ہمارا ٹارگٹ یہی ہے کہ اگلی حکومت پنجاب میں پیپلز پارٹی کی ہو گی: میاں منظور احمد وٹو

DSC_0556
DSC_0551

پیپلز پارٹی سنٹرل پنجاب کے صدر میاں منظور احمد وٹو نے پنجاب حکومت کو چیلنج کیا ہے کہ وہ مقامی حکومتوں کے انتخابات کرائے اور پیپلز پارٹی پاکستان مسلم لیگ (ن) کو شکست فاش دیگی۔ یہ بات انہوں نے آج ساہیوال میں پیپلز پارٹی کے ورکرز کنونش سے خطاب کرتے ہوئے کہی۔انہوں نے کہا کہ پنجاب کے عوام حکومت کے ہاتھوں سخت نالاں ہیں اور انکی مقبولیت کا گراف بری طرح گر گیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ اِنکے زمانے میں لوگوں کو نہ بجلی مل رہی ہے اور نہ ہی گیس دستیاب ہے جس نے لوگوں کا جینا حرام کیا ہوا ہے۔ میاں منظور احمد وٹو نے تالیوں کی گونج میں یہ اعلان کیا کہ ’’ ہمار ٹارگٹ یہی ہے کہ اگلی حکومت پنجاب میں پیپلز پارٹی کی ہو گی‘‘۔ انہوں نے کہا کہ 1977 کے بعد پیپلز پارٹی کی پنجاب میں کبھی حکومت نہیں بنی جسکی وجہ سے کارکنوں کے مسائل حل نہیں ہو سکے۔ اِن تمام سالوں میں مسلم لیگ (ن) کی پنجاب میں حکومت رہی ہے سوائے اُن ڈھائی سالوں کے جسمیں وہ پنجاب کے وزیر اعلیٰ بنے تھے۔انہوں نے کہا کہ صوبائی حکومت ہی کارکنوں کے لیے سہولیات اور مراعات کر سکتی ہے۔ انکے کام محکمہ تعلیم، صحت، پولیس اسٹیشن سے متعلقہ یا چھوٹی عدالتوں میں ہوتے ہیں جو صوبائی حکومت کے تحت کام کرتی ہیں۔ انہوں نے کہا کہ پیپلز پارٹی پنجاب میں اگلی حکومت بنا کر اُنکی شکایات کا ضرور ازالہ کرے گی۔ میاں منظور احمد وٹو نے کہا کہ کارکن پارٹی کا انمول اثاثہ ہیں اور انہوں نے یقین دلایا کہ آئندہ امیدواروں کو ٹکٹ تقسیم کرتے وقت لوکل پارٹی لیڈرشپ کی سفارشات کو بڑی اہمیت دی جائیگی۔ انہوں نے کہا کہ آئندہ متوقع امیدوار کارکنوں کے پیچھے آئیں گے کہ وہ انکو ٹکٹ دلانے میں تعاون کریں۔ میاں منظور احمد وٹو نے کہا کہ وہ پنجاب کے 26 اضلاع کا تنظیمی دورہ کرنے کے علاوہ کارکنوں سے براہ راست مل رہے ہیں اور پارٹی کو یونین کونسل اور وارڈ کی سطح پر منظم کرنے کے لیے پوری کوشش کر رہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ پارٹی کی ضلعی اور تحصیل سطح پر پنجاب میں تنظیم مکمل ہے۔ میاں منظور احمد وٹو نے اپنی تقریر میں کہا کہ صوبائی مالی وسائل کی بندر بانٹ ہرگز برداشت نہیں کی جائیگی جسمیں علاقائی ترقیاتی تفاوت بدترین شکل اختیار کر گیا ہے۔ انہوں نے مطالبہ کیا کہ پرونشل فنانس کمیشن ایوارڈ فوری تشکیل دیا جائے جو تمام اضلاع کے درمیان منصفانہ طور پر ضلعوں کے درمیان ترقیاتی فنڈز کی تقسیم کرنے کا ذمہ دار ہو۔ انہو ں نے کہا کہ میٹروبس پر جو 74 ارب روپے خرچ کیا گیا ہے اگر یہ پنجاب کے اضلاع کے درمیان تقسیم ہوتا تو پنجاب کے تمام اضلاع کی سڑکیں پکی ہو سکتی تھیں۔