Chairman and Deputy Chairman of Senate will be from PPP: Mian Manzoor Ahmed Wattoo‏

Chairman and deputy Chairman of the Senate will be from the Pakistan People’s Party, said Mian Manzoor Ahmed Watoo, President PPP Central Punjab, while addressing a press conference here today.
He stated that the PPP had emerged as the single largest Party in the Senate adding with the support of ANP, MQM, PML (Q), JUI (F), FATA and Independents it would be in a position to get its candidate elected for the two top slots of the Senate.
He strongly criticized the promulgation of the Presidential Ordinance in the middle of the night that deprived the FATA members to take part in the elections. It was insult of the members and the people of the FATA and they would never support the government as a reaction to political drone attack adding the government was responsible for making the elections controversial.
He pointed that the PPP held elections of Senate in 2012 and there was not a single voice pointing to horse trading because the consensus among all stakeholders was reached under the leadership of Asif Ali Zardari and senators were elected unopposed.
He mentioned that the former President advised the government not to pursue the 22 amendment during short span of time and instead reach out the other political parties on the basis of give and take to stall the chances of horse trading in the elections. The advice seemed to have fallen on the deaf ear of the government, he observed.
He said that there was no substitute to experience and the PTI gave one seat to PML (N) in a silver plate by boycotting the elections in the province of Punjab.
Mian Manzoor Ahmed Wattoo also criticized the PTI leadership for unnecessarily intimidating its members and casting aspersions on their credibility. It was beyond comprehension to understand the rational as why PTI boycotted the elections in three provinces and decided to contest the same in KPK, he observed

He expressed his gratitude to the PML (Q) leadership for supporting the PPP candidate in the election and also those PML (N) members including independent for casting their vote in favor of Nadeem Afzal Chann.
He said that the Punjab Chief Minister did not accord due respect to the parliamentarians adding only recently he started meeting them along with giving them development funds. This generosity was pre-poll rigging indeed, he added.
He held out the promise to award tickets to the dissidents of PML (N) if the mother Party took disciplinary action against those who voted in favor of PPP candidate in Senate elections.
He further said that the PPP had been pursuing the policy of reconciliation for the sake of democracy and its continuity because for Party democracy was non-negotiable. It was wrong impression that PPP was supporting the government adding that PPP had proved as the real opposition Party by contesting elections of Senate in Punjab, he argued.
While responding to media questions he said that the PPP was contesting bye-elections in NA-137 and the tough contest was between the PPP candidate, Roy Shah Jehan Bhatti and the PML (N) candidate adding that the PPP was confident to win the seat.
He said that he had completed the organizational tour of six districts and was extremely happy with the outcome because the workers were fully prepared to stage come back. Their recommendations would be duly acknowledged and incorporated in the working paper for the Party.
Those who were present in the press conference were Tanvir Ashraf Kaira, Suhail Milk, Dewan Mohyuddin, Abid Siddique, Rana Gul Nasir, Dr.Khayyam, Farooq Aslam, Imran Rathore etc.

