پیپلز پارٹی سے بغاوت کرنے والے آرٹیکل باسٹھ تریسٹھ کی کارروائی سے نہیں بچ سکیں گے: میاں منظوروٹو

صوبائی حکومت پری پول رگنگ کر رہی ہے، پی پی پی اور (ق) لیگ کے چند لوگوں کو پیپلزاعلیٰ پنجاب شہباز شریف نے 15 فروری کو اپنے ساتھ تصویریں چھپوا کر بہت چرچا کیا جبکہ ان کے استعفے دسمبر سے منظور کر لئے گئے تھے، اس حرکت کیلئے سپیکر پنجاب اسمبلی کے آفس کو استعمال کیا گیا، پارٹی سے انحراف کرنے والے لوگ 63-62 میں آتے ہیں جو کسی صورت نااہل ہونے سے بچ نہیں سکیں گے۔ پی پی پی وسطی پنجاب کے صدر میاں منظور احمد وٹو کاپریس کانفرنس سے خطاب

545782_380129238760570_1811379478_n

پیپلز پارٹی پنجاب کے صدر میاں منظور احمد وٹو نے کہا ہے ق لیگ اور پیپلز پارٹی جہاں جہاں جیتی ہے آئندہ انتخابات میں وہاں اسی جماعت کے ہی امیدوار کھڑے کریں گے۔
لاہور میں میڈیا سے گفتگو میں ان کاکہنا تھا کہ نگران وزیراعظم کے لیے ن لیگ سمیت پارٹی کےاندربھی مشاورت جاری ہے، تمام آئینی ترامیم اتفاق رائے سے کیں،نگران وزیر اعظم پر بھی اتفاق رائے ہوجائے گا۔
انہوں نے کہاپیپلز پارٹی سے بغاوت کرنے والے آرٹیکل باسٹھ تریسٹھ کی کارروائی سے نہیں بچ سکیں گے، جنوبی پنجاب صوبہ عوام کاحق ہے جس کے قیام کے لیے پیپلز پارٹی سنجیدہ ہے۔

پیپلز پارٹی پنجاب کے صدر میاں منظور احمد وٹو کا کہنا ہے کہ اسپیکر پنجاب اسمبلی نے پیپلز پارٹی کے منحرف اراکین کے پچھلی تاریخوں میں استعفے منظور کرکے غیر سیاسی حرکت کی ، اراکین کو نا اہل ہونے سے بچانے کیلئے گھناوٴنا کھیل کھیلا گیا۔ پارٹی کے صوبائی دفتر میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے میاں منظور وٹو کا کہنا تھا کہ پیپلزپارٹی کے منحرف اراکین آئین کی شق 62، 63 کے تحت نا اہلی سے نہیں بچ سکتے، پنجاب حکومت پری پول دھاندلی کر رہی ہے ۔

انہوں نے کہا کہ پیپلز پارٹی جنوبی پنجاب کو الگ صوبہ بنانے کیلئے سنجیدہ ہے، اس کا بل 16 مارچ کو قومی اسمبلی میں منظور کر لیا جائے گا۔ ان کا کہنا تھا کہ پارٹی کے وفاداروں اور جیتنے کی صلاحیت رکھنے والے امیدواروں کو ٹکٹ جاری کئے جائیں گے، ن لیگ،پیپلز پارٹی اور تحریک انصاف کی لڑائی میں پیپلز پارٹی کے امیدوار سرخرو ہوں گے۔

میاں منظور احمد وٹو نے کہا کہ یہ عام روایت ہے کہ پیپلز پارٹی جب کسی کو ٹکٹ دیتی ہے تو ان سے استعفے بھی طلب کرتی ہے تاکہ کمٹمنٹ پر کوئی فرق نہ پڑے، نامزد امیدوار پارٹی اور قیادت سے وفاداری کا حلف بھی اٹھاتے ہیں، اس لئے لوٹوں کا عوامی نمائندگی کے لئے نا اہل ہونا یقینی بات ہے، ان پر آئینی آرٹیکل 62 اور 63 کا اطلاق ہوتا ہے، رائے دہندگان کا حق ہے کہ وہ جسے اپنے اعتماد سے نوازتے ہیں انہیں پارٹی وفاداری بدلنے اور ووٹرز کا اعتماد مجروح کرنے کا کوئی حق نہیں۔ کیونکہ عوامی نمائندگی مقدس فریضہ ہے۔

