All Pakistan Minorities Alliance assures support for PPP candidate in NA137

2 (1)
A delegation of All Pakistan Minorities Alliance led by Najmi Saleem, Ex-MPA, and Sarfraz Arjan, Coordinator Minorities, Nankana, called on Mian Manzoor Ahmed Wattoo, PPP President Central Punjab, today at Nanakana, and assured him that the minorities would cast their votes in favour of the PPP candidate, Ray Shah Jehan Khan Bhatti, on the day of by-election in NA-137.

The members of the delegations were deeply appreciative of the PPP successive governments for looking after the minorities of the country and their mainstreaming in politics through legislative and executive measures.

Mian Manzoor Ahmed Wattoo thanked the members of the delegation for their support and said that the PPP previous government took exceptional decision by allocating 4 seats for minorities in the Senate and was contemplating to legislate to give them representation in the National Assembly proportionate to their population. PPP will continue to push this piece of legislation till it is incorporated in the statute book, he assured.

He said that the PPP first government led by Zulfiqar Ali Bhutto created Ministry for Minorities in the government to look after their welfare and ensure the implementation of the decisions taken for their empowerment.

He added that the PPP previous government declared August 11 each year as the Minorities Day that had co-relation with the declaration of the founder of the nation who said on that date that minorities in Pakistan would enjoy equal rights without discrimination.

He further said that the same government allocated 5% quota of government jobs for minorities adding its implementation was also carried out keeping in view their social and economic upward mobility.

Later, a delegation of Wattoo chieftains met the President PPP Central Punjab led by Shamsheer Ahmed Wattoo, Ex- MPA, in Nanakana today assuring their total support for the PPP candidate Roy Shah Jehan Bhatti. People of Nankana will prove the district as ‘Mini Larkana’ , a title attributed to Shaheed Benazir Bhutto for the district, members expressed their confidence.

Mian Manzoor Ahmed Wattoo said that the anti-farmers policies of this government had pushed the farmers against the wall and they had taken to the streets as a last resort in the face of the indifference attitude to address their predicaments.

He strongly condemned the abhorrent use of brutal force against the farmers in Vehari who were protesting against the apathy of the Punjab government towards them and were demanding the acceptance of their demands as per earlier understanding between the Pakistan Kissan Ittehad and the government of Punjab.

He stated that the PPP governments were always considered as synonymous to farmers’ friendly and PML (N) governments as farmers’ enemy. He referred to the previous PPP government that increased the wheat support price from Rs. 625 to Rs.950 in 2008, and Pakistan attained the status of wheat exporting country than the wheat exporting country from the same year.

The indicators of the uplift of the rural economy then were swaying right across the country and its multiplying impact over the economy was staggering because two third population’s livelihoods depended on agriculture sector either directly or indirectly, he maintained.

He demanded that the government must announce the support price of the forthcoming wheat crop at the rate of Rs. 1600 per forty kg with guarantee of purchasing each grain of the crop to save the farmers from the jaws of middlemen.

The other members of the delegation were Milk Noor Samad Wattoo,Milk Zulfiqar Wattoo,Milk Sijawal Wattoo,Milk Riaz Ahmed Khan Wattoo, ex-Nazim.

