عام اِنتخابات کا اعلان ہوتے ہی پیپلز پارٹی بھرپورعوامی طاقت کا مظاہرہ کریگی اور مخالفین کی نیندیں حرام ہوجائیں گی: میاں منظوروٹو

305_209084789229284_405894153_n

اوکاڑہ ۔۔۔۔۔ پیپلز پارٹی وسطی پنجاب کے صدر ووفاقی وزیر امور کشمیر میاں منظور احمد وٹو نے کہا ہے کہ عام اِنتخابات کا اعلان ہوتے ہی پیپلز پارٹی بھرپورعوامی طاقت کا مظاہرہ کریگی اور مخالفین کی نیندیں حرام ہوجائیں گی ۔لیپ ٹاپ اور اَب سولراَنرجی پینل کی تقسیم صوبے کی تعلیمی پسماندگی کا حل نہیں ، سکولوں کی حالت زار کو بدلے بغیر سوفیصد خواندگی کا خواب پورا نہیں ہوسکتااور نہ ہی تعلیم کے بغیر غریب اور امیر کے فرق کو مٹایا جاسکتاہے ۔ پیپلز پارٹی کا منشور عوامی خدمت اور خوشحال پاکستان ہے جسے پورا کرنے کے لئے کسی قربانی سے دریغ نہیں کیاجائے گا۔

اِن خیالات کا اِظہاراُنہوں نے دیپالپور کے نواحی علاقہ صوبے خاں میں ایک بڑے عوامی اجتماع سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔ میاں منظور احمد وٹو نے کہا کہ نام نہاد خادم اعلیٰ کی غلط پالیسیوں کی وجہ سے پنجاب میں ترقیاتی کاموں کی رفتار رُک سی گئی ہے اور صوبے کا پورا بجٹ صرف اور صرف عمرہ جاتی اور لاہور پر خرچ کیا جارہا ہے ۔ بڑے بڑے ترقیاتی کاموں کے پیچھے کرپشن کی طویل داستانیں بھی رقم ہورہی ہیں اور نعرہ خادم اعلیٰ پنجاب کا لگایا جارہا ہے جو کہ پنجاب کے حکمرانوں کے قول وفعل کا کھلا تضاد ہے ۔
عوام نے اپنی آنکھوں سے سیاسی مداریوں کو دیکھ لیا ہے ۔ محض مائیک توڑ دینے اور ڈیسک پر ہاتھ مارنے سے ذوالفقار علی بھٹوبنا نہیں جاسکتا، وزیر اعلیٰ پنجاب کو اگر کاپی کرنے کا اِتنا ہی شوق ہے تو وہ بھٹو جیسی ذہانت اور غریب پروری بھی سیکھیں ۔ مصیبت کے وقت فرار ہونے کی بجائے آمروں کی آنکھوں میں آنکھیں ڈال کربات کرنے کی ہمت بھی پیدا کریں اور ملک سے فرار ہونے کی بجائے عوام کی خاطر زندگی قربان کرنے کا جذبہ بھی رکھیں۔

بھٹو خاندان نے اِس ملک اور قوم کی خاطر قربانیوں کی لازوال داستان مرتب کرکے جمہوریت کا راستہ ہموار کیاہے اور موجودہ حکومت نے اُن کے منشور پر عمل کرکے قومی یک جہتی اور ملکی سلامتی کو یقینی بنایا ہے ۔ہم سیاست کی بجائے عملی خدمت پر یقین رکھتے ہیں جبکہ اِس کے برعکس ہمارے مخالفین اپنی سستی شہرت کی حسرت رکھتے ہیں اور اِس کی خاطر وہ عوام کے اربوں روپے اشتہارات کی بھرمار میں ضائع کررہے ہیں ۔

پنجاب میں کبھی سستی روٹی کا ڈرامہ رچایا جاتاہے تو کبھی لیپ ٹاپ اور سولراَنرجی پینل تقسیم کئے جاتے ہیں جب کہ حقیقت یہ ہے کہ اِن تمام باتوں سے نہ تو عوام کی غربت کو دُور کیاجاسکتاہے اور نہ ہی تعلیمی پسماندگی کا کام پایہ تکمیل تک پہنچ سکتاہے ۔ صوبے میں ہزاروں خستہ حال سکولوں کو نظرانداز کرکے دانش سکولوں کے نام پر اَربوں روپے دُور دراز علاقوں میں خرچ کرکے ضائع کردئیے گئے ہیں جہاں بچوں کا پہنچنا ہی ممکن نہیں ۔ پنجاب میں ایجوکیشن کمیشن اور ایجوکیشن فاوٴنڈیشن کی کارکردگی بھی کوئی تسلی بخش نہیں ۔ پرائمری اور مڈل کے حالیہ امتحانات میں جس قسم کی کھلے عام نقل اور غیر معیاری اِنتظامات کا مظاہرہ دیکھنے کو مل رہا ہے وہ گڈ گورننس اور کھوکھلے تعلیمی اصلاحات کا منہ بولتا ثبوت ہے ۔

پنجاب ایجوکیشن فاوٴنڈیشن کے اربوں روپے غریب اور دُورافتادہ علاقوں کی تعلیم پر خرچ کرنے کی بجائے پنجاب کے مخصوص علاقوں میں تقسیم کرکے عوام کے ساتھ کھلی بے اِنصافی کی جارہی ہے ۔ مفت تعلیم سب کا بنیادی حق اور حکومت کی اولین ترجیح ہے ، حکومت کو چاہئے کہ وہ پنجاب ایجوکیشن فاوٴنڈیشن کو سیاسی مقاصد کی بجائے منصفانہ اور شفاف طریقہ اپنائے ہر علاقے میں بِلاامتیاز مفت تعلیم فراہم کرنے کا وطیرہ اپنائے۔پیپلز پارٹی آج بھی روٹی ، کپڑا اورمکان پر یقین رکھتی ہے اور وہ اِنشاء اللہ جب بھی اقتدار میں آئے گی ، زندگی کی یہ تمام بنیادی چیزیں فراہم کرنے کی بھرپور کوشش کرتی رہے گی ۔

اپنا تبصرہ بھیجیں