تیز ترک گامزن منزل مانددور نیست: جہاں آرا منظور وٹو ۔۔۔۔

313861_491434127586309_279290118_n

بالآخر پاکستان کی سیاسی تاریخ میں پہلی مرتبہ عوام کی منتخب آئینی، جمہوری حکومت اپنی آئینی مدت پوری کرنے جا رہی ہے۔ جمہوریت جس کے چراغ آج دنیا بھر میں روشن ہو رہے ہیں، جس کو آج دنیا بھر میں بہترین عوامی نظام کے طور پر تسلیم اور اختیار کیا جا رہا ہے۔ آج اس مقام پر کھڑے ہو کر گزرے ہوئے واقعات اور حالات کو دیکھ کر ان تمام سیاسی جماعتوں کو جو صرف پاکستان اور جمہوریت کی تقویت کے ایجنڈے کو لے کر چلی ہیں، جنہوں نے پاکستان پیپلز پارٹی کا ساتھ صرف یہ سوچ کر دیا کہ کہیں ان کے اختلافات کا فائدہ غیر جمہوری قوتیں نہ اٹھا لیں۔

میں ان تمام سیاسی جماعتوں کو خراج تحسین پیش کرتی ہوں۔چند افراد کی غلطی سسٹم کی غلطی نہیں ہو سکتی اور عوام کا یہ حق ہے کہ اگر آج کسی پارٹی یا فرد نے کارکردگی نہیں دکھائی تو اگلی بار اس کو ووٹ نہ دیں۔ محترمہ بے نظیر بھٹو شہید نے مادر وطن کے لئے جس میثاق جمہوریت کی بنیاد رکھی، اللہ تعالیٰ کے فضل و کرم سے پاکستان پیپلز پارٹی نے رواداری اور مفاہمانہ پالیسی رکھتے ہوئے اس پر مضبوطی کی ایک مہر ثبت کر دی ہے۔

اتحادی جماعتوں کے ساتھ جمہوری دور کا یہ سفر کوئی آسان سفر نہ تھا۔ اتحاد میں ملی ہوئی آمرانہ دور کی اقتصادی اور تجارتی پالیسیاں، خالی ملکی خزانہ بجلی کا ایک میگاواٹ تک پچھلے دور حکومت میں نہیں بنایا گیا تھا۔ بیرونی دباﺅ اور اندرونی فرقہ واریت کی ہوا، آئے دن کی قیاس آرائیاں، اگر گزرے ہوئے تقریباً پانچ سالہ دور حکومت کا اندازہ لگایا جائے یا پھر حکومت کی کارکردگی کو دیکھا جائے تو اس میں سب سے پہلے جس بات کو ملحوظ خاطر رکھنا ہو گا وہ یہ کہ ہر روز جمہوری حکومت کو ایک نئے چیلنج کا سامنا تھا، ایک مشکل سے نبرد آزما ہوتے تو دوسرا مسئلہ منہ کھولے کھڑا تھا۔

ان تمام مسائل و حقائق کے باوجود جمہوری حکومت نے اپنے مینڈیٹ کا فائدہ اٹھاتے ہوئے عوام دوست تاریخ ساز کام کئے جس میں پالیسیاں بناتے ہوئے اٹھارویں ترمیم کے بعد صوبوں کو اختیارات تفویض کردینے جیسے اقدامات اٹھانے بڑے حوصلے کی بات ہے۔ جن میں سب سے پہلا قدم 18ویں ترمیم کے ذریعے 1973ءکے آئین کی اصل وفاقی پارلیمانی صورت میں بحالی، کنکرنٹ لسٹ ختم اور صوبائی خود مختاری میں اضافہ کرکے وفاقی اکائیوں کو مضبوط کرنا اور آئین کو موجودہ قومی اور بین الاقوامی تقاضوں کے مطابق ڈھالنا تھا اس کے بعد 19ویں اور 20ویں ترمیم کے ذریعے اعلیٰ عدلیہ کے ججوں کی تقرری کا میکنزم اور پاکستان کی تاریخ میں پہلی مرتبہ مقننہ، بااختیار اور آزاد الیکشن کمشن کا قیام یقیناً پاکستان کی تاریخ میں یہ کارنامے سنہرے حروف میں لکھے جائیں گے اور یہاں یہ بات بھی یاد رہے کہ یہ تاریخ ساز کام اس وقت ہوئے جب پاکستان پیپلز پارٹی کو پارلیمنٹ میں سادہ اکثریت بھی حاصل نہ تھی۔ اس صورت میں متفرق نظریات اور مفادات رکھنے والی سیاسی جماعتوں کا اتفاق رائے یقیناً ایک معجزہ ہے، جس کا اعزاز صد آصف علی زرداری کی مفاہمت پر مبنی پالیسی کو جاتا ہے۔

صدر مملکت کی جانب سے یہ روشن مثال آنے والے حکمرانوں کے لئے مشعل راہ ہے۔بینظیر انکم سپورٹ پروگرام جس کی شفافیت کو تمام انٹرنیشنل اداروں نے سراہا اور مثبت قرار دیا یہ پروگرام عوامی ویلفیئر اور ترقی کا پروگرام ملک کے غریب اور نادار افراد خاص طور پر عورتوں کے لئے کام کر رہا ہے۔ اس پروگرام میں وسیلہ تقسیم، وسیلہ حق اور وسیلہ روزگار جیسے پروگرام شامل کئے گئے ہیں۔ مزید براں ملالہ یوسف زئی فنڈ کے تحت اس پروگرام میں بچیوں کی تعلیم کے لئے ایک موثر اور شاندار کام شروع کیا گیا ہے۔ غربت سروے جو کہ ایشیا میں پہلی بار کرایا گیا ہے۔

پاکستان بیت المال جو کہ پچھلے ادوار میں بھی کام کر رہا تھا لیکن صدر پاکستان اور وزیراعظم پاکستان کی نگرانی میں محترمہ بینظیر بھٹو کے ویژن سے خاص طور پر یتیم بچیوں کے لئے پاکستان سویٹ ہوم بنائے گئے، جہاں پر ان بچوں کی فری نگہداشت ہو رہی ہے۔این ایف سی ایوارڈ میڈیا کی آزادی، بلوچستان کے حقوق، انسانی حقوق کے نئے بے مثال کام، انسانی حقوق کمشن کا قیام صرف عورتوں کے حقوق کے لئے 24 بل پاس کئے گئے،

شہید محترمہ بے نظیر بھٹو نڈر، سلمان تاثیر، شہباز بھٹی اور پھر بشیر بلور جیسے لوگ ہماری اپنی جنگ کی نذر ہو گئے مگر باوجود اس کے پاکستان پیپلز پارٹی واضح پالیسی کے ساتھ دہشت گردی اور مذہبی انتہا پسندی کے خلاف کھڑی ہے۔ ابھی تک اس راستے میں ابھی تو ہمیں ثابت قدم رہنا ہے، مل کر اس پودے کو مضبوط کرنا ہے، یقیناً سفر لمبا اور منزل ابھی دور ہے، راستہ کٹھن ہے لیکن میرے دل میں امید ہے، اپنے وطن کے لئے، جمہوریت کے لئے، امن کے لئے

دیکھ کر رنگ چمن نہ ہو پریشان مالی
کوکب غنچہ سے کرنیں ہیں چمکنے والی

Source: NawaiWaqt

اپنا تبصرہ بھیجیں