اپوزیشن لیڈر سید خورشید شاہ کی شمولیت بطور ثالث ضرور مثبت نتائج کا باعث بنے گی: میاں منظور احمد وٹو

Picture

دیپالپور ( آن لائن)پیپلز پارٹی سنٹرل پنجاب کے صدر اور سابق وفاقی وزیرمیاں منظور احمد وٹو نے کہا ہے کہ پاکستان تحریک انصاف اور پاکستان مسلم لیگ (ن) کی طرف سے اپوزیشن لیڈر سید خورشید شاہ کی ثالثی کی دعوت قبول کرنے کا خیر مقدم کرتے ہوئے امید ظاہر کی ہے کہ اس سے ملک کے موجودہ سیاسی بحران کے حل کی پرامن امیدیں لوٹ آئی ہیں جس بحران نے قومی زندگی کو کئی مہینوں سے یرغمال بنا رکھا ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ اس ڈیڈ لاک کی وجہ سے حکومت مفلوج ہو کر رہ گئی ہے اور عوام اس غیر یقینی کے عذاب میں مسلسل مبتلا ہیں کیونکہ اسکے حل کی امیدیں انکو نظر نہیں آرہی ہیں ان خیالات کا اظہار انہوں نے صدر الیکٹرانک میڈیا دیپالپور پریس کلب مظہر عباس چوہدری سے خصوصی گفتگو کرتے ہوئے کیا انہوں نے کہا کہ اس بحران کی وجہ سے حکومت اور احتجاج کرنیوالی جماعتوں کا بھی اندرون ملک اور بیرون ملک کوئی اچھا تاثر نہیں جا رہا ہے، یہ کہنا بے جا نہ ہو گا کہ انکی وجہ سے دنیا میں پاکستان کی بڑی جگ ہنسائی ہو رہی ہے۔ انہوں نے خوشی کا اظہار کیا کہ ثالثی کی دعوت قبول کرنے سے صاف ظاہر ہو رہا ہے کہ دونو ں جماعتیں اس مسئلے کو حل کرنے میں اب زیادہ سنجیدہ نظر آتی ہیں۔ انہوں نے کہا کہ اس ماحول میں اپوزیشن لیڈر کی شمولیت بطور ثالث کے ضرور مثبت نتائج کا باعث بنے گی ۔ انہوں نے کہا کہ سید خورشید شاہ نے ہمیشہ مخالف پارٹیوں کو اپنے اختلافات از خود حل کرنے کی ضرورت پر زور دیتے ہوئے باور کرایا تھا کہ ملک اس وقت عدم استحکام کا متحمل نہیں ہو سکتا جب دہشتگردی اور انتہاء پسندی نے ملک کے وجود کو خطرے میں ڈال رکھا ہے۔ انہوں نے کہا کہ چیئرمین بلاول بھٹو اور کوچیئرمین آصف علی زرداری شروع ہی سے تمام سیاسی پارٹیوں پر زور دے رہے ہیں کہ سب سے پہلے دہشتگردی اور انتہاء پسندی کی لعنت کو شکست دی جائے، اسکے بعد سیاست کرنے کے لیے انکے پاس بڑا وقت ہو گا۔ انہوں نے کہا کہ پیپلز پارٹی نے محاذآرائی کی سیاست میں شعوری طور پر حصہ نہیں لیا اور 2013 کے انتخابات کو تسلیم کیا تھا جو بلاشبہ جمہوریت کی خاطر پارٹی قیادت کا ایک بڑا فیصلہ تھا۔انہوں نے کہا کہ پیپلز پارٹی محاذ آرائی کی سیاست میں شامل ہو کر اس بڑے فیصلے کے دوررس سیاسی فوائد سے قوم کو محروم نہیں کرنا چاہتی تھی۔

کیٹاگری میں : News

اپنا تبصرہ بھیجیں