پنجاب کی سہ رخی لڑائی میں پیپلز پارٹی کلین سویپ کریگی، میاں منظور وٹو

2013112153132_samaa_tv

اسلام ٹائمز: پیپلز پارٹی پنجاب کے صدر کا اسلام ٹائمز سے انٹرویو میں کہنا تھا کہ پنجاب میں قومی اسمبلی کی 148 سیٹیں ہیں ۔۔۔ میں تو ایک ایک سیٹ کا جائزہ لے کر بیٹھا ہوں اور ہم محنت کر رہے ہیں۔ پارٹی قیادت کی طرف سے پیپلز پارٹی پنجاب کے صدر کی جو ذمہ داری میرے اوپر ڈالی گی ہے۔ اللہ تعالٰی اپنا فضل کرے اور مجھے اس میں سرخرو کرے، میں یہاں کی عوام کی توقعات پر بھی پورا اتروں۔

پنجاب کے ضلع اوکاڑہ کے قصبہ وساویوالا سے تعلق رکھنے والے میاں منظور احمد وٹو مقامی حکومتوں کی سیاست سے وفاقی وزیر تک کے عہدوں کا تجربہ رکھتے ہیں۔ وہ وفاقی وزیر امور کشمیر و گلگت بلتستان ہیں۔ جوڑ توڑ کے ماہر منظور وٹو کو دسمبر 2012ء میں صدر آصف علی زرداری نے صدر پیپلز پارٹی پنجاب مقرر کیا۔ وہ وزیراعلٰی پنجاب اور سپیکر پنجاب اسمبلی کے عہدوں پر بھی کام کرچکے ہیں۔ اسلام ٹائمز نے ان سے پنجاب کی سیاست کے مستقبل کے منظر نامے پر بات چیت کی ہے۔ جو قارئین کی خدمت میں پیش کی جا رہی ہے۔

اسلام ٹائمز: میاں منظور احمد وٹو صاحب! نگران حکومت کی تشکیل کا مرحلہ جاری ہے۔ آئندہ عام انتخابات میں کیا حاص ایجنڈا لے کر پیپلز پارٹی انتخابی میدان میں وارد ہوگی۔؟
میاں منظور احمد وٹو: پہلے تو میں قوم کو مبارکباد پیش کرتا ہوں کہ خوش آئند بات یہ ہے کہ اسمبلی اپنی مدت پوری کر رہی ہے اور نئے الیکشن ہونے جا رہے ہیں۔ نئے الیکشن کے لئے جو formality ہے اور جو لوازمات چاہیں وہ اسمبلی نے پوری کر دی ہیں۔ الیکشن کمیشن کا اپنا ایک بہت بڑا میکانزم ہے، جس کے تحت یہ آئینی ادارہ اتفاق رائے سے تشکیل پاچکا ہے۔ اب نگران سیٹ اپ بننے جا رہا ہے۔ جس کے لئے مختلف سطحوں پر بات چیت شروع ہوچکی ہے کہ جو طریقہ کار آئین میں ہے، اس کے مطابق جو صورتحال ہے اس میں اگلے چند دنوں میں نگران سیٹ اپ بن جائے گا اور الیکشن کی تاریخ بھی مقرر ہو جائے گی۔ نگران وزیراعظم کے لئے صدر آصف علی زرداری نے 8 فروری تک مختلف پارٹیوں سے مشاورت مکمل کرنے کی ہدایت کر دی ہے، جبکہ پولنگ کی تاریخ بھی ایک ہی مقرر ہوگی۔ مجھے کافی امید ہے کہ اتفاق رائے سے انتخابی مرحلہ مکمل ہو جائے گا۔ اس لئے کہ ملک کے سیاسی لیڈر بالغ نظری سے کام کر رہے ہیں اور سوجھ بوجھ سے کام لے رہے ہیں اور وہ سیاسی سسٹم کو چلانا چاہتے ہیں۔ یہ جمہوری نظام کے حق میں ہے اور یہ سب سے خوش آئند بات ہے کہ ملک کے اندر ایک تسلسل جو ہے جمہوری نظام کا وہ جاری ہونے جا رہا ہے۔ اگلے الیکشن قریب ہیں، جس کی تاریخ مقرر کر دی جائے گی۔

