سینیٹ انتخابات: تمام نظریں زرداری پر مرکوز

Picture

اسلام آباد: ان کی پارٹیے حزبِ اختلاف میں موجود ہونے کے باوجود پیپلزپارٹی کے شریک چیئرمین آصف علی زرداری ایک مرتبہ پھر آنے والے سینیٹ کے انتخابات کے حوالے سے رونما ہونے والی سیاست میں ایک مرکزی کھلاڑی کے طور پر اُبھر کر سامنے آئے ہیں۔
پچھلے چند دنوں کے دوران پی ٹی آئی کے سربراہ عمران خان سمیت تقریباً تمام سیاسی جماعتوں کے سربراہوں نے سابق صدر کے ساتھ رابطہ کیا ہے۔
آصف علی زرداری مجوزہ بائیسویں ترمیم پر حکومت کی جانب سے طلب کی گئی کثیر جماعتی کانفرنس کے بعد جمعرات کو اسلام آباد پہنچے تھے۔
اتوار کے روز آصف زرداری نے جمعیت علمائے اسلام ف کے سربراہ مولانا فضل الرحمان سے دو دنوں کے دوران دوسری مرتبہ ملاقات کی اور جماعت اسلامی کے سربراہ سراج الحق کے ساتھ بھی بات کی۔ دونوں کے ساتھ بات چیت کا موضوع جمعرات کو ہونے والے سینیٹ کے انتخابات تھے۔
حالیہ مہینوں کے دوران پیپلرپارٹی اور پی ٹی آئی کے بیچ ہونے والی تلخیوں کو دیکھتے ہوئے سیاسی مبصرین نے آصف زرداری اور عمران خان کے درمیان ٹیلی فون پر بات چیت کو ایک ’’اہم سیاسی پیش رفت‘‘ قرار دیا۔
انہوں نے کہا کہ یہ تمام پیش رفت سابق وزیرداخلہ رحمان ملک کی سربراہی میں پیپلزپارٹی کے ایک وفد کی کے پی کے وزیراعلیٰ کے ساتھ ملاقات کے بعد سامنے آئی تھی۔
شیریں مزاری نے دعویٰ کیا کہ دراصل عمران خان نے سینیٹ کے انتخابات میں اوپن بیلیٹنگ کے لیے مجوزہ ترمیم کی حمایت کے لیے آصف زرداری سے کہا تھا۔انہوں نے کہا کہ عمران خان نے پیپلزپارٹی کے رہنما کو بتایا کہ اس طرح کی ایک ترمیم ملک میں جمہوریت اور جمہوری اقدار کو مضبوط بنائے گی۔
آصف علی زرداری کے ترجمان سینیٹر فرحت اللہ بابر نے کہا کہ تمام سیاسی جماعتیں سینیٹ کے انتخابات میں پیسے کے استعمال کے رجحان پر یکساں فکرمند ہیں اور ایسے رجحان کی حوصلہ شکنی کرنا چاہتی ہیں۔‘‘
تاہم انہوں نے مزید کہا کہ پیپلزپارٹی سینیٹ میں اوپن بیلیٹ کے تصور کی حمایت کے لیے تیار نہیں ہے۔
اس سے قبل یہاں اتوار کے روز جے یو آئی ایف کے سربراہ مولانا فضل الرحمان سے ملاقات کے بعد صحافیوں سے بات چیت کرتے ہوئے آصف زرداری نے وزیراعظم نواز شریف کو مشورہ دیا کہ وہ اعلیٰ ظرفی کا مظاہرہ کرتے ہوئے دیگر جماعتوں کے لیے کچھ نشستوں کی قربانی دے دیں، تاکہ سینیٹ کے انتخابات کے ہموار عمل کو یقینی بنایا جاسکے، جس طرح 2012ء میں سینیٹ کے گزشتہ انتخابات کے دوران انہوں نے بطور صدر کیا تھا۔
