میاں منظور وٹو نے پارٹی تنظیموں کو میدان میں اتارنے کا فیصلہ کرلیا' پیپلزپارٹی اور ق لیگ مضبوط قوت کیساتھ میدان میں اترے گی

488087_10151728810470760_135590744_n

پیپلز پارٹی پنجاب کے صدر میاں منظور وٹو نے مسلم لیگ ن اور تحریک انصاف کا سیاسی مقابلہ کرنے کیلئے اپنی پارٹی تنظیموں کو میدان میں اتارنے کا فیصلہ کیا ہے۔میاں منظور وٹو نے لاہور میں پیپلز پارٹی کے صوبائی دفتر کے علاوہ ماڈل ٹاﺅن میں ایک سیکرٹریٹ بھی قائم کیا ہے جبکہ راولپنڈی میں بھی پارٹی کا صوبائی سیکرٹریٹ قائم کیاجارہا ہے۔ تمام ضلعی صدور کو ہدایت کردی ہے کہ اپنے اپنے ضلع میں پارٹی آفس کھولیں۔ منظور وٹو نے ضلعی عہدیداران کو ہدایت کی کہوہ اپنے اپنے ضلع کا دورہ کرنے کا شیڈول بنا کر بھیجیں تاکہ نہ صرف منظور وٹو بلکہ بلاول بھٹو زرداری بھی ضلع کی سطح پر منعقد کئے جانے والے جلسہ عام سے خطاب کرسکیں۔
دریں اثناء پاکستان مسلم لیگ کے صدر سینیٹر چودھری شجاعت حسین کی رہائش گاہ پر پاکستان مسلم لیگ اور پاکستان پیپلز پارٹی کے راہنمائوں کی ملاقات ہوئی جس میں آئندہ عامدریں اثناء انتخابات کے حوالے سے سیاسی لائحہ عمل پر تبادلہ خیال کیا گیا۔ اجلاس میں پاکستان مسلم لیگ کی طرف سے صدر سینیٹر چودھری شجاعت حسین، سینئر مرکزی رہنما و نائب وزیراعظم چودھری پرویزالٰہی، سینیٹر کامل علی آغا، وزیر اعظم کے مشیر برائے صنعت محمد بشارت راجہ، مسلم لیگ پنجاب کے جنرل سیکرٹری چودھری ظہیرالدین، مونس الٰہی، احمد یار ہراج، خسرو بختیار اور ناصرمحمود گل شریک تھے۔ پیپلزپارٹی کا وفد پنجاب کے صدر منظور وٹو، مخدوم شہاب الدین، نذر محمد گوندل، تنویر اشرف کائرہ، رانا فاروق سعید، حاجی نواز کھوکھر اور حیدر زمان قریشی پر مشتمل تھا۔ ملاقات میں آئندہ انتخابی اتحاد اور حلقہ بہ حلقہ سیاسی صورتحال زیر بحث آئی۔ دونوں پارٹی رہنمائوں نے مشترکہ انتخابی امیدوار میدان میں لانے اور مضبوط قوت کے ساتھ سیاسی میدان میں اترنے کا فیصلہ کیا۔

میاں منظور وٹو نے پارٹی تنظیموں کو میدان میں اتارنے کا فیصلہ کرلیا' پیپلزپارٹی اور ق لیگ مضبوط قوت کیساتھ میدان میں اترے گی” ایک تبصرہ

  1. پی پی, ق لیگ 182 نشستوں پر مشترکہ امیدوار کھڑے کرینگی
    رحیم یار خان، گجرات سے قومی اسمبلی کی دونشستوں کا فیصلہ صدر زرداری کرینگے،دونوں جماعتوں کےرہنماؤں کا اجلاس پیپلز پارٹی اور مسلم لیگ (ق) کے درمیان قومی اسمبلی کے دو حلقوں کے سوا 182 نشستوں پر سیٹ ایڈجسٹمنٹ کے لیے اتفاق ہوگیاہے۔ رحیم یارخان اور گجرات کے قومی اسمبلی کے دوحلقوں پر پیپلز پارٹی اور اس کی اتحادی جماعت مسلم لیگ (ق) میں اتفاق نہیں ہوسکا۔ فیصلہ صدر آصف زرداری پر چھوڑ دیا گیا ہے۔ ذرائع کے مطابق مسلم لیگ(ق) کے جو لوگ پارٹی چھوڑ گئے ہیں وہاں پیپلزپارٹی اپنے امیدوار کھڑے کرنا چاہتی ہے ۔ دوسری جانب مسلم لیگ(ق) نے پنجاب ميں 131 نشستیں مانگی ہیں جبکہ رحیم یارخان سے خسرو بختیار این اے 194 اور این اے 195 سے ق لیگ کےامیدوارہوں گے۔ مسلم لیگ ق کے سربراہ چوہدری شجاعت حسین اور مرکزی رہنما چوہدری پرویز الٰہی نے اس حوالے سے وزیر اعظم راجہ پرویز اشرف سے ملاقات کی ہے۔ مختلف امور پر تبادلۂ خیال ہوا ہے۔ سیٹ ایڈجسٹمنٹ سے متعلق تمام امور جلد طے پا جانے کا امکان ہے۔ دونوں جماعتوں نے عام انتخابات میں مشترکہ امیدوار لانے کا فیصلہ کیا ہے۔ مسلم لیگ (ق) اور پیپلز پارٹی کے رہنماوٴں کا اجلاس بدھ کو اسلام آباد میں ہوا جس میں عام انتخابات کے حوالے سے سیاسی لائحہ عمل پر تبادلہٴ خیال کیا گیا۔

اپنا تبصرہ بھیجیں