اسلام ٹائمز: آپ کے پاس کیا خاص چیز ہے کہ آپ سمجھتے ہیں کہ آئندہ انتخابات آپ win کرلیں گے اور صدر مملکت نے جو کہا ہے کہ اگلا وزیراعلٰی پنجاب جیالا ہوگا؟ تو اس کے لئے کیا حکمت عملی ہے اور کتنی سیٹیں پنجاب سے پیپلز پارٹی کو ملے کا اندازہ ہے۔؟
میاں منظور احمد وٹو: دیکھئے! میں آپ کو بتاوں کہ 1988ء میں پاکستان میں وفاق کی سطح پر پیپلز پارٹی کی حکومت بنی اور صوبہ پنجاب میں مسلم لیگ (ن) کی حکومت بنی۔ اس کے بعد 1990ء میں مرکز میں اور صوبہ پنجاب میں بھی مسلم لیگ (ن) کی حکومت بنی۔ 1993ء میں پی پی پی کی حکومت مرکز مین بنی اور میری سربراہی میں پیپلز پارٹی کی اتحادی حکومت پنجاب میں بنائی گی۔ اس کے بعد 2008ء کے انتخابات کے بعد بھی پی پی پی کی حکومت پنجاب میں نہیں بن سکی۔ اس لئے پیپلز پارٹی کے ورکرز اور اس سے تعلق رکھنے والوں کی انتہائی خواہش ہے کہ پنجاب میں پی پی پی کی حکومت بنائی جائے۔ اس کے لیے ورکرز بڑے فعال اور motivated ہیں۔ میں نے دیکھا ہے کہ وہ محنت کر رہے ہیں۔ اپنے اختلافات ختم کرکے وہ پی پی پی کے امیدواروں کو پنجاب اور مرکز کے لیے بھی کامیاب کرانے کے لیے وہ ایڑی چوٹی کا زور لگائیں گے اور کوئی کوتاہی نہیں کریں گے۔

میں نے دیکھا ہے کہ جو جماعت اس وقت قومی اسمبلی اور اس کے ساتھ صوبائی اسمبلی کے امیدواروں کا پینل ٹھیک بنائے گی کامیاب ہوگی۔ برادری ازم بھی کام کرے گا۔ پارٹی کا ووٹ بھی کام کرے گا اور امیدوار کی مقامی مقبولیت اور ساکھ بھی کام کرے گی۔ یہ سیٹنگ کام کرے گی تو اس میں سیاسی جماعتیں اپنے پنیل ٹھیک بنائیں گی۔ تو اس کے پینل جیت جائیں گے۔ اس میں ایک چیز اور دیکھنی ہے کہ پنجاب میں جب بھی Triangular Fight ہوتی ہے تو فتح پیپلز پارٹی کی ہی ہوتی ہے اور اس وقت Triangular Fight ہونے جا رہی ہے، مسلم لیگ (ن)، عمران خان اور پی پی پی کے درمیان۔ اور ہو سکتا ہے کہ مذہی جماعتوں کا ایک اور پینل سامنے آجائے۔ اگر جماعت اسلامی کا اتحاد مسلم لیگ (ن) کے ساتھ نہ ہوا تو chance ہے کہ مذہبی جماعتوں کا ایک اور گروپ سامنے آجائے اور یہ لڑائی Triangular Fight بھی نہیں رہے گی۔ یہ چومکھی لڑائی ہوگی تو اس میں پی پی پی کا ووٹ بینک پکا ہے، وہ کسی طرف نہیں جاتا ہے۔ اس نے پی پی پی کو ہی ووٹ دینا ہے۔ انہوں نے پیپلز پارٹی کے انتخابی نشان تیر پر ہی مہر لگانی ہے۔ اس لئے جو rightist ووٹ ہے وہ تقسیم ہوگا، تو پیپلز پارٹی کا امیدوار جیتے گا۔

اسلام ٹائمز: میاں صاحب! یہ بتائیں کہ آئندہ الیکشن پیپلز پارٹی اکیلے لڑے گی یا اتحاد کرے گی۔؟
میاں منظور احمد وٹو: دیکھئے جی! ہماری تو پہلے سے ہی ایک اتحادی حکومت چل رہی ہے اور پی پی پی نے صدر پاکستان آصف علی زرداری کی مفاہمت کی سوچ، جو کہ میں سمجھتا ہوں کہ ان کی قومی سوچ کی وجہ سے ایک قومی مصلحت کی پالیسی اختیار کی گئی ہے، جس کے تحت اپنے مخالفوں کو بھی سینے سے لگایا گیا ہے اور جن کے ساتھ کبھی تعلقات نہیں ہوسکتے تھے، ان کے ساتھ بھی دوستانہ تعلقات بنائے ہیں۔ سیاسی جماعتیں جو پیپلز پارٹی کے ساتھ چل رہی ہیں، یعنی مسلم لیگ (ق)، اے این پی، ایم کیو ایم اور فاٹا کے لوگ ہمارے ساتھ چل رہے ہیں۔ اس کے بڑے امکانات ہیں کہ اس وقت مسلم لیگ (ن) جو الیکشن لڑ رہی ہے، ق لیگ کے ساتھ پی پی کا اتحاد ہے۔ عمران خان الیکشن لڑ رہے ہیں۔ تو ذرا نظر دوڑا کر دیکھیں کون کون سے لوگ انتخابات کے بعد اکٹھے ہوسکتے ہیں۔ ابھی میں اس پر بات نہیں کرونگا لیکن الکیشن کے بعد بڑے امکانات ہیں کہ پی پی پی اپنے اتحادیوں کے ساتھ مل کر پنجاب مین حکومت بنائے گی۔