میاں منظور احمد وٹو نے کہا کہ پنجاب حکومت سیاسی حریفوں کے خلاف انتقامی کارروائی کر رہی ہے اور اس کے لئے پولیس سمیت تمام سرکاری مشینری استعمال کی جا رہی ہے، سیاسی انتقام کی مخصوص سوچ رکھنے والے شہباز شریف ہمارے کارکنوں، عہدیداروں کے خلاف جھوٹے مقدمات درج کرا رہے ہیں۔ انہوں نے بتایا کہ اوکاڑہ اور دیپالپور میں ق لیگ سے ن لیگ میں جانے والے چوروں، ڈاکوﺅں کی سرپرستی کر رہے ہیں، لوگوں پر بے بنیاد مقدمے درج کرا کے دباﺅ ڈال رہے ہیں۔ وفاقی وزیر نے خبردار کیا کہ پنجاب حکومت کے چند روز باقی رہ گئے ہیں، سرکاری مشینری وزیر اعلٰی کے غیر قانونی احکامات نہ مانے۔

انہوں نے کہا کہ پیپلز پارٹی کے پانچ سالہ دور حکومت میں سیاسی انتقام کی کوئی مثال نہیں اور ایک بھی سیاسی قیدی نہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ ہم جمہوری رویے بہتر بنا رہے ہیں، قومی مفاہمت بڑھا رہے ہیں، تاریخ میں پہلی بار ہی ایک منتخب جمہوری حکومت شفاف الیکشن کے ذریعے دوسری منتخب جمہوری حکومت کو اقتدار منتقل کرنے کی جانب بڑھ رہی ہے۔ یہ افسوسناک بات ہے کہ اس صورتحال میں پنجاب حکومت منفی روش اپنائے ہوئے ہے، انہوں نے کہا کہ شہباز شریف مخصوص انتقامی سوچ رکھتے ہیں۔

میاں منظور احمد وٹو نے کہا کہ صوبہ جنوبی پنجاب دیرینہ عوامی مطالبہ ہے اور وہاں بسنے والوں کا حق ہے، پیپلز پارٹی انہیں یہ حق دلوانے اور ان کے مسائل حل کرنے کے لئے عملی اقدام کر رہی ہے، پارلیمانی کمیشن کی سفارشات قائمہ کمیٹی سے منظوری کے بعد پارلیمنٹ میں بھجوا دی گئی ہیں اور امید ہے کہ 16 مارچ سے قبل ہی سینیٹ اور قومی اسمبلی ان کی منظوری دے دے گی۔ انہوں نے کہا کہ یہ عوام کے حقوق کامعاملہ ہے کوئی سیاسی ایشو نہیں، پیپلز پارٹی عوامی خواہشات کا احترام کرتی ہے اور ان کے مسائل حل کرنے کے لئے کوشاں ہے۔ انہوں نے واضح کیا کہ صوبہ جنوبی پنجاب کی مخالفت کرنے کی کسی کو جرات نہیں ہو گی اور جو ایسا کرے گا، انتخابات میں عوام اس کی پکی چھٹی کرا دیں گے۔

