#PPPManifesto: #PPP vows to increase minimum wage

521179-PPPmanifestoINP-1363301030-692-640x480
ISLAMABAD: The Pakistan Peoples Party-Parliamen-tarians on Thursday revealed its election manifesto with special focus on a seven-point agenda pledging to fulfill the basic needs of the country’s poor.
The manifesto was released by the party president Makhdoom Amin Fahim at a press conference here on Thursday.
Former prime minister Yousaf Raza Gilani, Information Minister Qamar Zaman Kaira, Defence Minister Naveed Qamar and Minister of State for Information Sumsam Bukhari were also present on the occasion.
The manifesto pledges to increase minimum wage to Rs18,000 per month by 2018 and enhance the monthly cash grant under the Benazir Income Support Programme from Rs1,000 to Rs2000.
The manifesto also pledges to create a new province in South Punjab through necessary constitutional measures.
Furthermore, the manifesto promises that Sindh will be provided a special grant from Karachi, under the new NFC Award. A mother and child care programme would be launched to provide health care.
The manifesto also commits to eradicate polio by 2018 and taking its coverage to 100%.
As per Constitutional requirements, the manifesto promises universal primary enrolment by 2018 and 10,000 higher education and technical vocation scholarships for Fata and Balochistan.
Labour representatives will get four seats in the National Assembly and two seats in each Provincial Assembly through legislation.
According to the manifesto, there will be renewed focus on housing and the poor will be given priority for low-cost housing schemes to be launched through public-private partnership.
The party proposes to launch a youth employment initiative called ‘Peoples Employment Programme’. Farmers will be supported by charging a flat rate for electricity for tube wells and providing cheaper agri-inputs. Special Economic Zones would be established to promote industrialisation and create job opportunities.
Furthermore, the manifesto also pledges addition of 12,000MW of cheaper electricity through hydel, coal, gas and renewable energy by the end of the next term of the government.  The National Commission on Minorities will be given statutory status and religious properties would be given protection.
The nation, it said, faced a grave crisis five years ago when former premier Benazir Bhutto was assassinated by ‘enemies’ of Pakistan. It said that after five years, the PPP laid foundations for a sustainable, accountable and robust democracy in Pakistan.
The PPPP manifesto expresses the resolve to take Pakistan into a future based on social justice, peace and prosperity for all.

