ ایک خاص بات یہ تھی کہ خواتین کی خاصی معقول تعداد بھی بی بی شہید کو خراج عقیدت پیش کرنے کے لیے موجود تھی اور اس تقریب میں پارٹی کا روائتی جیالا پن خاصی حد تک نظر آنے کی وجہ سے یہ تقریب بے حد کامیاب ثابت ہوئی ۔ اس پر وقار تقریب میں سید یوسف رضا گیلانی صاحب ، سید احمد مجتبیٰ گیلانی صاحب ، مخدوم شہاب الدین صاحب ، ڈاکٹر جاوید صدیقی صاحب ، خواجہ رضوان عالم صاحب ، با بو نفیس انصاری صاحب اور دوسری تمام اہم شخصیا ت شریک تھیں۔ تقریب کے شرکاء کی تعداد اندازے سے تین گنا زائد تھی اور جائے تقریب (ملتان آرٹس کونسل) میں تل دھرنے کو جگہ نہ تھی۔اور جتنی عوام حال کے اندر تھی اس سے زیادہ باہر بھی موجود تھی ۔ شرکاء کی تکلیف کو محسوس کرتے ہوئے تقریب کو مختصر کردیا گیا اور تقریباً تمام دوسرے مقررین کی اجازت سے صرف مخدوم شہاب الدین صاحب اور ان کے بعد آخر میں سید یوسف رضا گیلانی صاحب نے مختصر مگر جامع خطاب کیا ۔ یہ شہید بی بی کو جنوبی پنجاب کی طرف سے بھر پور خراج تحسین تھا ۔ اس بے حد کامیاب تقریب میں ایک کمی بھی محسوس کی گئی کہ خواتین کے لیے مخصوص نشستوں پر بھی مرد کارکنان براجمان تھے ۔ حالانکہ سٹیج پر سے بار بار اعلان کیا جاتا رہا کہ خواتین کے لیے نشستیں خالی کر دی جائیں مگر ایسا نہ ہو سکا ۔ پھر ڈاکٹر صاحب نے خواتین کے لیے سیکورٹی کے لیے بذات خود ذمہ داری لی جس وجہ سے تقریب میں کوئی بد نظمی پیدا نہ ہوئی ۔ اس تقریب کی کامیابی پر جنوبی پنجاب کی پوری تنظیم اورخصوصاً پی پی پی ملتان مبارکباد کی مستحق ہے۔
اس تقریب کے بعد دوسرا اہم اجتماع شہید ذوالفقار علی بھٹو کی 87ویں سالگرہ کی تقریب تھی جس کو بی بی کے یوم شہاد ت کے ہم پلہ تو نہیں مگر بے حد کامیاب قرار دیا جاسکتا ہے۔ 5جنوری جو شہید بھٹو کی سالگرہ کا دن ہے اس کو ملتان کے ایک پرانے جیالے نے مختلف انداز سے منایا ہے انہوں نے (نام کا ذکر دانستہ نہیں کر رہا )انہوں نے اپنی بیٹی کی شادی کا اہتمام بھی 5جنوری کو کیا ۔ سالگرہ کی مرکزی تقریب کے بعد تمام صوبائی اور مقامی قیادت نے ان کی بیٹی کی شادی میں بھر پور شرکت کر کے اپنی محبت کا ثبوت دیا۔ لیکن شادی کی تقریب میں گیلانی خاندان کی طرف سے کوئی نمائندگی نہ کی۔ اگر یہ نظر اندازی دانستہ کی گئی تو اس پر اعتراض اٹھنا چاہیے ۔ میں گیلانی صاحب سے دست بستہ عرض کرتا ہوں کہ ملتان میں ایسے جیالے بہت کم ہیں جو صرف خون دینے والے مجنوں ہیں ۔ آپ کی طرف سے ایک شفقت بھر ا ہاتھ اور محبت کے چند الفاظ سن کر جیالے جی اٹھتے ہیں ۔ انہیں اپنا ہونے کا احساس دلائیے ۔
