Mian Manzoor Ahmed Wattoo welcomes the acceptance of mediation offer

Mian Manzoor Ahmed Wattoo, President PPP Central Punjab, has welcomed the reported acceptance of the mediation offer of Opposition Leader Syed Khurshid Shah by both the parties, PML (N) and the PTI, adding hopes have been rekindled to the peaceful resolution of the political stalemate that has been continuing unabatedly for the last many months.

He said that the political uncertainty due to the stand -off had paralyzed the government and the people were scared of the resultant uncertainty that was proving as their ultimate nightmare with no end in sight.

He said that the continuity of the political deadlock had been casting aspersions on the democratic credentials of the agitating parties both at home and abroad. They have become laughing stock due to their failure to sort out contentious issue of immense national importance, he added.

He pointed out that the acceptance of the offer clearly manifested both parties’ sincere eagerness for seeking the early political settlement hoping the political sagacity of the Opposition leader would definitely lead to propitious outcome the nation was anxiously hoping for since the unfolding of politics of agitation.

He recalled that the Opposition leader had been earnestly urging both the parties to iron out the difference with the spirit of accommodation as the country could not afford destabilization at a time when terrorism and extremis was posing existential threat to the country.

He said that the Chairman Bilawal Bhutto and the Co- Chairman Asif Ali Zardari had been consistently advocating that the Party politics should be put in the periphery for the time being and defeating the evil should be shared goal of all political leadership of all shades.

He said that the PPP did not join the politics of agitation because it did not want to put the democratic system in danger for which its leaders and workers had given numerous sacrifices.

He said that the PPP accepted the results of elections for the sake of the worthwhile cause of the continuity of the democratic system in the country and therefore could not afford to put it in jeopardy no matter what, he concluded.

پیپلز پارٹی سنٹرل پنجاب کے صدر میاں منظور احمد وٹو نے آج یہاں سے جاری ایک بیان میں پاکستان تحریک انصاف اور پاکستان مسلم لیگ (ن) کی طرف سے اپوزیشن لیڈر سید خورشید شاہ کی ثالثی کی دعوت قبول کرنے کا خیر مقدم کرتے ہوئے امید ظاہر کی ہے کہ اس سے ملک کے موجودہ سیاسی بحران کے حل کی پرامن امیدیں لوٹ آئی ہیں جس بحران نے قومی زندگی کو کئی مہینوں سے یرغمال بنا رکھا ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ اس ڈیڈ لاک کی وجہ سے حکومت مفلوج ہو کر رہ گئی ہے اور عوام اس غیر یقینی کے عذاب میں مسلسل مبتلا ہیں کیونکہ اسکے حل کی امیدیں انکو نظر نہیں آرہی ہیں۔ انہوں نے کہا کہ اس بحران کی وجہ سے حکومت اور احتجاج کرنیوالی جماعتوں کا بھی اندرون ملک اور بیرون ملک کوئی اچھا تاثر نہیں جا رہا ہے، یہ کہنا بے جا نہ ہو گا کہ انکی وجہ سے دنیا میں پاکستان کی بڑی جگ ہنسائی ہو رہی ہے۔ انہوں نے خوشی کا اظہار کیا کہ ثالثی کی دعوت قبول کرنے سے صاف ظاہر ہو رہا ہے کہ دونو ں جماعتیں اس مسئلے کو حل کرنے میں اب زیادہ سنجیدہ نظر آتی ہیں۔ انہوں نے کہا کہ اس ماحول میں اپوزیشن لیڈر کی شمولیت بطور ثالث کے ضرور مثبت نتائج کا باعث بنے گی ۔ انہوں نے کہا کہ سید خورشید شاہ نے ہمیشہ مخالف پارٹیوں کو اپنے اختلافات از خود حل کرنے کی ضرورت پر زور دیتے ہوئے باور کرایا تھا کہ ملک اس وقت عدم استحکام کا متحمل نہیں ہو سکتا جب دہشتگردی اور انتہاء پسندی نے ملک کے وجود کو خطرے میں ڈال رکھا ہے۔ انہوں نے کہا کہ چیئرمین بلاول بھٹو اور کوچیئرمین آصف علی زرداری شروع ہی سے تمام سیاسی پارٹیوں پر زور دے رہے ہیں کہ سب سے پہلے دہشتگردی اور انتہاء پسندی کی لعنت کو شکست دی جائے، اسکے بعد سیاست کرنے کے لیے انکے پاس بڑا وقت ہو گا۔ انہوں نے کہا کہ پیپلز پارٹی نے محاذآرائی کی سیاست میں شعوری طور پر حصہ نہیں لیا اور 2013 کے انتخابات کو تسلیم کیا تھا جو بلاشبہ جمہوریت کی خاطر پارٹی قیادت کا ایک بڑا فیصلہ تھا۔انہوں نے کہا کہ پیپلز پارٹی محاذ آرائی کی سیاست میں شامل ہو کر اس بڑے فیصلے کے دوررس سیاسی فوائد سے قوم کو محروم نہیں کرنا چاہتی تھی۔

کیٹاگری میں : News

اپنا تبصرہ بھیجیں