ایک سوال کے جواب میں میاں منظور وٹو نے کہا کہ پیپلز پارٹی، ق لیگ اتحاد خوش اسلوبی سے آگے بڑھ رہا ہے، قومی اسمبلی کی نشستوں پر معاملات طے ہو چکے، پنجاب اسمبلی کی نشستوں پر بھی سیٹ ایڈجسٹمنٹ طے ہو گئی ہے، اب ن لیگ کی نشستوں پر متفقہ و مضبوط امیدواروں کا معاملہ بھی طے پانے والا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ جہاں سے جس پارٹی کا امیدوار جیتا تھا اور وہ امیدوار ابھی تک موجود ہے تو وہ نشست اسی پارٹی کو ملے گی۔ انہوں نے بتایا کہ پیپلز پارٹی نے امیدواروں سے 10 مارچ تک درخواستیں طلب کی ہیں۔ ان کی قیادت میں تشکیل دئیے گئے پنجاب پارلیمانی بورڈ کے حوالے سے میاں منظور احمد وٹو نے بتایا کہ امیدواروں کا انتخاب خالصتاً میرٹ، اور جیتنے کی اہلیت پر ہو گا۔ انہوں نے کہا کہ ہم سندھ میں بھاری اکثریت سے کامیاب ہونگے، اس لئے پیپلز پارٹی آسانی سے واضح اکثریت حاصل کرے گی۔

منظور وٹو کا کہنا تھا کہ پیپلز پارٹی نے کئی میگا پراجیکٹس شروع کئے ہیں۔ گلگت بلتستان میں ہائیڈرل پاور منصوبوں سے چالیس ہزار میگا واٹ بجلی پیدا ہو گی جبکہ صرف چار پانچ ہزار شارٹ فال کے باعث ہونے والی لوڈ شیڈنگ کا خاتمہ ہو جائے گا، اس کے لئے کوئلہ سمیت متبادل ذرائع سے توانائی حاصل کرنے کے منصوبوں پر بھی عمل کیا جا رہا ہے، کئی نئے ڈیم بن رہے ہیں اور اس شعبہ میں بھاری بیرونی سرمایہ کاری شروع ہو چکی ہے۔

میاں منظور احمد وٹو نے بتایا کہ انہوں نے اپنی وزارت کے ذریعے توانائی کے شعبہ میں متوقع بھاری بیرونی سرمایہ کاری کو سیل اور فول پروف بنانے کے لئے ون ونڈو آپریشن شروع کرایا ہے اور ایک طاقتور بااختیار پاور بورڈ بنایا گیا ہے، اس بورڈ میں حکومت پاکستان، حکومت گلگت بلتستان، خزانہ، امور کشمیر، گلگت بلتستان، بجلی و پانی اور دیگر متعلقہ محکموں، وزارتوں کے سیکرٹریز بھی شامل ہیں۔ یہ بورڈ سرمایہ کاری کو تیار فزیبیلیٹی پیش کرے گا، اور ون ونڈو آپریشن کے ذریعے انہیں اپنی پسند کے منصوبوں میں سرمایہ کاری کے لئے ہر ممکن سہولیات یقینی بنائے گا۔

ایک سوال پر انہوں نے بتایا کہ پاور بورڈ کے لئے میرٹ پراجیکٹس کی خوش اسلوبی سے کامیابی کے لئے پاکستان پیپلز پارٹی کی منتخب حکومت کو انتخابات میں اپنی تائید سے سرفراز کرنے کا مطالبہ پورا کرتے ہوئے کہا کہ اس جمہوری تسلسل سے اہم قومی ترقیاتی منصوبے مقررہ مدت میں مکمل ہو سکیں گے اور ملک و قوم کو توانائی بحران سے نکلنے اور ترقی و خوشحالی کی راہ پر گامزن ہونے میں مدد ملے گی۔

میاں منظور احمد وٹو نے کہا کہ پیپلز پارٹی نے بینظیر انکم سپورٹس پروگرام کے ذریعے غربت ختم کرنے کی طرف بے مثال کامیابی حاصل کی اور پوری دنیا نے اسے سراہا۔ اب ہم اس کا دائرہ بڑھانا چاہتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ مسائل حل کرنے اور ترقی و خوشحالی کا ہدف حاصل کرنے کے لئے عوامی راج اور بہتر مثبت تعمیری پالیسیوں کا تسلسل بہت ضروری ہے۔ اپنے دیرینہ ساتھیوں کی پیپلز پارٹی میں متوقع شمولیت کے حوالہ سے پوچھے گئے سوال کے جواب میں میاں منظور احمد وٹو نے کہا کہ خادم اعلٰی کی رخصتی قریب ہے، انہیں جا لینے دیں پھر دیکھیں کون کون پیپلز پارٹی میں شمولیت اختیار کرتا ہے۔