آل پاکستان مائنارٹیز الائنس کے ایک وفد نے سابق ایم پی اے، محترمہ نجمی سلیم اور ننکانہ کے اقلیتوں کے کوآرڈینیٹر سرفراز ارجُن، کی قیادت میں صدر پیپلز پارٹی سنٹرل پنجاب میاں منظور احمد وٹو سے آج ننکانہ صاحب میں ملاقات کی اور انہیں پیپلز پارٹی کے امیدوار رائے شاہ جہاں بھٹی کی مکمل حمایت کا یقین دلایا اور کہا کہ وہ انتخابی مہم میں مصروف ہیں۔ وفد کے اراکین نے پیپلز پارٹی کی تمام حکومتوں کو سراہا جنہوں نے انکے سیاسی حقوق کے تحفظ کے لیے جرات مندانہ قانون سازی کی۔ میاں منظور احمد وٹو نے وفد کے اراکین کا شکریہ ادا کیا اور کہا کہ پیپلزپارٹی ہمیشہ سے اقلیتوں کے حقوق کی داعی رہی ہے۔ انہوں نے یاددلایا کہ پیپلز پارٹی کی پچھلی حکومت نے سینیٹ میں اقلیتوں کے لیے 4 نشستیں مخصوص کر کے انکو قومی سیاسی دھارے میں جامع طریقے سے شامل کیا۔ انہوں نے مزید کہا کہ پیپلز پارٹی اقلیتوں کو آبادی کے تناسب سے پارلیمنٹ میں نمائندگی دینے کے لیے قانون سازی کی تیاری بھی کر رہی تھی۔ انہوں نے کہا کہ پارٹی اس ضمن میں اپنا موثر اور فیصلہ کن کردار ادا کرے گی۔ انہوں نے یاددلایا کہ شہید ذوالفقار علی بھٹو نے پہلی دفعہ ملک میں وزارت اقلیتی امور بنائی تا کہ اقلیتوں کے سماجی اور معاشی تحفظ کو یقینی بنایا جائے۔ انہوں نے مزید کہا کہ پیپلز پارٹی کی پچھلی حکومت نے ہر سال 11 اگست کو اقلیتوں کے دن کے طور پر منانے کا بھی فیصلہ کیا، اس تاریخ کو بانی پاکستان کے اُس اعلان سے کلی مطابقت ہے جسمیں انہوں نے کہا کہ تھا کہ پاکستان میں اقلتیوں کو بلاامتیاز تمام حقوق حاصل ہونگے۔ انہوں نے کہا کہ اسی حکومت نے اقلیتوں کے لیے سرکاری ملازمتوں میں نہ صرف 4 فیصد کوٹہ مختص کیا بلکہ اسکو عملی جامہ بھی پہنایا تا کہ اقلیتیں بھی سماجی اور معاشی ترقی کی منازل طے کر سکیں۔ بعد میں وٹو برادری کے معززین نے شمشیر احمد وٹو، سابق ایم پی اے ، کی قیادت میں میاں منظور احمد وٹو سے ننکانہ صاحب میں ملاقات کی اور انہوں نے پیپلز پارٹی کے امیدوار کی حمایت کا مکمل یقین دلایا۔ انہوں نے اس عزم کا اظہار کیا کہ وہ ننکانہ کے ’’مِنی لاڑکانہ‘‘ کے سٹیٹس کو قائم رکھیں گے۔ میاں منظور احمد وٹو نے اس موقع پر موجودہ حکومت کی کسان دشمن پالیسیوں کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ انہوں نے کاشتکاروں کو دیوار کے ساتھ لگا دیا ہے اور وہ سراپا احتجاج ہیں اور مطالبہ کر رہے ہیں کہ حکومت انکے مطالبات تسلیم کرے جنکی حکومت نے پاکستان کسان اتحاد کو یقین دہانی کرائی تھی۔ انہوں نے ویہاڑی میں کسانوں پر تشدد کی سخت مذمت کی جہاں پر انکے خلاف انتظامیہ نے بدترین غنڈہ گردی کی۔ انہوں نے کہا کہ پیپلز پارٹی کی حکومتوں کو کسان دوست حکومتوں کے طور پر جانا جاتا ہے جبکہ مسلم لیگ (ن) کی حکومتیں کسان دشمن۔ انہوں نے یاددلایا کہ پیپلز پارٹی کی پچھلی حکومت نے گندم کو سپورٹ پرائس 2008 میں 620 روپے فی چالیس کلو گرام سے بڑھا کر 950 روپے کر دی تھی جسکے نتیجے میں پاکستان اُسی سال گندم درآمد کرنیوالے ملک کی بجائے گندم برآمد کرنیوالا ملک بن گیا۔ انہوں نے کہا کہُ اس فیصلے سے دیہی معیشت میں زبردست خوشحالی آئی جس سے پاکستان کی 2 تہائی آبادی کو فائدہ ہوا کیونکہ پاکستان کی زیادہ تر آبادی کا ذریعہ معاش زراعت پر ہے۔
انہوں نے حکومت سے مطالبہ کیا کہِ اس سال گندم کی سپورٹ پرائس 1600 روپے فی چالیس کلو گرام مقررِ اس گارنٹی کے ساتھ کی جائے کہ حکومت کاشتکاروں سے تمام گندم خریدے گی تاکہ وہ آڑتیوں کے شکنجے سے محفوظ رہیں۔
دوسرے اراکین جو وفد میں شامل تھے، اُن میں ملک نور احمد وٹو، ملک ذوالفقار وٹو، ملک سجاول وٹو اور ملک ریاض احمد وٹو شامل تھے۔

کیٹاگری میں : News

اپنا تبصرہ بھیجیں