‘مسلم لیگ ن کے اندر ایک گہری دراڑ موجود ہے’ ندیم افضل چن

NAC

پنجاب سے پاکستان پیپلزپارٹی کے تجربہ کار سیاست دان نے سینیٹ کے حالیہ انتخابات میں اپنے آبائی صوبے سے عام نشست پر حصہ لیا اور ہار گئے۔ انہوں نے اس اقدام کے پس پردہ وجوہات اور صوبائی اسمبلی میں پیپلزپارٹی کی محدود تعداد کے باوجود پنجاب میں پارٹی کی مجموعی صورتحال پر ڈان کے ساتھ بات چیت کی۔

سوال: پنجاب سے سینیٹ کی نشست پر آپ نےحصہ لینے کا فیصلہ کیا، اس کے پس پردہ کیا وجوہات تھیں، جبکہ پنجاب میں آپ کی پارٹی اور اس کی اتحادی جماعت پاکستان مسلم لیگ قائد کے پاس جیتنے کے لیے اراکین کی کافی تعداد نہیں ہے؟

جواب: دراصل ہم پی ایم ایل این کے لیے میدان خالی چھوڑنا نہیں چاہتے تھے۔ اسی لیے ہم نے (پنجاب اسمبلی میں) جیت کے لیے مطلوبہ ووٹوں کی تعداد نہ ہونے کے باوجود مقابلہ کرنے کا فیصلہ کیا۔

ہم سب جانتے ہیں کہ پی ایم ایل این کو حاصل مینڈیٹ حقیقی نہیں ہے۔ ہم اس کے جعلی مینڈیٹ کا بے نقاب کرنا چاہتے ہیں۔ اور ہم نے ایسا ہی کیا۔

جب ہم نے سینیٹ کے الیکشن میں حصہ لینے کا فیصلہ کیا تو ہمارے پاس 16 ووٹ تھے، پیپلزپارٹی کے آٹھ اور مسلم لیگ ق کے آٹھ۔ لیکن مجھے الیکشن کے روز 27 ووٹ حاصل ہوئے۔ ان ووٹوں میں تین ووٹ آزاد اراکین کے اور آٹھ مسلم لیگ ن کے اراکین کے تھے۔

مجھے دیے جانے والے (پی ایم ایل این کے اراکین کی جانب سے کاسٹ کیے گئے) تین ووٹوں کو غیرقانونی قرار دے دیا گیا تھا۔ اور پھر سات آٹھ بیلیٹ پیپرز مسلم لیگ ن کے اراکین نے خالی چھوڑ دیے تھے۔

لہٰذا آپ دیکھیں کہ مسلم لیگ ن میں اس کی پارٹی قیادت کے خلاف ایک چھوٹی سی بغاوت تیار ہورہی ہے، محض یہی وجہ ہے کہ ہم نے اس کے لیے میدن خالی نہیں چھوڑا۔

اس کے علاوہ جب ہم نے پنجاب سے سینیٹ کی نشست کے الیکشن میں حصہ لینے کا فیصلہ کیا تو کچھ کا خیال تھا کہ صوبائی اسمبلی میں ہمارے اراکین حکمران جماعت کے حق میں چلے جائیں گے۔

لیکن ایسا کچھ نہ ہوا۔ اس کے بجائے ہم نے ایوان میں اپنی موجودہ طاقت سے بڑھ کر مزید ووٹ حاصل کرلیے۔ اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ پیپلزپارٹی متحد ہے۔ تاہم آپ ایسا ہی کچھ ن لیگ کے لیے نہیں کہہ سکتے۔

سوال: پنجاب میں آپ نے مقابلے کا راستہ اختیار کیا، اگرچہ آپ کے پاس عددی قوت نہیں تھی۔ لیکن سندھ میں پیپلزپارٹی ایم کیو ایم کے ساتھ انتخابی اتحاد کرتے ہوئے ان کے ساتھ نشستوں کا اشتراک کیا۔ درحقیقت آپ نے ایم کیو ایم کو اس کے حصے سے زیادہ دیا۔ کیا آپ نہیں سمجھتے کہ پنجاب اور سندھ میں جاری پارٹی کی پالیسیوں میں تضاد پایا جاتا ہے؟

جواب: ایسا بالکل نہیں ہے۔ سندھ میں ہم نے ایم کیو ایم کو صوبے میں اس کا حصہ دیا ہے۔ اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ پیپلزپارٹی ہموار اور منصفانہ انتخاب چاہتی ہے۔

اس کے علاوہ ہم چاہتے ہیں کہ ہر ایک پارٹی کی سینیٹ میں اس کی اسمبلیوں میں قوت کے مطابق نمائندگی ہو۔ پنجاب میں مسلم لیگ ن نے حزبِ اختلاف کی جماعتوں کو ان کا حصہ نہیں دیا۔ یہی وجہ ہے کہ ہم نے اسے چیلنج کیا۔