انہوں نے کہا کہ یوں تو وزیراعلٰی کی موجودگی میں بھی بہت سے لوگ خصوصا “شیخوپورہ، قصور، سرگودھا، گجرات وغیرہ سے ن لیگ کے متعدد عہدیدار اور ٹکٹ ہولڈرز پیپلز پارٹی میں شامل ہو رہے ہیں تاہم الیکشن شیڈول آنے پر بہت سے ن لیگی رہنما پیپلز پارٹی میں شامل ہو جائیں گے۔ ایک سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ نگران سیٹ اپ پر تمام پارلیمانی و جمہوری قوتوں سے مشاورت جاری ہے۔ انہوں نے کہا کہ این ایف سی ایوارڈ اور آئینی ترامیم کی طرح نگران سیٹ اپ پر بھی بہت جلد قومی اتفاق رائے ہو جائے گا۔ پریس کانفرنس میں تنویر اشرف کائرہ جنرل سیکرٹری، ترجمان پی پی پی پنجاب منیر احمد خان، راجہ عامرخان, دیوان محی الدین، عمر شریف بخاری، شہزاد احمد خان اور دیگر رہنما موجو د تھے۔

پیپلز پارٹی سے بغاوت کرنے والے آرٹیکل باسٹھ تریسٹھ کی کارروائی سے نہیں بچ سکیں گے: میاں منظوروٹو” ایک تبصرہ

