پیپلز پارٹی پنجاب کے صدر میاں منظور احمد وٹو کی رہائش گاہ پر ق لیگ سے سیٹ ٹو سیٹ ایڈجسٹمنٹ پر اہم مذاکرات

488087_10151728810470760_135590744_n

پیپلز پارٹی اور ق لیگ کے درمیان سیٹ ٹو سیٹ ایڈجسٹمنٹ کے مسئلہ پر اہم مذاکرات ہوئے۔ (ق) لیگ پنجاب کے صدر اور نائب وزیراعظم چودھری پرویز الٰہی اپنے ساتھیوں سینیٹر کامل علی آغا، وزیراعظم کے مشیر راجہ بشارت، چودھری مونس الٰہی، چودھری ظہیر الدین اور احمد یار ہراج کے ساتھ مذاکرات کے لئے پیپلز پارٹی پنجاب کے صدر میاں منظور احمد وٹو کی رہائش گاہ گئے، وہاں میاں منظور وٹو، قمر الزمان کائرہ، نذر محمد گوندل، حاجی نواز کھوکھر، رانا محمد فاروق اور تنویر اشرف کائرہ پر مشتمل پیپلز پارٹی کی ٹیم سے صوبائی اسمبلی پنجاب کی نشستوں کے لئے بات چیت ہوئی۔ پی پی پی اور (ق) لیگ نے مسلم لیگ (ن) کو شکست دینے کے لئے مضبوط امیدوار میدان میں اتارنے پر اتفاق کرتے ہوئے کہا ہے کہ عدالتی فیصلے سے طاہر القادری سے مذاکرات متاثر نہیں ہوں گے بلکہ ان سے کمٹمنٹ قائم رہے گی۔ قمر زمان کائرہ نے میڈیا سے بات چیت کرتے ہوئے کہا کہ (ق) لیگ کے ساتھ سیٹ ٹو سیٹ ایڈجسٹمنٹ کا معاملہ طے پا گیا ہے، یہ معاملہ مشاورت سے حل ہو گا۔ (ق) لیگ کے ساتھ امیدواروں کے حوالے سے معاملات طے پا چکے ہیں، بہتر نتائج حاصل کرنے کے لئے تمام فیصلے میرٹ پر ہوں گے۔ اجلاس میں صوبائی حلقوں پر بات چیت ہوئی ہے۔ دونوں جماعتوں کی یہ ضد نہیں کہ ہم نے یہی سیٹ لینی ہے بلکہ ہم معاملات کو مشاورت سے آگے بڑھانا چاہتے ہیں۔ ہمارے درمیان فارمولا طے پا گیا ہے لیکن جہاں دونوں جماعتوں کے امیدوار نہیں جیتے وہاں مشاورت کےساتھ ایسا امیدوار میدان میں اتارا جائے گا جو کامیابی حاصل کرے۔ ایک ہی انتخابی نشان پر الیکشن لڑنے کے حوالے سے سوال کے جواب میں کہا کہ اس حوالے سے اپنی اپنی قیادت کو آگاہ کر دیا ہے۔ سیٹ ایڈجسٹمنٹ پر بھی مذاکرات کے بعد قیادت کو آگاہ کیا جائیگا، حتمی فیصلہ قیادت نے ہی کرنا ہے۔ ڈاکٹر طاہر القادری جب بلائینگے ہم ان کے پاس جائیں گے۔ ہمارے ان سے مذاکرات عدالت کے فیصلے سے مشروط نہیں تھے۔ ہم نے ان سے جو کمٹمنٹ کی تھی اس پر قائم ہیں۔ ہم عدلیہ کے فیصلے کا احترام کرتے ہیں لیکن جو شخص پاکستان میں پیدا ہوا اور اس نے قانونی تقاضے پورے کر کے کسی دوسرے ملک کی شہریت لی اسے غیر ملکی شہری نہیں کہا جا سکتا اور اس سے بیرون ممالک رہنے والے پاکستانیوں کے دلوں پر کیا بیتی وہ اس کا اظہار کر رہے ہیں۔ وزیراعظم ملک سے باہر تھے اس لئے ان سے بات چیت میں تھوڑی تاخیر ہوئی۔ انہوں نے اسمبلیاں تحلیل کرنے کے حوالے سے کہا کہ ہم نے انہیں کہا تھا کہ ہم کوشش کریں گے۔ انہوں نے شہباز شریف کی طرف سے طاہر القادری کے پیچھے آصف علی زرداری کے ہونے کے حوالے سے سوال کے جواب میں کہا کہ میں پہلے بھی کہہ چکا ہوں کہ شہباز شریف اور چودھری نثار علی خاں اپنے قائد نواز شریف سے پوچھ کر بیان دیا کریں‘ پہلے جن اداروں کی طرف انگلی اٹھائی گئی ان کی طرف سے واضح ہو گیا۔ مسلم لیگ (ن) کا مسئلہ ہے کہ انہیں ہر چیز سازش نظر آتی ہے پہلے عمران خان آئے تو اسے سازش کہا گیا جب جنوبی پنجاب کے حوالے سے بات ہوئی اور شہباز شریف کی قیادت میں پنجاب اسمبلی میں اس کی متفقہ قرارداد پاس ہوئی لیکن ہم نے اس پر بات کی تو اسے سازش کہہ دیا گیا اس کے بعد طاہر القادری کے آنے پر انہیں سازش کہا گیا‘ ہم جمہوری اور سیاسی عمل میں ہر آنےوالے کو خوش آمدید کہتے ہیں لیکن اگر اس عمل کے بغیر کوئی آئیگا تو ہم اس کے پیچھے سازش کو بھی پکڑیں گے بلکہ اس کا گریبان بھی پکڑیں گے۔ انہوں نے نواز شریف کی طرف سے سندھ میں جلسے میں پیپلز پارٹی کی مخالفت کے سوال کے جواب میں کہا کہ ان کے پاس اس کے سوا اور کیا ہے۔ اس موقع پر کامل علی آغا نے کہا کہ دونوں جماعتیں اپنے اپنے نشان کیساتھ انتخاب میں جائیں گی، قیادت کو آگاہ کر دیا ہے۔

اپنا تبصرہ بھیجیں