دیر آید درست آید: حسن نقوی

Hassan Naqvi

پہلے ہی بہت دیر ہو چکی ہے۔ اس کا اندازہ اس بات سے لگایئے کہ 2005ء میں ہمیں جن نرخوں پر ایران سے گیس مل سکتی تھی، اب موجودہ وقت میں اس کے نرخ دُگنے ہو چکے ہیں۔ لیکن اگر اب بھی ہم نے ہوش کے ناخن نہ لیے تو ہماری داستاں بھی نہ ہوگی داستانوں میں۔ دیر کرنے سے نہ صرف یہ کہ گیس مہنگے داموں ملے گی بلکہ معاہدے کے تحت ہمیں یومیہ ایک ملین ڈالر ایران کو حرجانہ ادا کرنا پڑے گا۔ صدر زرداری نے اگرچہ امریکہ کی ناراضی مول لے لی ہے مگر پاکستان کے مفاد میں ایسا کرنا نہایت ضروری تھا۔
پاکستان اس وقت توانائی کے بحران کی وجہ سے تباہی کے دھانے پر کھڑا ہے۔ ملک کے اکثر شہروں میں دس دس بارہ بارہ گھنٹوں کی لوڈشیڈنگ نے شہری زندگی کو معطل کر کے رکھ دیا ہے۔ گیس کے ذخیرے بھی مسلسل کم ہو رہے ہیں اور تخمینے بتاتے ہیں کہ 2025ء تک محض ایک چوتھائی رہ جائیں گے۔ صنعتیں اور ملیں پہلے ہی بند پڑی ہیں۔ سرمایہ دار اپنا سرمایہ لے کر بیرونِ ملک جا رہے ہیں۔ اگر فی الفور کوئی حل نہ نکالا گیا تو آنے والے دنوں میں نہ صرف یہ کہ توانائی کا بحران شدید سے شدید تر ہو جائے گا، بلکہ ملکی معیشت کی حالت بھی مزید خراب ہو جائے گی کیونکہ ہماری صنعتی پیداوار کے ساتھ ساتھ زرعی پیداوار میں بھی کمی آ جائے گی۔
ایران پاکستان گیس پائپ لائن کا آئیڈیا پہلے پہل ایک پاکستانی انجینئر ملک آفتاب احمد خان نے 1950ء میں پیش کیا۔ بعد ازاں اس منصوبے میں انڈیا نے بھی شامل ہونا چاہا، مگر کچھ تو امریکی دباؤ کے تحت اور کچھ سیکورٹی وغیرہ کی بنا پر اس منصوبے سے لاتعلق ہو گیا۔ لیکن ابھی بھی وہ اس منصوبے کو للچائی ہوئی نظروں سے دیکھتا ہے اور عین ممکن ہے کہ کسی بھی مرحلے پر اس میں داخل ہو جائے۔ اسی طرح چین کی شمولیت کے بھی بہت زیادہ امکانات ہیں۔
ایران پر اس کے نیوکلیائی پروگرام کے باعث پابندیاں لگائی گئی ہیں۔ اسی لیے ایران سے گیس پائپ لائن کے منصوبے کو سخت تنقید کا نشانہ بنایا جا رہا ہے۔ بلکہ امریکا نے تو صاف لفظوں میں واضح کر دیا ہے کہ اگر ایران پاکستان گیس پائپ لائن کے منصوبے پر کام ہوا تو ایران کے ساتھ ساتھ پاکستان پر بھی معاشی پابندیاں عاید کر دی جائیں گی، اور پاکستان کی پہلے ہی دگرگوں معیشت مزید زوال کا شکار ہو جائے گی۔
امریکا کی طرف سے اعلان کیا گیا کہ امریکا کو پاکستان کے توانائی کے بحران کا احساس ہے مگر پاکستان کو اس بات کی اجازت قطعاً نہیں دی جائے گی کہ وہ کسی ایسے ملک سے معاہدہ کرے جس پر پہلے ہی پابندیاں عاید کی جا چکی ہوں۔ امریکا نے پاکستان کے توانائی کے بحران کے لیے کچھ متبادل منصوبے بھی پیش کیے ہیں۔ اگر ان کا گہرا مطالعہ کیا جائے تو پتہ چلتا ہے کہ یہ منصوبے محض ایران پائپ لائن منصوبے کو روکنے کے لیے ہیں جبکہ پاکستان کا توانائی کا بحران بدستور یونہی رہے گا۔ امریکی پیشکشوں میں سرِفہرست افغانستان کے راستے سپلائی ہے۔ لیکن علاقے کی سٹریٹیجک صورتِ حال کے پیشِ نظر کیا اس بات کی توقع کی جا سکتی ہے کہ اس راستے سے ہمیں پُرامن طریقے سے توانائی کی سپلائی ہو سکتی ہے۔ قطعاً نہیں۔ بلکہ ہم مسلسل ایک عذاب میں مبتلا ہو جائیں گے۔ طالبان انفراسٹرکچر کو مسلسل نقصان پہنچاتے رہیں گے اور ہم نہ صرف یہ کہ نقصان پورا کرتے رہیں گے بلکہ ہمیں فوج کی ایک کثیر تعداد حفاظت کے لیے بھی مامور کرنا پڑے گی۔