  1. وفاداریاں تبدیل کرنے والے نااہلی سے نہیں بچ سکیں گے، میاں منظور احمد وٹو
    لاہور۔۔۔۔۔ پیپلز پارٹی پنجاب کے صدر اور وفاقی وزیر کشمیر امور و گلگت بلتستان میاں منظور احمد وٹو نے کہا ہے کہ وفاداریاں بولنے والوں کے پنجاب اسمبلی سے استعفے پچھلی تاریخ میں منظور کرا کے غیر قانونی اور غیر اخلاقی حرکت کی گئی – یہ جمہوریت ، سپیکر کے منصب کی توہین ہے ، ہم اس کی بھرپور مذمت کرتے ہیں ، لوٹے نااہلی سے نہیں بچ سکیں گے –
    پیپلز سیکرٹریٹ پنجاب میں پرہجوم پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ 15 فروری کو شہباز شریف نے پیپلز پارٹی اور ق لیگ کے چند لوگوں کے ساتھ تصویر کھینچوا کر انہیں اپنے ساتھ شامل کرنے کا بہت چرچا کیا ، ان کے استعفے غیر قانونی طور پر ایک ماہ قبل کی تاریخ 14 دسمبر سے منظور کرا کے انہیں نا اہلی سے بچانے کی کوشش کی گئی ہے تاہم وہ کسی صورت نااہلی سے نہیں بچ سکیں گے – انہوں نے کہا کہ شہباز شریف کا یہ اقدام گھناؤنا اور غیر اخلاقی ہے جو کسی طور پر مناسب نہیں ، موجودہ ملکی ، سیاسی صورتحال میں کہ جب ہم نئے انتخابات اور اقتدار ی جمہوری منتقلی کی جانب گامزن ہیں ، یہ حرکت کسی طور بھی زیب نہیں دیتی –
    میاں منظور احمد وٹو نے کہا کہ یہ عام روایت ہے کہ پیپلز پارٹی جب کسی کو ٹکٹ دیتی ہے تو ان سے استعفے بھی طلب کرتی ہے تاکہ کمٹمنٹ پر کوئی فرق نہ پڑے ، نامزد امیدوار پارٹی اور قیادت سے وفاداری کا حلف بھی اٹھاتے ہیں اس لئے لوٹوں کا عوامی نمائندگی کے لئے نا اہل ہونا یقینی بات ہے ، ان پر آئینی آرٹیکل 62 اور 63 کا اطلاق ہوتا ہے ، رائے دہندگان کا حق ہے کہ وہ جسے اپنے اعتماد سے نوازتے ہیں انہیں پارٹی وفاداری بدلنے اور ووٹرز کا اعتماد مجروح کرنے کا کوئی حق نہیں ، انہوں نے کہا کہ عوامی نمائندگی مقدس کام ہے –
    میاں منظور احمد وٹو نے کہا کہ پنجاب حکومت سیاسی حریفوں کے خلاف انتقامی کارروائی کر رہی ہے اور اس کے لئے پولیس سمیت تمام سرکاری مشینری استعمال کی جا رہی ہے ، سیاسی انتقام کی مخصوص سوچ رکھنے والے شہباز شریف ہمارے کارکنوں ، عہدیداروں کے خلاف جھوٹے مقدمات درج کرا رہے ہیں – انہوں نے بتایا کہ اوکاڑہ اور دیپالپور میں ق لیگ سے ن لیگ میں جانے والے چوروں ، ڈاکوؤں کی سرپرستی کر رہے ہیں، لوگوں پر بے بنیاد مقدمے درج کرا کے دباؤ ڈال رہے ہیں ، ۔
    انہوں نے خبردار کیا کہ پنجاب حکومت کے چند روز باقی رہ گئے ہیں سرکاری مشینری وزیر اعلی کے غیر قانونی احکامات نہ مانے – انہوں نے کہا کہ پیپلز پارٹی کے پانچ سالہ دور حکومت میں سیاسی انتقام کی کوئی مثال نہیں اور ایک بھی سیاسی قیدی نہیں ، انہوں نے کہا کہ ہم جمہوری روئیے بہتر بنا رہے ہیں ، قومی مفاہمت بڑھا رہے ہیں ، تاریخ میں پہلی بار ہی ایک منتخب جمہوری حکومت شفاف الیکشن کے ذریعے دوسری منتخب جمہوری حکومت کو اقتدار منتقل کرنے کی جانب بڑھ رہی ہے – یہ بہت افسوس کی بات ہے کہ اس صورتحال میں پنجاب حکومت منفی روش اپنائے ہوئے ہے ، انہوں نے کہا کہ شہباز شریف مخصوص انتقامی سوچ رکھتے ہیں ۔
    نہوں نے بتایا کہ پیپلز پارٹی نے امیدواروں سے 10 مارچ تک درخواستیں طلب کی ہیں ، ان کی قیادت میں تشکیل دویے گئے پنجاب پارلیمانی بورڈ کے حوالے سے میاں منظور احمد وٹو نے بتایا کہ امیدواروں کا انتخاب خالصتا” میرٹ ، جیتنے کی اہلیت پر ہو گا ، انہوں نے کہا کہ ہم سندھ میں بھاری اکثریت سے کامیاب ہونگے ، اس لئے پیپلز پارٹی آسانی سے واضح اکثریت حاصل کرے گی –
