پاکستان افغان جنگ سے بری طرح متاثر ہوا انتہا پسندوں کو اپنا ایجنڈا مسلط نہیں کرنے دیں گے : صدر زرداری

 

انتہا پسندی اور دہشتگردی کے چیلنجز سے نمٹنے کے لئے عوام میں یکجہتی اور ہم آہنگی کی ضرورت ہے،اسلام رواداری اور برداشت کا مذہب ہے‘ جمہوریت کو فروغ دے کر مفاہمت اور مربوط کوششوں کے ذریعے درپیش چیلنجوں سے موثر طور پر نمٹا جاسکتا ہے۔ صدر آصف علی زرداری کا بین العقید ہ ہم آہنگی کانفرنس سے خطاب


226879_424674894280886_2056312864_n

صدر مملکت آصف علی زرداری نے کہا ہے کہ پاکستان اور افغانستان سمیت پورا خطہ انتہا پسندی سے متاثر ہے ، ہم انتہا پسندوں کو ان کا ایجنڈا مسلط نہیں کرنے دیں گے نہ انہیں اسلام کی مخصوص تشریح کی اجازت دیں گے ۔ ایوا ن صدر میں بین المذاہب ہم آہنگی کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ آج مذہب کو مسلمانوں اور غیر مسلموں کے خلاف استعمال کیا جا رہا ہے ۔ انتہا پسندوں کو استعمال کرنے والے ان پر قابو نہیں رکھ سکتے کیونکہ ان کا اپنا ایجنڈا ہے ۔اسلام رواداری اور برداشت کا مذہب ہے ’ جمہوریت کو فروغ دے کر مفاہمت اور مربوط کوششوں کے ذریعے درپیش چیلنجوں سے موثر طور پر نمٹا جاسکتا ہے ۔انہوں نے کہا کہ میں نے اقوام متحدہ میں متعدد بار خطاب کے دوران عالمی برادری کو خبردار کیا ہے کہ ہم دہشت گردی کے خلاف جنگ ہار رہے ہیں ۔ہم یہ جنگ جیت نہیں رہے ۔دہشتگردی اور انتہا پسندی کی لعنت سے نمٹنے کے لئے امن و مفاہمت کی حکمت عملی کی پیروی کی ضرورت ہے ۔ایک وقت تھا جب پاکستان میں خود کو بم دھماکے سے اڑانے کا کوئی تصور بھی نہیں کر سکتا تھا کیونکہ اسلام خودکشی کو حرام قرار دیتا ہے ۔ انہوں نے کہا کہ لوگ اس وقت امن اور ہم آہنگی سے رہتے تھے اور کوئی فرقہ وارانہ مسائل نہیں تھے لیکن پھر عالمی سیاست نے صورتحال تبدیل کردی جب مذہب کو جنگ کے ہتھیار کے طور پر استعمال کیا گیا۔دریں اثنا وفاقی وزیر داخلہ رحمان ملک نے صدر آصف علی زرداری سے ملاقات کی اور صدر کو آگاہ کیا کہ کوئٹہ میں بم دھماکوں میں ملوث لشکر جھنگوی کیخلاف آپریشن شروع کر دیا گیا ہے اور انکے متعدد ارکان کو گرفتار بھی کرلیا گیا ۔ جبکہ صدر زرداری نے وزیر داخلہ کو دو ٹوک اور واضح الفاظ میں تمام کالعدم تنظیموں کیخلاف بلا امتیاز اور سیاسی وابستگیوں سے بالاتر ہو کر سخت ترین کارروائی کی ہدایت کرتے ہوئے کہا ہے کہ ملک میں امن و امان کی بحالی کو یقینی بنانے کیلئے شرپسند عناصر کو نشان عبرت بنادیا جائے ۔وفاقی وزارت داخلہ اور اس کے ادارے صوبائی حکومتوں سے ملکر عوام کے جان و مال کے تحفظ کو یقینی بنائیں۔ رحمن ملک نے اپنے دورہ ایران،پاک ایران سکیورٹی کے معاہدے اور ایرانی صدر کو بھجوائے گئے پیغام کے جواب سے آگاہ کیا۔ مزید برآں صدرمملکت سے پاکستان اور خلیجی ممالک سے متعلق مطالعاتی مرکز (سی پی جی ایس) کے وفد نے بھی سینیٹر سحرکامران کی قیادت میں ملاقات کی۔

اپنا تبصرہ بھیجیں