پیپلزپارٹی نے الیکشن2013 کیلئے ‘‘روٹی، کپڑااور مکان، دہشت سے محفوظ عوام ، اونچا ہو جمہو رکا نام ’’ سلوگن پر مبنی منشور جاری کر دیا۔ منشور میں کہا گیا ہے کہ علم ،صحت اور روزگار سب کے لئے ترجیح ہوگی۔نیشنل کاؤنٹر ٹیررازم اتھارٹی قائم کی جائے گی ۔ اندرونی سلامتی کو یقینی بنانے کے لئے پولیس اور قانون نافذ کرنے والے اداروں کو مضبوط کیا جائے گا، لاکھوں افراد کو مفت گھروں کی فراہمی کیساتھ ساتھ توانائی بحران پر قابو پاکر عوام کو سستی بجلی اور گیس فراہم کرنے کا اعلان بھی کیاگیا۔پیپلزپارٹی کے صدر امین فہیم،وفاقی وزیر اطلاعات قمر الزمان کائرہ ،سابق وزیر اعظم یوسف رضا گیلانی ، فرحت اللہ بابر اوردیگر نے مشرکہ پریس کانفرنس میں منشور پڑھ کر سنایا۔ منشور میں کہا گیاہے کہ قومی سلامتی کے لئے شخصی سلامتی لازمی ہے ،تعلیم اور روزگار کے مواقع یکساں بنیادوں پر فراہم کئے جائیں گے ۔ زچہ ، بچہ کی صحت اور بہبود کے لئے خصوصی مراکز قائم کئے جائیں گے ،2018 تک پولیو کا مکمل خاتمہ کر دیا جائے گا،پولیو ورکرز کو سکیورٹی فراہم کی جائے گی، مستحق افراد کی بنیادی ضرورتیں پوری کرنا 7 نکاتی ایجنڈے میں سرفہرست ہے ،بے نظیر انکم سپورٹ پروگرام کے ذریعے غربت کے خاتمہ کی کوششیں جاری رہیں گی، بی آئی ایس پی کے ذریعے ماہانہ امداد ایک ہزارسے بڑھا کر 2 ہزارکر دی جائے گی۔اگلی مدت کے اختتام تک مجموعی پیداوار کا ساڑھے 4فیصد تعلیم پر خرچ ہوگا،2018 تک لازمی پرائمری تعلیم کو یقینی بنایا جائے گا،کم ازکم اجرت کو ماہانہ 18 ہزار تک بڑھایا جائے گا،خواتین ، نوجوانوں ، اقلیتیوں اور مستحق افراد کو قومی دھارے میں لایا جائے گا،یکساں اور انصاف پر مبنی اجرت کو یقینی بنانے کے لئے ادارہ جاتی نظام قائم ہوگا،خواتین کی حفاظت کو یقینی بنانے کے لئے کمیشن کو ریاستی تحفظ فراہم کیا جائے گا،روزگارکے مواقع میں اضافہ کے لئے چھوٹے تجارتی اداروں کو سہولتیں دی جائیں گی،تجارتی شعبہ میں خواتین کو خصوصی مراعات دی جائیں گی،زرعی ٹیوب ویلوں کے لئے بجلی کے یکساں نرخ اور فصلوں کے بیمہ کی سہولتیں فراہم کی جائیں گی۔ٹیکسٹائل کے شعبہ کی مزید ترقی کے لئے خصوصی اقدمات کئے جائیں گے ،تجارت میں اضافہ کے لئے مزید ممالک سے کرنسی تبادلہ کے معاہدے ہوں گے ،مجموعی قومی پیداوار اور ٹیکسوں کے تناسب میں اضافہ کے لئے 50 لاکھ افراد کو ٹیکس دائرہ کارمیں لایا جائے گا،حکومتی قرضوں میں کمی اور بجٹ خسارہ 5فیصد سے کم کیا جائے گا،مجموعی پیداوار اور ٹیکسوں کا تناسب 9.5فیصد سے بڑھا کر 15 فیصد کیا جائے گا، افراط زر10 فیصد سے نیچے آگئی ہے ،برآمدات اور ترسیلات زرمیں اضافہ ریکارڈ کیا گیا ہے ،منشور میں کہا گہا ہے کہ سستی توانائی کے لئے پانی ،ہوا ،سورج سے بجلی پیدا کرنے کے منصوبوں پر توجہ دی جائے گی۔زرعی شعبہ کی ترقی کے لئے کھیت سے منڈیوں تک سڑکوں کا جال بچھایا جائے گا،کراچی، حیدر آباد، فیصل آباد، ملتان ، گوادر، رتو ڈیرو موٹر ویز بنیں گی۔ پانی کی فراہمی یقینی بنانے کے لئے آبی وسائل کو ترقی دی جائے گی۔ بڑے شہروں میں سفری سہولتوں اور صفائی کا جدید نظام متعارف کرایا جائے گا،بلوچستان کو قومی دھارے میں لانے کے لئے صوبے کی جائز شکایات کا ازالہ ہوگا، لا پتہ افراد کی بازیابی کے لئے اقدامات جاری رہیں گے ،فاٹاسے خواتین کے لئے 2نشستیں مختص کی جائیں گی۔ بہاولپور جنوبی پنجاب صوبہ قائم کرنے کے لئے عملی اقدامات کئے جائیں گے ۔ منشور میں کہا گیا ہے کہ کشمیری عوام کی اخلاقی اور سفارتی حمایت جاری رکھیں گے ، بھارت کے سا تھ تعلقات کشمیری عوام کی قیمت پر نہیں ہوں گے ۔خارجہ پالیسی کا محور تجارت، توانائی اور مواصلات کے شعبوں میں تعاون ہوگا۔ بھارت، افغانستان اور ایران سے بات چیت جاری رہے گی۔منشور میں کہا گیا ہے کہ افغانستان اور اس کے نواح میں امن چاہتے ہیں۔ پیپلزپارٹی کے صدر امین فہیم نے کہا کہ آئینی ترامیم کے ذریعے صوبوں کو مالی اور انتظامی خود مختاری دی،الیکشن کمیشن کو خود مختار بنا کر شفاف انتخابات کی بنیاد فراہم کی ،صدر نے اپنے اختیارات قوم کو واپس کر کے مثال قائم کی۔ وفاقی وزیر اطلاعات قمر الزمان کائرہ نے بتایا کہ ہم نے اڑھائی لاکھ ملازمین کو مستقل کیا۔گذشتہ انتخابات کے برعکس اس دفعہ انتخابات میں بلوچستان کی تمام سیاسی جماعتیں حصہ لے رہی ہیں ۔سابق وزیر اعظم یوسف رضا گیلانی نے بتایا کہ ہم نے اپنے دور میں توانائی کے منصوبے شروع کئے ،ہم سے پہلی حکومت نے ایک میگا واٹ بجلی بھی نہیں بنائی، 3000 میگاواٹ بجلی سسٹم میں داخل کی۔ دہشتگردی کے خاتمہ کے لئے تمام جماعتوں سے تعاون کریں گے ،بلوچ قوم پرست وزیراعظم بھی صوبے کے لئے وہ نہ کرتاجو ہم نے کیا۔ فرحت اللہ بابر نے بتایا کہ میثاق جمہوریت کے تحت آئینی سپریم کورٹ کا قیام چاہتے ہیں،نوید قمر نے بتایا کہ پاکستان میں احتساب کا قانون موجود ہے ، بہتری کی ہمیشہ گنجائش ہوتی ہے ۔

کیٹاگری میں : News Tagged

اپنا تبصرہ بھیجیں