حزبِ اختلاف صوبائی اسمبلی میں اپنی تعداد کی بنیاد پر ایک نشست حاصل کرنے کا حق رکھتی ہے۔ مسلم لیگ ن کو چاہیے تھا کہ وہ اس نشست کی پیشکش کرتی، چاہے پاکستان تحریک انصاف نے پنجاب سے سینیٹ کے الیکشن میں حصہ نہ لینے کا فیصلہ کیا تھا۔

سوال: کیا آپ کی پارٹی نے پی ایم ایل این کے کلین سوئپ کا راستہ روکنے کی خاطر پی ٹی آئی کو صوبائی اسمبلی میں واپسی پر قائل کرنے کے لیے بات کی تھی؟

جواب: ہم نے کیا تھا، لیکن انہوں نے انکار کردیا۔

سوال: پنجاب میں سینیٹ کے الیکشن سے پی ٹی آئی کے باہر رہنے سے حزبِ اختلاف کے پاس آئندہ کے لیے جیت کا کوئی موقع باقی رہ گیا ہے۔ کیا اس ہاری ہوئی جنگ میں لڑنے کا انتخاب آپ کا اپنا تھا، یا پھر پارٹی نے آپ کے لیے یہ فیصلہ کیا تھا۔؟

جواب: یہ فیصلہ دونوں کا تھا۔ میں مقابلے میں حصہ لینا چاہتا تھا، اورپارٹی نے مجھے ٹکٹ دے دیا۔ یہاں منظور وٹو، قمر زمان کائرہ، حیدر زمان اور ملک حاکمین خان بھی موجود تھے، جنہوں نے ٹکٹ کے لیے اس امید پر درخواست دی تھی کہ پی ایم ایل این یہ نشست پیپلزپارٹی کو خیرات کردے گی۔ تاہم میں یہ جانتا تھا کہ نہ تو (سابق صدر آصف علی) زرداری نواز شریف کو (ان کی حمایت کے لیے) ٹیلیفون کریں گے، اور نہ ہی پی ایم ایل این ایسی کسی تجویز پر اتفاق کرے گی۔ ہوسکتا ہے کہ اگر میری جگہ کوئی اور ہوتا تو مسلم لیگ ن یہ سیٹ پیپلزپارٹی کو دینے کی پیشکش کرتی۔ لیکن میں حتمی طور پر نہیں کہہ سکتا۔

سوال: آخر آپ کو کیوں نہیں، اور کسی دوسرے کو کیوں؟

جواب: اس لیے کہ میں صوبے کی حکمران جماعت پر سب سے زیادہ تنقید کرتا ہوں۔

سوال: سینیٹ کے انتخابی عمل پر دھاندلی کے الزامات لگائے گئے تھے، خاص طور پر خیبرپختونخوا اور بلوچستان میں۔ پنجاب کے بارے میں آپ کا تجزیہ کیا ہے؟

جواب: میں نہیں سمجھتا کہ پنجاب میں انتخابی عمل کافی شفاف تھا۔ حکمران جماعت اپنے تمام امیدواروں کی کامیابی کو یقینی بنانے کے لیے جو کچھ کرسکتی تھی، اس نے کیا۔

ن لیگ کی قیادت تمام نشستیں جیتنے کے لیے اپنے اراکین پر دباؤ ڈال رکھا تھا۔ پھر بھی حکمران جماعت کے کوئی گیارہ اراکین نے مجھے ووٹ دیا۔ یہ بے وفائی مسلم لیگ کے اندر گہری دراڑ کی موجودگی کو ظاہر کرتی ہے۔ یہ شگاف مزید گہری ہوگی اور اگلے عام انتخابات کے قریب پہنچ کر مزید واضح ہوجائے گی۔

سوال: پیپلزپارٹی نے مقبول سیاست سے کیوں گریز کیا ہے؟

جواب: پیپلزپارٹی نے مقبول سیاست سے گریز نہیں کیا۔ ہم جانتے ہیں کہ لوگ پارٹی کے ساتھ خوش نہیں ہیں۔ اس لیے کہ پارٹی کی قیادت دہشت گردی کے خطرات کی وجہ سے عوام تک نہیں پہنچ سکی ہے۔ لیکن جب ہماری قیادت عوام کے پاس واپس آئے گی، ہم کھویا ہوا میدان دوبارہ مار لیں گے۔ چار اپریل کو بلاول وطن واپس آرہے ہیں، اس دن ان کے نانا کو جنرل ضیاء نے پھانسی دی تھی۔ ہم مقامی حکومتوں کے انتخابات میں پوری تیاری کے ساتھ حصہ لیں گے اور کامیابی حاصل کریں گے۔ پنجاب میں پیپلزپارٹی کی مقبولیت پر شک نہ کریں۔

سوال: 2013ء کے انتخابات کے بعد ایسی افواہیں تھیں کہ آپ کیا پی ٹی آئی میں شامل ہونے کا ارادہ کیا تھا۔ کیا آپ نے کبھی اس پر غور کیا تھا؟

جواب: کبھی نہیں۔ ایسے لوگ جو پیپلزپارٹی کے کلچر کے عادی ہوں، کسی دوسری پارٹی میں ایڈجسٹ نہیں ہوسکت

Source: DAWN

کیٹاگری میں : News

اپنا تبصرہ بھیجیں