پاکستان پیپلز پارٹی اور خواتین -ریاض حسین بخاری

zardari-bilawal-bisp-inp-670

علامہ اقبال نے فرمایا
وجود زن سے تصویر کائنات میں رنگ
میرے پیارے پاکستان کے عالمِ وجود میں آنے سے پہلے خواتین نے علامہ ڈاکٹر محمد اقبال کے خواب کو عملی تعبیر دینے میں اہم کردار ادا کیا تھا اور مردوں کے شانہ بشانہ اس جد و جہد میں شریک رہیں جس جد وجہد کے نتیجے میں مملکتِ اسلامیہ جمہوریہ پاکستان کا وجود عمل میں آیا۔ان خواتین میں سرِ فہرست محترمہ فاطمہ جناح کا نام آتا ہے۔ ان کے ساتھ ساتھ بیگم رعنا لیاقت علی خان (جو بعد میں گورنر سندھ بھی رہیں) علی خاں اور دیگر خواتین کا نام آتا ہے۔ پاکستان کے معرضِ وجود میں آنے کے بعد بھی خواتین اس کی ترقی میں برابر کی شریک کار رہیں ہیں۔ یہاں تک کہ محترمہ فاطمہ جناح نے ایوب آمریت کے دور میں صدارتی الیکشن میں جنرل ایوب خان کا مقابلہ کیا۔ الیکشن مہم کے دوران پورے پاکستان کی عوام ڈکٹیٹر سے بھر پور نفرت کا اظہار کرتی رہی اور محترمہ فاطمہ جناح سے اپنی بھر پور محبت اور عقیدت کے اظہار کے لیے دیوانہ وار ان کے ہمرکاب رہی ۔ اس وقت کے آمر نے طاقت اور پیسے کو زور پر ان چند گنے چنے ووٹرز( جو بی ڈی ممبر کی صورت میں موجود تھے )خرید لیا۔ جن کی تعداد پورے مشرقی پاکستان اور مغربی پاکستان میں محض 80سے 85ہزار تھی اور پورے عوام کی خواہشات کے برعکس ان بکائو لوگوں نے جنرل ایوب کو صدر پاکستان منتخب کر لیا۔
جنرل ایوب خان کے دورِ اقتدار میں ہی ایک سویلین سیاست دان جناب ذوالفقار علی بھٹو پہلے وزیر ِکامرس اور بعد میں وزیر خارجہ کی حیثیت سے اپنا لوہا منواچکے تھے اور جب انہوں نے معاہدہ تاشقندکی وجہ سے ایوبی آمریت کا ساتھ چھوڑنے کا اصولی فیصلہ کیا تو پورے پاکستان کے عوام نے ان کی راہ میں اپنی آنکھیں بچھا دیں اور ہر طبقہ عوام کی طرح خواتین نے بھی ان کی جد و جہد میں شریک ہونے کا فیصلہ کیا اور پھر ایوب آمریت کے خلاف ایک ملک کیر تحریک چلی جس کے سامنے ایوبی آمریت ریت کی دیوار ثابت ہوئی پھر پاکستان کے واحد غیر جانبدارانہ انتخابات کے نتیجے میں پاکستان پیپلز پارٹی ایوانِ اقتدار میں پہنچی ۔ جن خواتین نے اس وقت اپنی پہچان بنائی ان میں محترمہ بیگم نصرت بھٹو پیش پیش تھیں جنہوں نے بعد میں حالات کے ہاتھوں مجبور ہو کر پی پی پی کی قیادت بھی سنبھالی۔ جن ظلم و ستم اور صبر و برداشت کا سامنا محترمہ نصرت بھٹو نے کیا وہ تاریخ کا حصہ ہے۔ محترمہ نصرت بھٹو نے ثابت کر دیا کہ زندگی کے ہر میدان کی طر8ح میدانِ سیاست کی کار زار وادی میں بھی خواتین مردوں سے کم نہیں ہیں۔ اس دور میں چند دیگر خواتین بھی میدانِ سیاست پر ابھرتی نظر آئیں۔ جن میں بیگم نسیم ولی خان بھی شامل ہیں۔ ایوب آمریت کے خاتمہ تک خواتین کو ملکی سیاست میں کوئی مقام حاصل نہیں تھا اور آبادی کا نصف حصہ ہونے کے باوجود اسمبلی میں ان کی تعداد شاید نہ ہونے کے برابر تھی اور وہ محض گھر کی چار دیواری تک محدود کر دی گئی تھیں۔لیکن ذوالفقار علی بھٹو جو ایک بڑے جاگیردار گھرانے سے تعلق رکھنے کے باوجود لبرل مائنڈ واقع ہوئے تھے انہوں نے خواتین کو گھر سے باہر نکال کر ملک کی خدمت میں عملی کردار ادا کرنے کی طرف راغب کیا۔ محترمہ بیگم نصرت بھٹو عملی طور پر ان کے ہم رکاب رہیںاور ان کی کوششوں اور پالیسیوں کی وجہ سے خواتین نے ملکی ترقی میں اہم کردار ادا کرنے کے ساتھ ساتھ سیاست میں بھی اپنا کردار ادا کرنا شروع کیا۔
باقی سیاسی جماعتوں کے برعکس پاکستان پیپلز پارٹی ہی وہ واحد جماعت تھی جس نے خواتین کے متعلق مربوط پالیسیاں ترتیب دیں اور ان کو مردوں کے مساوی حقوق دینے کی کوشش کی ۔ اس میں و ہ کس قدر کامیاب ہوئی اس کا فیصلہ تاریخ کرے گی۔ لیکن آج جو خواتین عملی سیاست میں بھر پور اور شاندار کردار اداکرتی نظر آرہی ہیں ان کی بنیاد پاکستان پیپلز پارٹی نے ہی رکھی۔لیکن ان سب کوششوں کو باہم عروج محترمہ بے نظیر بھٹو شہید کے میدانِ سیاست میں آنے سے حاصل ہوا۔ ان کی سیاسی تربیت تو جناب ذوالفقار علی بھٹواپنے دور اقتدار میں شروع کر چکے تھے اور محترمہ شہید کی عملی سیاست میں آنے سے پاکستانی خواتین کو نہ صرف ملکی بلکہ عالمی سطح پر بھی پذیرائی حاصل ہوئی۔ محترمہ بے نظیر بھٹو شہید نے خواتین کو آگے بڑھنے کے ان گنت مواقع فراہم کئے۔ یہی پارٹی خواتین کے حقوق کی علمبردار بن کر سامنے آئی اور ایک رجعت پسند انہ اور آمریت زدہ معاشرہ سے عورت کا اس طرح سامنے لایا جانا کسی طرح بھی ان رجعت پسندوں کو نہ بھایا۔ جس کی سب سے بڑی مثال یہ تھی کہ جب محترمہ شہید 1988ء کے انتخابات جیت کر اقتدار میں آئیں تو ان کے وزیر اعظم بننے کے خلاف ان قوتوں نے بھر پور مہم چلائی اور مذہبی طور پر ان کے وزیر اعظم بننے کے خلاف فتوے دیئے گئے۔ مگر وہ ڈٹی رہیں اور آخر کار ان رجعت پسندوں کو شکست دینے میں کامیاب ہوئیں اور ثابت کیا کہ عورت کسی بھی طرح کسی بھی میدان میں مردوں سے کم نہیں۔ یہ کامیابی دیگر خواتین کے لیے مشعل ِ راہ ہے۔ انہوں نے خواتین کے لیے متعدد اقدامات کئے جو خواتین کی ترقی (جو در اصل ملک کی ترقی ہے ) میں بنیادی مقام رکھتے ہیں۔
