مسلم لیگ (ن) کے قائدین نے ہمیشہ لوٹاکریسی کو فروغ دیکر ملک وقوم کو نقصان پہنچایا ہے: میاں منظور وٹو

DSC_0121

اوکاڑہ ۔۔۔۔۔ پیپلز پارٹی وسطی پنجاب کے صدر و وفاقی وزیر اَمور کشمیر میاں منظور احمد وٹو نے کہا ہے کہ لوٹا کریسی کی سیاست مفاد پرستی جو جنم دیتی ہے ، مسلم لیگ (ن) کے قائدین نے ہمیشہ لوٹاکریسی کو فروغ دیکر ملک وقوم کو نقصان پہنچایا ہے ۔ عوام آئیندہ اِنتخابات میں وفاداریاں تبدیل کرنے والوں کو ناک آوٴٹ کردینگے ، پیپلز پارٹی سے بے وفائی کرنے والے گمنام ہوجائیں گے۔

اِن خیالات کا اِظہاراُنہوں نے چوہدری کالونی اوکاڑہ میں محمد علی لکھوی کی رہائش گاہ پر میڈیا سے بات چیت کے دوران کیا۔ میاں منظور احمد وٹو نے کہا کہ پیپلز پارٹی عوامی طاقت کا ایک ایسا سمندر ہے جس سے نکل جانے والے تو متاثر ہوسکتے ہیں لیکن پارٹی کو کچھ فرق نہیں پڑتا، اِس پارٹی کے اِکثر لوگ نظریاتی ہیں اور وہ بھٹواِزم پر یقین رکھتے ہیں ۔
پارٹی کا اَصل اَثاثہ تو وہ غریب عوام ہے جس نے ہمیشہ دل وجان سے اِس کے نظریات کو تسلیم کیاہے اور کاربندبھی رہے ہیں ۔ چند افراد کے جانے سے پیپلز پارٹی کو کمزور نہیں کہاجاسکتا، اَبھی میدان لگنا باقی ہے جب میدان لگے گا تو سب دیکھیں گے کہ کس کے گھوڑے میں کتنی جان ہے ۔ ہم نظریاتی لوگ اور سیاسی لوگ ہیں جو اینٹ کا جواب پتھر سے دینے کی پوری صلاحیت رکھتے ہیں لیکن ہماری پارٹی نے کبھی ضمیر کی سودے بازی اور بے اَصولی سیاست نہیں کی جبکہ مسلم لیگ (ن) کی تاریخ بتاتی ہے کہ میاں برادران ہمیشہ اقتدار کی خاطر لوٹاکریسی کو فروغ دیکر اپنے مفادات کا دفاع کیا ہے ، پنجاب میں آج بھی لوٹوں کی مرہون منت حکومت چل رہی ہے ۔

نئے صوبے پیپلز پارٹی اپنے مفادات کے لئے نہیں بلکہ عوامی سہولت کے لئے بنانا چاہتی ہے مگر افسوس سے کہنا پڑتاہے کہ عوام کے مفاد میں کئے گئے جنوبی پنجاب جیسے صوبے کو بھی سیاست کی نظر کرکے متنازعہ بنایا جارہا ہے ، میاں برادران اپنی شکست سے خوفزدہ ہوکر جنوبی پنجاب کی عوام کے ساتھ بہت بڑی زیادتی کررہے ہیں اور وہ کسی طرح نہیں چاہتے کہ پنجاب کا اقتدار اُن کے ہاتھ سے نکل جائے ۔

صدر آصف علی زرداری کے کردار کو سیاسی کہنے والے ذرا یہ تو بتائیں کہ نازک حالات میں کس شخص نے قومی مفاہمت کا نعرہ لگاکر وفاق کو ٹوٹنے سے بچایااور کس شخص نے اپنے اختیارات میں رضاکارانہ کمی کرتے ہوئے جمہوریت کو مضبوط بنایا۔ آصف علی زرداری سے زیادہ اس ملک ، قوم اور جمہوریت کے لئے کسی نے قربانیاں نہیں دیں ۔وہ وفاق علامت ہیں اور اگر اُن پر تنقید کی جاتی ہے تو وہ وفاق کو کمزور کرنے کی سازش ہے ، پیپلز پارٹی ایسے سازشوں کو ہرگز کامیاب نہیں ہونے دیگی ۔

آئیندہ اِنتخابات وقت مقررہ پر آئینی حدود کے اندر ہونگے ، اِنتخابات کے التواء کا خواب دیکھنے والوں کو مایوسی کے سوا کچھ حاصل نہیں ہوگا۔ میدان سجے گا تو دودھ کا دودھ اور پانی کا پانی ہوجائے گا

اپنا تبصرہ بھیجیں