پہلے بھی مسلم لیگ (ن) کو شکست دی تھی اب بھی دوں گا: میاں منظوروٹو

379181_366451603461667_848739360_n

پیپلز پارٹی پنجاب کے صدر نے کہا ہے کہ اتحادی حکومت کو کامےابی سے چلانا اور پانچ سال پورے کرنا تلوارکی دھار پر چلنے اورجوئے شیر لانے کے مترادف ہے لیکن ےہ مشکل اور تاریخی کام صدر زرداری نے کر کے دکھایا ہے۔ آصف زرداری کے پاس صرف 124ایم این اے تھے اورحکومت بنانے کیلئے 178ارکان چاہئے تھے، جس کے لئے انہوں نے ایم کیو ایم ،اے این پی، مسلم لیگ (ق)، فاٹا اور آزاد ارکان کو ساتھ ملا کر حکومت بنائی، انھیں ساتھ لیکر چلے انکے ناز نخرے بھی اٹھائے‘ میں نے پہلے بھی مسلم لیگ (ن) کو شکست دی تھی اب بھی دوں گا۔ پنجاب میں گڈ گورننس کا ےہ حال ہے کہ جتنے بندے کھانسی کے شربت‘ دل کے ہسپتال اور ڈینگی سے مرے اتنے بندے تو ڈرون حملوں میں بھی نہیں مرے ہیں۔ وہ پیپلز پارٹی کی سینٹرل ایگزیکٹو کمیٹی کے رکن حاجی عزیز الرحمن چن کی رہائش گاہ پر جمہوری حکومت کے پانچ سال مکمل ہونے کی خوشی میں استقبالیہ تقریب سے خطاب کررہے تھے۔ تقریب سے راجہ ریاض احمد، تنویر اشرف کائرہ، حاجی عزیز الرحمن چن نے بھی خطاب کیا۔ زکریا بٹ نے نظامت کے فرائض ادا کئے ۔ اس موقع پر نوید چوہدری، راﺅ جمیل ہاشم، فائزہ ملک، بشری ملک، اجمل ہاشمی، زاہد زوالفقار خان، زاہد علی شاہ، افنان بٹ، حاجی امداد، ناظم حسین شاہ اور ظفر مسعود بھٹی سمیت دیگر بھی موجود تھے۔ منظور وٹو نے کہا کہ طاہر القادری حکومت کو گرانے ہٹانے اور اپنا ایک ایجنڈا لیکر اسلام آباد گئے تھے لیکن حکومت نے اپنی حکمت عملی سے لاٹھی، گولی، آنسوگیس اور فائرنگ کئے بغیر انھیں منا کر واپس آنے پر مجبور کردیا۔ ےہی مفاہمت کی سیاست کی بڑی کامےابی ہے۔ انہوں نے کہا کہ آج کی لیڈر شپ میں بالغ نظری، میچورٹی، سوجھ بوجھ آگئی ہے۔ مسلم لیگ (ن) والے بے نظیر انکم سپورٹ پروگرام کے تحت 70لاکھ خاندانوں کو ملنے والی امداد کو حکومت میں آکر ختم کرنا چاہتے ہیں حالانکہ ایک طرف ستر لاکھ خاندان ہیں تو دوسری طرف انکی 70ارب کی لاہور کی ایک سڑک ہے۔ عوام ان کو اس بات کی اجازت نہیں دیں گے بلکہ ان کو ہی ختم کردیں گے۔ راجہ ریاض احمد نے چیف الیکشن کمیشن سے مطالبہ کیا کہ وہ مسلم لیگ (ن) کے صدر میاں نواز شریف کو لاہور بس سروس کے سرکاری منصوبے کے افتتاح سے روکیں کیونکہ وہ پارٹی کے سربراہ ہیں وزیراعلی ےا کوئی سرکاری عہدیدار نہیں ہیں جبکہ نیب سے مطالبہ ہے کہ وہ اس بس سروس منصوبے کی انکوائری کرے کیونکہ انکا کہنا ہے کہ ےہ 30 ارب کا منصوبہ ہے جبکہ میں چیلنج کرتا ہوں کہ اس میں نوے ارب لگے ہیں اور تیس ارب روپے کے جنگلے کا گھپلا کیا گیا ہے جبکہ پیپلز یوتھ آرگنائزیشن، پیپلز سٹوڈنٹس فیڈریشن اور پیپلز پارٹی کے الگ الگ اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے منظور وٹو نے کہا نوجوان پیپلز پارٹی کا قیمتی اثاثہ اور ہمارے دست و بازو ہیں، میاں منظور وٹو نے کہا دونوں ذیلی تنظیموں کو متحرک و فعال بنانے کیلئے ان کا دائرہ کارب ڑھایا جا رہا ہے اور انہیں یونین کونسل کی سطح تک منظم کیا جا رہا ہے۔ انہوں نے پیپلز پارٹی یوتھ کے مسائل حل کرنے، ان کی اخلاقی مدد جاری رکھنے اور ان کے لئے انقلابی پروگرام وضع کرنے کا اعلان کیا، منظور وٹو نے خصوصی افراد کو وہیل چیئرز، مستحق خواتین کو سلائی مشینیں اور تربیت فراہم کرنے کا اعلان بھی کیا۔

اپنا تبصرہ بھیجیں