اسی دن کی ابتداء میں مولانا فضل الرحمان اور پیپلزپارٹی کے دیگر رہنماؤں کے ہمراہ آصف علی زرداری نے یاد دلایا کہ کس طرح 2012ء میں عوامی نیشنل پارٹی (اے این پی)، متحدہ قومی موومنٹ (ایم کیو ایم) اور پیر پگارا کی مسلم لیگ فنکشنل کو ان کے استحاق سے بڑھ کر نشستوں کی پیشکش کرکے ایک مفاہمت پر پہنچے تھے۔
زرداری نے کہا کہ ’’میاں صاحب (نواز شریف) بھی اسی فارمولے کو اپناتے ہوئے آج بھی اسی طرح کے ایک معاہدے تک پہنچ سکتے ہیں۔ جب آپ اقتدار میں ہوتے ہیں، تو آپ کو لازماً اپنا سر جھکا کر رکھنا پڑتا ہے۔‘‘
انہوں نے افسوس کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ جب انہوں نے ماضی میں سینیٹ کے ہموار انتخابات کو یقینی بنایا تھا تو بعض حلقوں نے اس پر تنقید کرتے ہوئے ان کے اس اقدامات کو ’حاکمانہ‘ قرار دیا تھا۔
آصف علی زرداری نے کہا ’’اور اب جبکہ وہ ایسا کچھ نہیں کررہے ہیں، تو اس کو انتخابات میں ہارس ٹریڈنگ کہا جارہا ہے۔‘‘
انہوں نے کہا کہ انتخابی اصلاحات اور دھاندلی جیسے بڑے معاملات کو چاردنوں کے اندر اندر حل نہیں کیا جاسکتا، ’’اور یہی وجہ ہے کہ ہم نے بائیسویں ترمیم کی مخالفت کی ہے۔‘‘
پیپلزپارٹی کے شریک چیئرمین نے اعلان کیا کہ ان کی پارٹی جلد ہی ایک وہائٹ پیپر جاری کرے گی، جس کے اندر ملک میں منعقدہ پچھلے تمام انتخابات میں کی گئی دھاندلیوں اور بدعنوانیوں کو بے نقاب کیا جائے گا۔
انہوں نے کہا ’’پیپلزپارٹی جلد ہی ایک وہائٹ پیپر شایع کرے گی، جس میں تمام انتخابات کے بارے میں تفصیلات فراہم کی جائیں گی۔جس کی جانچ کے بعد ہم ترامیم اور انتخابی اصلاحات تیار کریں گے۔‘‘
پیپلزپارٹی کے رہنما نے کہا کہ وہ انتخابی حکام کو مزید بااختیار اور خود مختار بنانے کی کوشش کریں گے، جیسا کہ ترقی یافتہ ملکوں میں عمل کیا جاتا ہے۔
ان کا مزید کہنا تھا کہ ’’ہم چاہتے ہیں کہ انتخابی ادارے کے پاس خود اپنا عملہ ہو، انہیں اپنی حکمتِ عملی خود تیار کرنی چاہیے، انہیں اختیارات ملنے چاہییں اور انہیں ٹیچروں، ڈی سی اوز یا صوبائی حکومتوں پر انحصار نہیں کرنا چاہیے۔‘‘
ایک سوال کے جواب میں زرداری نے کہا کہ ان کی جماعت چاہتی ہے کہ پارلیمنٹ اپنی پانچ سالہ مدت پوری کرے، اور اس بات کو یقینی بنانے کے لیے ہر ممکن کوشش کی جائے گی۔
انہوں نے اپنے بیٹے بلاول بھٹو زرداری کے ساتھ اختلافات پر مبنی رپورٹوں کی دوٹوک الفاظ میں تردید کی۔
ایک اور سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ یہ ان کی ذمہ داری نہیں ہے کہ وہ پی ٹی آئی کو پارلیمنٹ میں واپس لے کر آئیں۔ انہوں نے کہا ’’جو کوئی اقتدار میں ہے، اس کو ایسا کرنا چاہیے۔‘‘
پیپلزپارٹی کے رہنما ن کہا کہ انہیں خوشی ہے کہ مسلم لیگ ن اور پی ٹی آئی ایک دوسرے کے قریب آرہے ہیں۔

Source: DAWN News

کیٹاگری میں : News

اپنا تبصرہ بھیجیں