اسلام ٹائمز: پیپلز پارٹی کا ڈاکٹر طاہر القادری سے رابطہ ہے۔ ان سے لانگ مارچ اور دھرنے کے بعد بھی مذاکرات کیے گئے ہیں اور آپ خود کہہ چکے ہیں کہ وہ آپ کے ہم نوا بن چکے ہیں، تو کیا ان کے ساتھ انتخابی اتحاد ہوسکتا ہے۔؟
میاں منظور احمد وٹو: بھائی دیکھیں! میں قادری صاحب کی بڑی عزت کرتا ہوں۔ میرا ان کے ساتھ پرانا تعلق ہے، ہم نے مل کر سیاسی جدوجہد کی ہے۔ وہ تو 14 جنوری کو حکومت گرانے کے لیے اسلام آباد گئے تھے، اپنا ایک ایجنڈا لے کر الیکشن کے موجودہ نظام میں تبدیلی لانے کے لیے اور حکومت کو گرانے کے لیے گئے تھے تو حکومت کو گرائے بغیر ان کے مارچ کو خوش اسلوبی کے ساتھ اور مذاکرات کے ذریعے پیپلز پارٹی کی حکومت نے ختم کروایا اور وہ واپس لاہور آگئے اور مذاکرات کا سلسلہ پیپلز پارٹی اور اس کے اتحادیوں کا سلسلہ شروع ہوگیا۔ مذاکرات کی نتیجے میں مارچ ختم ہوا اور ہم نے مذاکرات کے ذریعے قادری صاحب کے ساتھ بات چیت کی تو جب آپ کے مذاکرات چل رہے ہوں تو اس کا مطلب ہے کہ ایک لیول پر انڈر سٹینڈنگ تو موجود ہے۔

اسلام ٹائمز: تو کیا ڈاکٹر طاہرالقادری سے اتحاد ہو جائے گا۔؟
میاں منظور احمد وٹو: قادری صاحب کے ساتھ لیول آف انڈر سٹینڈنگ تو موجود ہے۔ اب دیکھنا یہ ہے کہ ان کی پارٹی کے انتخابات تو ہوچکے ہیں۔ کیا قادری صاحب اپنی جماعت کو الیکشن کمیشن میں رجسٹرڈ کرواتے ہیں؟ کیا وہ الیکشن کے عمل میں شریک ہوتے ہیں؟ اگر وہ الیکشن کے عمل میں شامل ہوں تو اس کے کافی چانسز ہیں وہ کسی نہ کسی کے ساتھ اتحاد بھی کرسکتے ہیں اور پی پی پی کے ساتھ تو وہ پہلے مل کر چلتے رہے ہیں۔ ہم نے (1998 میں میاں نواز شریف کی حکومت کے خلاف) ایک اتحاد پاکستان عوامی اتحاد بنایا تھا، جس کے تحت پی پی پی اور طاہرالقادری صاحب کی پارٹی، نوابزادہ نصراللہ خان مرحوم کی پاکستان ڈیموکریٹک پارٹی جب وہ زندہ تھے، تو ہم نے مل کر میرے گھر مین بیٹھ کر ہم نے اتحاد بنایا۔ قادری صاحب اس کے صدر تھے۔ ہمارے اس اتحاد میں پی پی پی شامل تھی۔ ان کی جماعت بھی شامل تھی۔ اے این پی بھی اس میں شامل تھی۔ ایم کیو ام بھی شامل ہوگئی تھی اور (گرینڈ ڈیموکریٹک الائنس) جی ڈی اے بنایا گیا اور اس نے محنت شروع کر دی تو قادری صاحب کے ساتھ، تو کہنا یہ چاہتا ہوں کہ ہماری ایک انڈرسٹینڈنگ رہی ہے ہم نے ایک اتحاد میں شامل ہو کر کوشش کی ہے تو آئندہ بھی مل کر چل سکتے ہیں۔

اسلام ٹائمز: آئندہ انتخابات میں پنجاب سے کتنی سیٹوں پر آپ پیپلز پارٹی کے امیدواروں کی کامیابی کی توقع کرتے ہیں۔؟
میاں منظور احمد وٹو: دیکھیں جی! پنجاب میں قومی اسمبلی کی 148 سیٹیں ہیں اور ہم انشاءاللہ جنوبی پنجاب میں clean sweep کریں گے اور سنڑل پنجاب مین لڑائی ہوگی۔ یہ better field ہے اس میں بڑی popular fight ہوگی اور اس میں سے سیٹیں جیتیں گے، انشاءللہ۔ میں تو ایک ایک سیٹ کا جائزہ لے کر بیٹھا ہوں اور ہم محنت کر رہے ہیں۔ پارٹی قیادت کی طرف سے پیپلز پارٹی پنجاب کے صدر کی جو ذمہ داری میرے اوپر ڈالی گی ہے، اللہ تعالٰی اپنا فضل کرے اور مجھے اس میں سرخرو کرے، میں یہاں کی عوام کی توقعات پر بھی پورا اتروں اور پارٹی کی توقعات پر بھی پورا اتروں۔ مجھے تو توقع ہے کہ ہم اور ق لیگ مل کے انشاءاللہ صوبہ پنجاب میں برتری حاصل کریں گے۔

Source: Islam Times

اپنا تبصرہ بھیجیں