سینیٹ کا چیئرمین اور ڈپٹی چیئرمین پیپلز پارٹی سے ہو گا۔ یہ بات پیپلز پارٹی سنٹرل پنجاب کے صدر میاں منظور احمد وٹو نے آج یہاں پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کہی۔ انہوں نے کہا کہ پیپلز پارٹی حالیہ سینیٹ کے الیکشن کے بعد سب سے بڑی واحد پارٹی منتخب ہوئی ہے ۔انہوں نے مزید کہا کہ اے این پی، ایم کیو ایم، پی ایم ایل کیو، جے یو آئی (ف)، فاٹا اور آزاد اراکین کے تعاون سے پارٹی سینیٹ کی ان دو اعلیٰ ترین عہدوں کو حاصل کر لے گی۔ انہوں نے آدھی رات کے وقت صدارتی آرڈیننس کے اجراء کو ہدف تنقید بناتے ہوئے کہا کہ اس سے فاٹا کے اراکین اسمبلی کو ووٹ دینے کے حق سے محروم کیا گیا ہے جو کہ ان کی توہین کے مترادف ہے۔ انہوں نے کہا کہ فاٹا کے عہدیداران رد عمل کے طور پر حکومت کا ساتھ نہیں دیں گے۔ انہوں نے کہا کہ اسکی وجہ سے سینیٹ کے انتخابات کسی حد تک متنازعہ بھی ہو گئے ہیں۔ انہوں نے یاد دلایا کہ پیپلز پارٹی نے سینیٹ کے 2012 میں انتخابات کرائے تھے اور کسی طرف سے بھی ہارس ٹریڈنگ کی کوئی آواز سنائی نہیں دی تھی۔ انہوں نے مزید کہا کہ سابق صدر آصف علی زرداری نے تمام سیاسی قوتوں سے مفاہمت پیدا کر کے ہارس ٹریڈنگ کی لعنت سے مکمل نجات حاصل کر لی تھی۔ انہوں نے کہا کہ اس حکومت نے بائیسویں ترمیم پاس کرانے کے لیے جلد بازی سے کام لیا جسکا کوئی فائدہ نہیں ہوا۔ انہوں نے کہا کہ آئین میں ترمیم لانے کے لیے یہ ضروری تھا کہ اس سے پہلے تمام سیاسی قائدین سے مشاورت کر کے مفاہمت پیدا کی جاتی۔ میاں منظور احمد وٹو نے کہا کہ تجربے کا کوئی متبادل نہیں ہے۔ اس ضمن میں انہوں نے کہا کہ پی ٹی آئی نے پنجاب میں سینیٹ کے الیکشن کا بائیکاٹ کر کے حکومتی پارٹی کو چاندی کی پلیٹ میں رکھ کر ایک سیٹ دے دی۔ انہوں نے مزید کہا کہ لوگ یہ سمجھنے سے قاصر ہیں کہ پی ٹی آئی نے 3 صوبوں میں سینیٹ کے الیکشن کا بائیکاٹ کیا اور کے پی کے میں اس میں حصہ لیا جو کسی حدتک پی ٹی آئی کے دوہرے معیار کی نشاندہی کے مترادف ہے۔ انہوں نے پی ایم ایل (کیو) کی قیادت کا دلی شکریہ ادا کیا جس نے پیپلز پارٹی کے سینیٹ کے امیدوار ندیم افضل چن کو ووٹ دےئے۔ انہوں نے کہا کہ پنجاب کے وزیراعلیٰ ارکان اسمبلی کو وہ عزت نہیں دیتے جس کے وہ حقدار ہیں۔ انہوں نے مزید کہا کہ اب الیکشن سے پہلے انہوں نے اراکین اسمبلی کو شرف ملاقات بھی بخشا اور انہیں ترقیاتی فنڈز بھی دےئے جو حقیقت میں پری پول دھاندلی ہے۔ انہوں نے وعدہ کیا کہ حکومتی پارٹی کے جن اراکین نے پیپلزپارٹی کے سینیٹ کے امیدوار کو پنجاب میں ووٹ دےئے ہیں وہ ان کو پارٹی کا ٹکٹ دیں گے اگر حکومتی پارٹی نے پیپلز پارٹی کے امیدوار کو ووٹ دینے کی پاداش میں انکے خلاف کوئی کارروائی کی۔ انہوں نے کہا کہ پیپلز پارٹی جمہوریت اور اسکے تسلسل کی خاطر مفاہمت کی پالیسی پر عمل پیرا ہے کیونکہ جمہوریت پر پیپلز پارٹی کا ایمان کی حد تک یقین ہے۔ انہوں نے کہا کہ پیپلز پارٹی نے سینیٹ کے انتخاب کے لیے اپنا امیدوار کھڑا کر کے صحیح اپوزیشن پارٹی کے کردار کو ثابت کیا ہے۔ میڈیا کے ایک سوال کا جواب دیتے ہوئے میاں منظوراحمد وٹو نے کہا کہ این اے 137 میں کانٹے دار مقابلہ پیپلز پارٹی اور حکومتی پارٹی کے درمیان ہو گا۔ انہوں نے امید ظاہر کی کہ پیپلز پارٹی کا امیدوار رائے شاہ جہاں بھٹی یہ سیٹ جیت لے گا۔ انہوں نے پنجاب کے 6 اضلاع کے تنظیمی دورے مکمل کر لئے ہیں اور وہ انکے نتائج سے پوری طرح مطمئن ہیں۔ انہوں نے مزید کہا کہ کارکن پارٹی کو فعال بنانے میں پرعزم ہیں۔ پریس کانفرنس میں جو لوگ موجود تھے ان میں تنویر اشرف کائرہ، سہیل ملک، دیوان محی الدین ، اورنگزیب برکی، ڈاکٹر خیام ، عابد صدیقی ، رانا گل ناصر ، فاروق اسلم اور عمران اٹھوال موجود تھے۔

کیٹاگری میں : News

اپنا تبصرہ بھیجیں