شریف برادران ،چوہدری نثار کے اختلافات کھل کر سامنے آگئے

pml-n-to-restore-bahawalpur-province-at-any-cost-shahbaz-nisar-1359387786-8155

راولپنڈی ڈویژن میں پار ٹی قیادت کی مداخلت اختلافات کی بنیادی وجہ ہے نثار کا دیگر رہنماؤں سے ملکر شریف برادران کو دفاعی پوزیشن پر لانے کا فیصلہ
اسلام آباد (رپورٹ:عامرسعید)مسلم لیگ ن کے رہنماء اور قومی اسمبلی میں قائد حزب اختلاف چوہدری نثار علی خان کے پارٹی کی سینئر قیادت کے ساتھ اختلافات کھل کر سامنے آنا شروع ہو گئے ہیں ۔چوہدری نثار نے پارٹی کے ہم خیال رہنماؤں کے ساتھ مل کر شریف برادران کو دفاعی پوزیشن پر لانے کا فیصلہ کرلیا ہے۔ذرائع نے روز نامہ دنیا کو بتایا کہ چوہدری نثار اور شریف برادران کے درمیان اختلافات کی بنیادی وجہ شریف برادران کی طرف سے راولپنڈی ڈویژن میں مداخلت اور عام انتخابات کے لئے اپنی مرضی کے امیدواروں کو ٹکٹ دیناہے۔ جمعہ چکوال سے ن لیگ کے ضلعی صدر چوہدری لیاقت کی قیادت میں ایک تین رکنی وفد نے جس میں رکن صوبائی اسمبلی تنویر اسلم سیتھی اور جنرل (ر)عبدالقیوم شامل تھے ،نے چوہدری نثار سے اسلام آباد میں ملاقات کی اور سابق ضلع ناظم سردار غلام عباس کو مسلم لیگ میں شامل کرنے پرسخت احتجاج کیا۔ذرائع نے بتایا کہ اس سے قبل چوہدری نثار نے بھی شریف برادران سے اس شمولیت کے حوالہ سے احتجاج کیا تھا لیکن حمزہ شہباز اور میاں منشاء نے سردار عباس کو ن لیگ میں شامل کرنے اور عام انتخابات میں قومی اسمبلی کے حلقہ نمبر 60 کا ٹکٹ دینے کی یقین دہانی کرارکھی ہے۔ راولپنڈی شہر میں بھی عام انتخابات کے لئے شکیل اعوان کے بجائے سردار نسیم کو ٹکٹ دیے جانے کا امکان ہے اور اس پر بھی چوہدری نثار پریشان ہیں، تاہم اس تمام تر صورت حال سے نبرد آزماہونے کے لئے چوہدری نثار نے راولپنڈی ڈویژن میں ہم خیال سیاستدانوں کا ایک پریشر گروپ تیار کرنے کی ٹھان لی ہے۔ چکوال سے آئے وفد کو بھی چوہدری نثارنے یہی کہا کہ وہ ضلع میں سردار غلام عباس کی ن لیگ میں ممکنہ شمولیت کے حوالہ سے احتجاج جاری رکھیں اور پارٹی کی اعلیٰ قیادت کو بھی واضح پیغام بھجوا دیں کہ انہیں کسی صورت بھی سردار عباس کی شمولیت منظور نہیں ہے۔ ذرائع نے بتایا کہ چوہدری نثار راولپنڈی ڈویژن کے باقی ہم خیال پارٹی رہنماؤں سے اگلے چند روز میں مزید ملاقاتیں کریں گے اور انہیں بھی اپنی پالیسی سے آگاہ کریں گے۔

Source: Roznama Dunya

اپنا تبصرہ بھیجیں