دہشت زدہ ملک، اصل حکمرانوں کی ثمر بار کامیابی کا ثبوت

image

تحریر: امام بخش

‘صراطِ مُستقیم’ پر گامزن ہمارے اصل حکمرانوں کی محنت ِشاقہ کئی دہائیوں کے بعد بالآخر رنگ لے آئی اور انھوں  نے اپنی منزلِ مقصود پا لی ہے۔ اِس عظیم ہدف کے حصول کے لیے اپنے فن میں کمال رکھنے والی وطنِ عزیز کی 26 ایجنسیوں نے  اہم ترین کردار ادا کیا ہے۔ پچھلے ساٹھ سالوں سے  دانش کے ان پہاڑوں نے دائیں بازو کو مُسلسل ‘قوت بخش مساج’ سے توانا تر کردیا ہے اور بائیں بازو کو تسلسل کے ساتھ تروڑ مروڑکر اِس کاکچومر نکالنے کے بعد  اس کی تصویر کشی کچھ اِس انداز سے کی ہے کہ یہ عوام کی نظر میں ایک متعفن زدہ اور قابلِ نفرین سی شے بن کر رہ گیا ہے۔

بائیں بازو کو مروڑنے کی اس ہنرمندی میں الیکشنوں میں کھلی دھاندلی، سکینڈلز،  پروپگنڈے، جھوٹے کیسز،  جیلیں،  کوڑے، پھانسی،  گولی اور خُودکُش دھماکوں ایسے اہم جزو شامل رہےہیں۔

آج اپنے تئیں غیرجانبدارصحافت کے مینار ہوں یا بقراطی اینکرز،  دانش کے بیش قیمت موتی بکھیرتے دانشور ہوں یا آزاد عدالتیں ،  فرض شناس سِول بیوروکریسی ہو یا ایمانی طاقت بڑھانے اور جنت کی ٹکٹیں بانٹنے والےعلماء اکرام،  دُنیا کی بہترین آرمی ہو(مدح نگاروں کو اِس  سے بھی بڑے اعزازکے بارے میں سوچنا چاہئے) یا  بااصول سیاست کی علم بردار حکومتی پارٹی مُسلم لیگ(ن)، اِسلام کی پاسبان دینی جماعتیں ہوں یا وقت ِموجود کےٹیپوسُلطان  کی تحریکِ انصاف اور چاہے سب سے بڑھ کر ‘ شریعت  کے عین  مُطابق’ اِنسانی سروں سے فُٹبال کھیل کے عالمی چمپئین طالبان ہوں۔  ہر طرف فرشتہ صفت  دائیں بازو کی سوچ کے مالک ایسے بھلے لوگوں کاجم غفیر ہے۔

دائیں بازو کی سوچ  کے  حامل اِن  سب لوگوں پر اپنے معنوی جدِ امجد یعنی پاکستان کے مُحسنِ عظیم جنرل ضیاءالحق کا رنگ خوب نمایا ں ہے۔ بجا طور پر ایک جَد کی اولاد ہونے کے ناطے یہ ایک دوسرے کاحتی الوسع خیال رکھتے ہیں۔ یقین نہیں  تو،  مذاکراتی کھیل  میں ‘اُٹھا بَیٹھی’ پر نظر التفات فرمایئے اور حکومت و فوج کی طرف سے   باکمال ‘اَہِنساپالیسی’ پر غور بھی کیجیئے۔

مُجھ ایسے کوڑھ مغز کو یہ چھوٹی سی بات سمجھ  نہیں آرہی  کہ جب ایک ہی سوچ کے مالک اورایک ہی منزل کے متلاشی سارے اشرف الاشراف  مذاکریئے ایک ہی گرو کے بالکے ہیں تو پھرتصفیے میں تاخیر کیونکر؟