میاں منظور احمد وٹو نے شہید ذوالفقار علی بھٹو اور شہید محترمہ بینظیر بھٹو کو زبردست خراج عقیدت پیش کرتے ہوئے کہا کہ وہ قائداعظم کے بعد پاکستان کے سب سے بڑے لیڈر تھے جنہوں نے پاکستان کے غریب عوام کے حقوق کی خاطر اپنی جانوں کا نذرانہ پیش کر دیا۔ انہوں نے کہا کہ جب ڈپٹی کمشنر جنرل ضیاء الحق کا پیغام ذوالفقار علی بھٹو کے پاس اُنکی کال کوکھڑی میں لے کر گیا کہ اگر وہ معافی نامہ پر دستخط کر دیں تو انکی جان بخشی ہو سکتی ہے۔ اس پر بھٹو صاحب نے کہا کہ یہ سر کٹ تو سکتا ہے لیکن جھک نہیں سکتا اور میں تاریخ میں زندہ رہنے کو ترجیح دوں گا۔ انہوں نے کہا کہ اسکے برعکس نواز شریف جیل کے مچھروں اور گرمی کا مقابلہ نہ کر سکے اور ڈکٹیٹر سے معاہدہ کر کے 10 سال کے لیے سعودی عرب چلے گئے۔ انہوں نے کہا کہ انکی مثال دودھ پینے والے مجنوں جیسی ہے۔ میاں منظور احمد وٹو نے کہا کہ انہوں نے اپنے وزارت اعلیٰ کے دوران پنجاب کے 30 ہزار دیہاتوں میں لاکھوں غریب لوگوں کو مالکانہ حقوق دےئے۔ تقریر کے دوران کارکن جےئے بھٹو جےئے بھٹو، کل بھی بھٹو زندہ تھا آج بھی بھٹو زندہ ہے، چاروں صوبوں کی زنجیر بینظیر، آصف علی زرداری سب پہ بھاری کے نعرے لگا رہے تھے۔ اس سے قبل علی نواز علی بھٹی، ضلعی صدر ساہیوال نے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ عمران خان پیپلز پارٹی کی حکومت کے دوران نواز شریف کو طعنہ دیتے تھے کہ وہ پنجاب میں حکومت بھی کر رہے ہیں اور ساتھ ہی اپوزیشن بھی کررہے ہیں۔ اسی طرح عمران خان کے پی کے میں حکومت بھی کر رہے ہیں اور ساتھ ہی اپوزیشن بھی کر رہے ہیں۔ انہوں نے اِن دونوں لیڈروں کے دوہرے معیار کو سیاسی بد دیانتی قرار دیا۔ انہوں نے مزید کہا کہ پنجاب کے وزیر اعلیٰ پیپلز پارٹی کے دور میں بجلی کی لوڈشیڈنگ کے ضمن میں ’’میں باغی ہوں میں باغی ہوں‘‘ گا کر احتجاج کرتے تھے لیکن اب وہ کہاں روپوش ہو گئے ہیں اور اب انہیں مینار پاکستان میں کیمپ لگا کر اپنی ناکامی پر شرمندگی کا اظہار کرنا چاہیے۔ انہوں نے کہا کہ موجودہ حکمران دہشتگردوں سے ملے ہوئے ہیں کیونکہ یہ اُنکو اپنا ووٹ بینک سمجھتے ہیں۔ غلام فرید کاٹھیا نے کہا کہ پیپلز پارٹی جمہوریت کوبچا رہی ہے۔ انہوں نے کہا کہ ’’ جب تیر والے میدان میں آئیں گے، نہ تو شیر والے رہیں گے اور نہ ہی گیند والے‘‘۔ میاں منظور احمد وٹو جب اوکاڑہ ساہیوال میں پہنچے تو بڑی تعداد میں پیپلز پارٹی کے کار کنوں اور پی وائی او نے انکا استقبال کیا۔ انکا 100 گاڑیوں پر مشتمل قافلہ اوکاڑہ سے ساہیوال تک انکے ہمراہ تھا۔ ورکرز کنونشن میں خواتین کی ایک بڑی تعداد موجود تھی۔ میاں منظور احمد وٹو کے ہمراہ سہیل ملک، خرم جہانگیر وٹو، میاں ایوب، میاں وحید، افنان بٹ، عابد صدیقی، احمد شجاء وٹو اور رانا گل ناصر بھی اانکے ہمراہ تھے۔

کیٹاگری میں : News

اپنا تبصرہ بھیجیں