577876_433337703414605_1507325094_n
امریکا نے سعودی عرب کے ذریعے بھی پاکستان کو اس منصوبے سے ہٹانے کی کوشش کی کہ اگر پاکستان ایران سے تعلقات قطع کر لیتا ہے تو نہ صرف تیل کی سہولیات دی جائیں گی بلکہ نقد رقم بھی عنایت کی جائے گی۔
دوسری طرف ایران کے راستے گیس کی سپلائی انتہائی سستی بھی ہے اور محفوظ بھی۔ سستی اس طرح سے کہ ایران پاکستان گیس پائپ لائن میں سے لگ بھگ بارہ ہزار کلومیٹر لمبی پائپ لائن ایران میں پہلے ہی بچھائی جا چکی ہے۔ اب صرف پاکستان کے حصے کی پونے آٹھ سو کلومیٹر پائپ لائن بچھانا باقی ہے۔ پائپ لائن بچھانے کے منصوبے کا باقاعدہ آغاز ہو چکا ہے اور توقع ہے کہ 2014ء تک یہ مکمل ہو جائے گی۔ جہاں تک اس کے محفوظ ہونے کا تعلق ہے تو اس گیس پائپ لائن کا زیادہ تر حصہ محفوظ اور پُرامن علاقے سے گزرتا ہے۔ البتہ کچھ حصہ بلوچستان سے گزرے گا جہاں شرپسند عناصر اسے نقصان پہنچا سکتے ہیں۔ لیکن اس حصے کی حفاظت زیادہ وسائل کی طلبگار نہ ہوگی۔
حکومت توانائی کے بحران کو حل کرنے میں سنجیدہ ہے۔ اگرچہ کچھ اندرونی اور بیرونی رکاوٹیں ہیں جو منصوبوں کی تکمیل کی راہ میں رکاوٹ بنی ہوئی ہیں۔ پچھلے سال کے وسط میں وزیرِ خارجہ حنا ربانی کھر نے واضح کر دیا تھا کہ گیس پائپ لائن منصوبے کو ہر قیمت پر پورا کیا جائے گا۔ بلکہ وزیرِ خارجہ نے تو یہاں تک ارادہ ظاہر کیا کہ پاکستان ایران سے بجلی کی ترسیل اور باہمی تجارت کو بھی فروغ دے گا۔
البتہ امریکی دھمکیاں بعض کمزور دل حضرات کو دہلا رہی ہیں۔ حوصلہ کیجیے کیونکہ امریکا کی دھمکیاں محض گیدڑ بھبکیاں ہی ثابت ہوں گی۔ ابھی گیس پائپ لائن منصوبے کی تکمیل کے دوران ہی امریکا کو افغانستان سے اپنی فوجوں اور اسلحے کو افغانستان سے واپس نکالنا ہے۔ تمام تر امکانی راستوں کے بعد امریکا پر یہ حقیقت واضح ہو چکی ہے کہ پاکستان کا راستہ نہ صرف یہ کہ سستا ہے بلکہ محفوظ ترین بھی ہے۔ امریکی اپنی اس ضرورت کے تحت ضرور پابندیاں ہٹا لے گا۔
جہاں تک اس بات کا تعلق ہے کہ پیپلز پارٹی کی حکومت نے آخری وقت میں اس معاہدے کی تکمیل کا اعلان کیا ہے کہ وہ خود تو چلے جائیں گے اور پابندیاں نگران حکومت کا مقدر بنیں گی۔ حقیقت میں ایسا نہیں ہے۔ اوّل تو یہ منصوبہ زرداری صاحب کی ہمیشہ ہی ترجیح رہا ہے۔ اس معاہدے پر پاکستان نے انقرہ (ترکی) میں مارچ 2010ء میں ہی دستخط کر دیئے تھے، جس کے بعد سے ایران نے پائپ لائن بچھانے کا کام شروع کیا۔ اگرچہ پاکستان کے حصے کی لائن بچھانے میں کچھ تاخیر ضرور ہوئی ہے لیکن اس کی وجہ اندرونی و بیرونی رکاوٹیں تھیں۔ ویسے بھی گھبرایئے مت، نگران حکومت میں بھی پیپلز پارٹی کا بڑا حصہ ہو گا جو امریکی مداخلت کو کامیاب خارجہ پالیسی سے ختم کر دے گا۔

کیٹاگری میں : News

اپنا تبصرہ بھیجیں