اس عالم رنگ وبو میں ہر روز عجوباتِ زمانہ نظر آتے ہیں، کیا خبر کہ اہلِ صفا اپنے جدِامجد کی بھٹکی ہوئی اِنسانی خُون کی پیاسی آتما کی تسکین کے لیے ایک مخصوص ٹارگٹ پورا کررہے ہوں۔ کیونکہ پچاس ساٹھ ہزار پاکستانیوں کی بَلی اُن کے ماتھےپر  ایک شکن تک نہیں لا سکی۔ اگر تاریک راہوں میں مارے جانے والے یعنی فرنٹ پراپنی جانیں قربان کرنے والے فوجی سپاہیوں یا عام پاکستانیوں کی ذرا برابر بھی اہمیت ہوتی تو قائداعظم ثانی میاں محمد نوازشریف کم ازکم لطیفے سننے اورسنانے کے ساتھ ساتھ ارباب ِنشاط کے جُھرمٹ میں محفل موسیقی  کا اپنا پسندیدہ شُغل جاری رکھے دکھائی نہ دیتے۔ مزیدبراں شہیدہونے والے پاکستانیوں کے خاندانوں کی دل ہلا دینے والی  آہ و زاریاں عمران خان،  منورحسن اور دوسرے درخشندہ ستاروں کے انبوہ کی فکری ساخت متاثر کرنے سے بالکل قاصر ہیں۔

 اربابِ نظر کے ضُعف بصارت کی نشانی ہے  جووہ خوامخواہ بار بار عوام کو جھنجھوڑ رہے  ہیں کہ طاقت ور دائیں بازو نے قوم کی گردن بہت بُری طرح دبوچی ہوئی ہے، قوم کی سانسیں آخری دموں پر ہیں اور اَنت سمے قریب ہے۔ جاگو، ورنہ بہت جلد ‘اِنّا لِلّهِ وَاِنّا اِلَيْهِ رَجِعُوْنَ’  کی نوبت آجائے گی۔حالانکہ اُن کا خبردار کرنا انتہا درجےکی بیوقوفی اور رنگ میں بھنگ ڈالنے والی بات ہے کیونکہ حقیقت میں پاکستانی عوام ہمارے اصل حکمرانوں کے اِس ثمربار عروج سے خُوب فیض یاب  ہورہےہیں۔

 کیا ہمارے اصل حکمرانوں کو بھی اپنی اِس عظیم کامیابی کی اہمیت و اثرات  کا علم ہے، جو انھوں نے سرحدوں کی حفاظت ایسے فضول کام کو پس ِ پُشت ڈال کر بلڈی سویلنز کو اپنے شکنجے میں پوری طرح جکڑ کر حاصل کی ہے؟

 وطنِ عزیز میں ہُو کا عالم  ہے۔ شاید عوام بھی   خاموشی کے ساتھ اِس انقلاب  سے لُطف اندوز ہورہے ہیں۔ اِس لیے پاکستانیوں کویہ  منزل بصدمبارک ہو،  ڈھول تا شے سے بھرپور جشنِ عظیم کا اہتمام ہونا چاہیئے۔کیونکہ آج  پاکستان کی تکمیل ہوگئی ہے اور  وطن عزیز ہوبہو وہی  کچھ بن گیا ہے جس کا خواب علامہ محمد اقبالؒ  نے دیکھا تھااور جس کی بنیاد قائد اعظم محمد علی جناحؒ نے رکھی تھی۔

 ہماری گزارش تو یہ ہے کہ گنیزبک آف ورلڈ ریکارڈ والوں کے اِدھر ہونے کا فوراً سے پہلے فائدہ اُٹھا لینا چاہیے۔ وہ ہمارے دوسرے ذی عِزَّت ریکارڈ ز  کے ساتھ ساتھ اگر اِس عظیم الشان انقلاب کو بھی اپنی بُک کا حصّہ بناتے جائیں تو شاید ہی کوئی دوسری قوم ہمارے اِس عالمی ریکارڈ کو توڑ سکے۔

 بشکریہ ہمشہری، 17  مارچ 2014ء

http://goo.gl/Is7OV7

کیٹاگری میں : News

اپنا تبصرہ بھیجیں