محترمہ شہید حقوق نسواں کی آزادی بہت بڑی داعی تھی۔ انہوں نے جہاں جہاں ممکن ہوا خواتین کو بلا امتیاز آگے بڑھنے کے مواقع فراہم کئے۔ اس وقت میڈیا اس قدر ترقی یافتہ اور آزاد نہیں تھا اور نہ ہی موجودہ وقت جیسی سہولتیں میسر تھیں جس وجہ سے عوام تک رسائی اتنی آسان نہیں تھی۔ اس کے باوجود قومی سطح پر کئی خواتین نے اپنا نام بنایا۔ لیکن بی بی شہید جیسا مقام تو نہ بنا سکیں مگر پھر بھی قومی اور بین الاقوامی طور پر ان کی خدمات کا اعتراف کیا گیا۔ جن خواتین کی صلاحیتوں کو ابھرنے کا موقع ملا انہوں نے اس کا بھر پور فائدہ اٹھایا۔ ان خواتین میں ڈاکٹر ملیحہ لودھی اور بیگم سیدہ عابدہ حسین نے تو غیر ملکی سفارتکاری کے فرائض بھی سر انجام دیئے ۔ لیکن وہ خواتین جو محترمہ کے ہمرکاب رہیں ان میں بے شمار اب عملی سیاست میں اپنا اہم کردار اداکرتی نظر آرہی ہیں۔ ان خواتین میں محترمہ فریال تالپور، شازیہ عطا مری، محترمہ عذار پیچو ہو، شرمیلا فاروقی ، شہلا رضا، فرزانہ راجہ ، فوزیہ وہاب (جو بقضائے الٰہی وفات پاچکی ہیں) فوزیہ بہرام ، فوزیہ حبیب ، مہرین انور راجہ ، پلوشہ رحمن ، نفیسہ شاہ، جہاں آرا وٹو، محترمہ نتاشہ دولتانہ اور کئی دیگر نامور خواتین شامل ہیں۔ پاکستان پیپلز پارٹی ہی وہ جماعت ہے جس کی کئی خواتین جنرل سیٹوں پر الیکشن جیت کر اسمبلی میں پہنچتی ہیں۔ (ریزرو سیٹیں اس کے علاوہ ہیں) اتنی زیادہ خواتین کا جنرل سیٹوں پر منتخب ہونا ثابت کرتا ہے کہ پاکستان پیپلز پارٹی خواتین کی صلاحیتوں سے فائدہ اٹھا کر انہیں زیادہ فعال کردار ادا کرنے میں سب سے زیادہ دلچسپی رکھتی ہے۔ پاکستان پیپلز پارٹی نے خواتین کے لئے جو دیگر اقدامات کئے ان میں خواتین پولیس اسٹیشن کا قیام ، ویمن لیٹریسی پروگرام، لیڈی ہیلتھ ورکرزکی تعیناتی ، ویمن ایمپاورنمنٹ ڈویژن کا قیام ،خواتین کی ترقی کے لیے یکساں مواقع ، جہیز پر پابندی ، خواتین کے حقوق کی وزارت،کم عمری کی شادی پر پابندی، ویمن پروٹیکشن بل، بے نظیر انکم سپورٹ پروگرام اور ان گنت کئی قابل تعریف اقدامات شامل ہیں ان اقدامات سے خواتین کی صلاحتیں کھل کر سامنے آئی ہیں اور ان میں محنت کرنے کے جذبہ کے علاوہ تحفظ کا احساس بھی پیدا ہو رہا ہے۔
میری دیگر سیاسی جماعتوں سے بھی درخواست ہے کہ وہ خواتین کے لیے پاکستان پیپلز پارٹی جیسی سوچ پیدا کریں اور خواتین (جو ملکی آبادی کا نصف سے بھی زائد ہیں ) کی صلاحیتوں کو بروئے کار لانے جیسی پالیسیاں ترتیب دیں۔ عورت ہمارے معاشرے اور ہمارے مذہب میں بے حد احترام رکھتی ہیں ۔ انہیں ان کے حقوق سے محروم ہونے سے بچانے کے لیے ایک دوسرے سے تعاون کریں۔ آخر میں خواتین کی صلاحیتوں کا اعتراف کرتے ہوئے ان کی خدمت میں ایک شعر :
ہم مائیں ، ہم بہنیں، ہم بیٹیاں
قوموں کی عزت ہم سے ہے۔
ریاض حسین بخاری
ڈپٹی سیکرٹری اطلاعات ملتان شہر

کیٹاگری میں : News

اپنا تبصرہ بھیجیں