پارٹی کارکنوں کو متحرک کرنے کے ساتھ ساتھ پارٹی کو سوشل میڈیا پر بھی متحرک کیا جار ہا ہے جس میں پارٹی قیادت پور ی طرح شامل ہے۔ اور عنقریب پی پی پی جنوبی پنجاب سوشل میڈیا سیل بھی قائم کر دیا جائے گا۔ سوشل میڈ یا پر بھی پارٹی تیزی سے اپنی جگہ بنا رہی ہے ۔ جس میں فیس بک اکائونٹس ، پارٹی کے مختلف پیجز اور ٹیوٹر اکائونٹس کے ساتھ ساتھ پرنٹ میڈ یا میں کالم نگاری تک شامل ہے۔ پارٹی کاز کو اجاگر کرنے اور کارکنان کو ایک دوسرے سے منسلک کرنے میں سوشل میڈیا بہت اہم کردار ادا کر رہا ہے۔ فیس بک پر ڈاکٹر صاحب ، خواجہ رضوان عالم صاحب ، شوکت بسرا صاحب اور حیدر زمان قریشی صاحب فرد اً فرداً کار کنا ن سے رابطے میں رہتے ہیں۔
پارٹی کی ان منظم کوششوں کے ساتھ ساتھ میری ناقص رائے میں پارٹی سے کچھ غلطیاں بھی ہو جاتی ہیں۔ جن کا پارٹی قیادت کو ادراک بھی ہے۔ اور مناسب طریقے سے بروقت ان غلطیوں کی تلافی کرنے کی کوشش بھی کی جاتی ہے۔ میرا پارٹی قیادت کو مشورہ ہے کہ اس رفتار کو برقرار رکھنے بلکہ اس کو مزید بڑھانے کے لیے ہر کارکن کی اپنی جگہ بھر پور اہمیت ہے۔ اور خدا را ان کو اپنا پیار اور محبت سے جڑا رکھیں گے تو وہ اپنی بچی کھچی توانائیاں مجتمع کر کے پارٹی پر نچھاور کرنے سے گریز نہیں کریںگے۔ میں ڈاکٹر صاحب اور خواجہ رضوان عالم صاحب کے ساتھ پی پی پی کی پوری تنظیم( جن میں ایم سلیم راجہ ، خالد حنیف لودھی صاحب ، رائو ساجد جیسے کارکنان شامل ہیں)کو مبارکباد دیتا ہوں اور رب کریم سے دعا گو ہوں کہ ان کی یہ کوشش بھی بار آور ثابت ہو ۔اور پارٹی جو ہر قسم کے حالات کے باوجود اپنا وجود قائم رکھے ہوئے ہے دوبارہ بام عروج حاصل کرے ۔
آخرمیں مختصراً یہ عرض کروں گا کہ ڈاکٹر جاوید صدیقی صاحب اور خواجہ رضوان عالم صاحب محترم جناب سید یوسف رضا گیلانی صاحب کی زیر سرپرستی جو کاوشیں کر رہے ہیں انکے نتائج آنا شروع ہوگئے ہیں۔ پارٹی کا جیالا یکجا ہو تا جا رہا ہے۔ خواتین و نوجوان (جو سوشل اور الیکٹرانک میڈیا کی مہربانی سے تبدیلی خان کی طرف راغب ہو چکے تھے )۔ خان صاحب کی غیر مستقل مزاجی اور غیرسنجیدہ سیاست سے بد ظن ہو کر پی پی پی کی جانب رخ کر رہے ہیں۔اور نیا خون بھی پوری توانائیوں سے پارٹی کو سینچنے کے لیے اکھٹا ہو رہا ہے۔ لیکن یہ ابھی ابتداء ہے اور ابتداء بتا رہی ہے کہ اس کا نقطہ عروج زیادہ دور نہیں ہے اور یہ نعرہ سچ ثابت ہونے جا رہا ہے۔
’’تم کتنے بھٹو مارو گئے ہر گھر سے بھٹو نکلے گا‘‘
(اس دوران جناب مخدوم احمد محمود صاحب جناب مخدوم شہاب الدین کی جگہ پی پی پی جنوبی پنجاب کے صدر منتخب کیے جا چکے ہیں ۔ میں مخدوم صاحب کو دلی طور پر مبارکباد دیتا ہوں اور دعا گو ہوں کہ انہوں نے جو ذمہ داری اپنے سر لی ہے اس کو مکمل طور پر سر انجام دے کر پایہ تکمیل تک پہنچائیں اور وہ اس کی مکمل صلاحیت بھی رکھتے ہیں ۔ ہمیں یقین ہے کہ ان کی زیر قیادت پی پی جنوبی پنجاب بہت جلد اپنی منزل پالے گی۔
ریاض حسین بخاری
ڈپٹی سیکرٹری اطلاعات پی پی پی ملتان شہر

کیٹاگری میں : News

اپنا تبصرہ بھیجیں