    انہوں نے بتایا کہ پیپلز پارٹی نے کئی میگا پراجیکٹس شروع کئے ہیں ، گلگت بلتستان میں ہائیڈرل پاور منصوبوں سے چالیس ہزار میگا واٹ بجلی پیدا ہو گی جبکہ صرف چار پانچ ہزار شارٹ فال کے باعث ہونے والی لوڈ شیڈنگ کا خاتمہ ہو جائے گا ، اس کے لئے کوئلہ سمیت متبادل ذرائع سے توانائی حاصل کرنے کے منصوبوں پر بھی عمل کیا جا رہا ہے ، کئی نئے ڈیم بن رہے ہیں اور اس شعبہ میں بھاری بیرونی سرمایہ کاری شروع ہو چکی ہے۔
    منظور احمد وٹو نے کہا کہ پیپلز پارٹی نے بینظیر انکم سپورٹس پروگرام کے ذریعے غربت ختم کرنے کی طرف بے مثال کامیابی حاصل ی اور پوری دنیا نے اسے سراہا ، اب ہم اس کا دائرہ بڑھانا چاہتے ہیں ، انہوں نے کہا کہ مسائل حل کرنے اور ترقی و خوشحالی کا ہدف حاصل کرنے کے لئے عوامی راج اور بہتر مثبت تعمیری پالیسیوں کا تسلسل بہت ضروری ہے۔
    اپنے دیرینہ ساتھیوں کی پیپلز پارٹی میں متوقع شمولیت کے حوالہ سے پوچھے گئے سوال کے جواب میں میاں منظور احمد وٹو نے کہا کہ خادم اعلی کی رخصتی قریب ہے انہیں جا لینے دیں پھر دیکھیں کون کون پیپلز پارٹی میں شمولیت اختیار کرتا ہے ، انہوں نے کہا کہ یوں تو وزیر اعلی کی موجودگی میں بھی بہت سے لوگ خصوصا ” شیخوپورہ ، قصور ، سرگودھا ، گجرات وغیرہ سے ن لیگ کے متعدد عہدیدار اور ٹکٹ ہولڈرز ن لیگ چھوڑ کر پیپلز پارٹی میں شامل ہو رہے ہیں تاہم الیکشن شیڈول آنے پر بہت سے ن لیگی رہنما پیپلز پارٹی میں شامل ہو جائیں گے – ایک سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ نگران سیٹ اپ پر تمام پارلیمانی و جمہوری قوتوں سے مشاورت جاری ہے ۔
    دریں اثناء ہفتہ کو قائم مقام برطانوی ڈپٹی ہائی کمشنر سوسان ہائی لینڈ نے وفاقی وزیر سے ان کی رہائش گاہ پر ملاقات کی ۔ لاہورمیں برطانوی ہائی کمیشن کے اعلیٰ عہدیدار مسٹر جیسپر تھورئن اور ہائی کمیشن کی سینئر آفیسر برائے سیاسی امور ارم حیدر بھی اس موقع پر موجود تھیں ۔
    ملاقات کے دوران موجودہ حکومت کی طرف سے جاری ترقیاتی منصوبوں اور آئندہ عام انتخابات کے حوالے سے گفتگو ہوئی ۔ دوران ملاقات میاں منظور احمد وٹو نے قائم مقام برطانوی ڈپٹی ہائی کمشنر کو بتایا کہ موجودہ حکومت نے عوام کی فلاح وبہبود کے لئے جو اہداف مقرر کئے تھے وہ حاصل کرلئے گئے ہیں موجودہ حکومت شفاف اور منصفانہ انتخابات کے لئے پرعزم ہے موجودہ حکومت سولہ مارچ کو اپنی آئینی مدت پوری کرنے کے بعد ختم ہوجائے گی جبکہ آئینی طریقہ کار کے مطابق نگران سیٹ اپ بنے گا جو مقررہ مدت میں انتخابات کو یقینی بنائے گا۔
    انہوں نے کہا کہ وفاقی حکومت نے نوجوانوں کو ملازمتیں خالصتاً میرٹ کی بنیاد پر فراہم کی ہیں جبکہ پاکستان مسلم لیگ (ن) کے دور حکومت میں ملازمتوں سے برطرف کردہ ملازمین کو بحال کیا ہے ڈیلی ویجز اور عارضی ملازمین کو مستقل کردیا گیا ہے سرکاری صنعتی اداروں میں ملازمین کو شراکت دی گئی ہے ملازم پیشہ خواتین کو دوران ملازمت بہتر ماحول فراہم کرنے کے لئے قانون سازی کی گئی ہے پارلیمانی اداروں کو مستحکم کیا گیا ہے ایک آزاد الیکشن کا قیام عمل میں لایا گیا ہے جو شفاف اور منصفانہ انتخابات کی دلیل ہے انہوں نے پاکستان کی تاریخ میں پہلی بار ایک سول حکومت آنے والی سول حکومت کو اقتدار منتقل کرے گی ۔

اپنا تبصرہ بھیجیں