پنجاب حکومت کی عدم تو جہ اوربد انتظا می نے ایم اے او کالج کو تبا ہ کر کے رکھ دیا

Teachers-Protest-480x238

1933ء میں قا ئم ہو نے والا کا لج تیسرے درجے کے کا لجوں کی لسٹ میں شمار کیا جاتا ہے ، طا لبات عدم تحفظ کاشکار ہیں کئی شعبوں میں کلاسیں نہ ہونے کے باعث ان کو بند کر دینا ہی بہتر ہے :لیکچرار،پرنسپل نے ٹورز پر بھی پابندی عائد کردی
لاہور میں واقع تاریخی ایم اے او کا لج لاہوراس وقت پنجاب حکومت کی عدم تو جہ اوربد انتظا می کی و جہ سے انتہائی نچلی سطح پر پہنچ چکا ہے ، کالج میں زیر تعلیم طلباو طا لبات نے وزیراعلیٰ پنجاب سے کالج کی حالت سنوارنے کے لئے ممکنہ اقداما ت کرنیکا مطا لبہ کیا ہے ،1933میں قا ئم ہو نے والا یہ کا لج آ ج کل تیسرے درجے کے کا لجوں کی لسٹ میں شا مل ہے جس میں پرنسپل اور حکام با لا کی وجہ سے سیکورٹی اور خاص طور پر طا لبات کے لئے عدم تحفظ کا احساس پیدا ہو رہا ہے ،دوسری طرف طلبا و طا لبات کا کہناہے کہ کا لج کی خراب حالت کی ذمہ داری کا لج پرنسپل کی ہے ،تفصیلات کے مطابق کالج انتظامیہ کی کو تاہیوں کی وجہ سے حالات اس قدر خراب ہو چکے ہیں کہ کو ئی بھی پڑھا لکھاشخص اس کا لج میں اپنے بچو ں کو داخل کر انے سے پہلے کئی مر تبہ سو چتا ہے ، کا لج میں مخصوص گروپ کے غیر قا نو نی طلبا ئاپنی سر گرمیوں میں مصروف ہیں جبکہ طلبا و طا لبات کلاسیں پڑھنے کی بجا ئے اساتذہ کرام کی راہ تکتے نظر آ تے ہیں ، وا ضح رہے کہ گزشتہ روز بھی ایک طا لبہ نے تنگ کر نے والے طلبا تنظیم کے ایک کارکن کو تھپڑ ما ر دیا تھا جس کے بعد طا لبات نے انتظا میہ کے خلاف احتجاج کر تے ہو ئے مطالبہ کیا کہ ان کو سکیورٹی فراہم کی جا ئے ، طلبا ئکے مطابق آ ج سے 5سا ل پہلے یہ کالج شہر کے اعلیٰ تعلیمی اداروں کی لسٹ میں شا مل ہوگیا تھا اور اس دور میں کالج میں ماسٹرز کی کلاسز شروع کی گئیں، سا بق حکومت کے دور میں کالج تعلیم کے علاوہ ہم نصابی سرگرمیوں اور کھیل کے میدان میں جھنڈے گاڑ رہا تھا لیکن موجودہ پنجاب حکومت نے کالج کو تبا ہ کر کے رکھ دیاہے ،ایک کالج استاد کے مطا بق کا لج کے بے شمار شعبوں میں کلاسیں نہ ہونے کی وجہ سے حالت یہ ہو گئی ہے کہ ان کو بند کر دینا ہی بہتر ہے ، مو جو دہ پر نسپل نے طلبا ئو طالبات کے ٹورز اور کلاس فنکشنز پر بھی پا بندی عا ئد کر دی ہے جس کی وجہ سے طلبا ئو طا لبات بھی ما یو سی کا شکار ہیں ۔ کالج پر نسپل راشد نجیب کے مطا بق اس کالج میں سا بقہ دور میں طلبا ئتنظیموں کی وجہ سے احتیاط سے کام لیا جا رہا ہے ۔ ان کے مطا بق ان کو پر نسپل بنے تھوڑا عر صہ لگا ہے اور وہ آہستہ آہستہ حالات ٹھیک کر رہے ہیں۔

Source: Roznama Dunya

اپنا تبصرہ بھیجیں