پیپلز پارٹی کا منشور، بےنظیر کے ارادوں کا عکس #PPPManifesto

 

بدقسمتی سے پیپلز پارٹی بے نظیر کی قیادت سے محروم ہوچکی ہے، لیکن اس کے پاس ان کا تیار کردہ سال 2008ء کا انتخابی منشور آج بھی ایک متاثر کن دستاویز ہے، اس لیے کہ اس میں پاکستان کی آئندہ نسل کے لیے غیر مشروط ضمانت دی گئی ہے۔ اگر پیپلز پارٹی اقتدارمیں واپس آجاتی ہے تو اس کے پاس واضح انتخاب موجود ہے۔

اور یہ انتخاب ہے قائداعظم کے پاکستان اور مذہبی شدت پسندوں اور مرکز گریز قوتوں کے درمیان، “ایک متحرک، متحمل اور مضبوط وفاق” اور ایک ایسے پاکستان کے درمیان جو “بنیاد پرستی اور طوائف الملوکی” کی دلدل میں گر گیا ہو۔

ppp-manifesto-670

منشور سے الیکشن نہیں جیتے جاتے، اور عام ووٹرز تو اُن کو پڑھنے کے قابل بھی نہیں ہیں۔ اس کے باوجود بھی وہ سب اس سارے عمل کا ناگزیر حصہ بنے ہوئے ہیں، جسے اقبال نے جمہوری تماشہ کہا تھا۔
ماضی کی جانب پلٹتے ہیں اور 1997ء میں چلتے ہیں اور تلاش کرتے ہیں کہ جب پیپلز پارٹی نے اپنی چیئر پرسن بےنظیر بھٹو کے آخری الیکشن کے دنوں میں جو منشور پیش کیا تھا، اس سے کیا کچھ حاصل ہوسکا؟
مختصراً یہ کہ بلاشبہ بھاری بھرکم الفاظ کے بھرپور استعمال کے ساتھ یہ دستاویز آج بھی بےنظیر کے عزائم کا مکمل عکس پیش کرتی ہے، “کسی بھی قسم کی تبدیلی کو برداشت نہ کرنے والوں کی وجہ سے یہ ایجنڈانامکمل رہا۔”
جس کی ایک مثال یہ بھی دی جاسکتی ہے کہ 1996ء میں بے نظیر کی حکومت کو ایک صدر نے برخواست کردیا تھا، حالانکہ اُن کا تعلق بھی پیپلز پارٹی سے ہی تھا۔ بے نظیر نے اس مخالفانہ اقدام کو آمرانہ اور انسانیت سے گرا ہوا قرار دیا تھا۔
بےنظیر 1997ء کے انتخابات میں کامیابی حاصل نہیں کرسکی تھیں، لیکن اس سے قبل وہ اپنے “ادھورے ایجنڈے” پر عمل کرتیں جب 2008ء میں ان کی پارٹی اقتدار میں آئی، وہ اس دنیا میں موجود نہیں تھیں۔
بدقسمتی سے پیپلز پارٹی بے نظیر کی قیادت سے محروم ہوچکی ہے، لیکن اس کے پاس ان کا تیار کردہ سال 2008ء کا انتخابی منشور آج بھی ایک متاثر کن دستاویز ہے، اس لیے کہ اس میں پاکستان کی آئندہ نسل کے لیے غیر مشروط ضمانت دی گئی ہے۔ اگر پیپلز پارٹی اقتدارمیں واپس آجاتی ہے تو اس کے پاس واضح انتخاب موجود ہے۔
اور یہ انتخاب ہے قائداعظم کے پاکستان اور مذہبی شدت پسندوں اور مرکز گریز قوتوں کے درمیان، “ایک متحرک، متحمل اور مضبوط وفاق” اور ایک ایسے پاکستان کے درمیان جو “بنیاد پرستی اور طوائف الملوکی” کی دلدل میں گر گیا ہو۔
پی پی پی اب اقتدار سے باہر آچکی ہے اور انتخابی منشور بھی دو دن پہلے ہی جاری کردیا گیا ہے۔ ساتھ ہی ساتھ ملک “بنیاد پرستی اور طوائف الملوکی” کی جانب غیر یقنی طور سے بڑھتا جارہا ہے۔
اس منشور کودوام بخشنے کے لیے دو انمول اثاثے اس کے پاس ہیں، جن میں بھٹو کا ورثہ اور اس جماعت کا یہ پہلو کہ یہ واحد اور حقیقی معنوں میں ایک قومی پارٹی ہے۔
یہی وجہ ہے کہ یہ پارٹی پاکستانی عوام کو ان کے دل کی گہرائیوں ساتھ اپنی طرف کھینچتی ہے، لیکن اقتدار اس کے لیے گلے کا پھندا بن جاتا ہے۔
حزب مخالف کی ایک جماعت کا منشور ایک سرکش عہد کی تشکیل کرتا ہے جو شکوک و شبہات پیدا کرتا ہے۔
ملکی تاریخ میں پیپلز پارٹی ایک ایسی سیاسی جماعت کے طور پر سامنے آئی ہے جس نے اپنی پانچ سالہ مدت مکمل کی ہے، جبکہ اس سے پہلے دو مرتبہ اسے دوستوں اور دشمنوں نے نظرانداز کردیا تھا۔
جو اذہان اس منشور کی تیاری میں منہمک رہے، چھوٹے سائز میں طبع ہونے والی پچھتر صفحات کی اس دستاویز میں انہوں نے پاکستانیوں کی زندگی کے ہر گوشے پر روشنی ڈالی ہے۔ لیکن اس سے غرض نہیں کہ پیپلز پارٹی نے کیا کیا عہد کیے تھے، اس نے اپنے دور اقتدار میں کون کون سی کامیابیاں حاصل کیں، نہ ہی اس سے کوئی غرض نہیں ہے کہ اس نے کون کون سے چیلنجز کا سامنا کیا، اور اس کے 2008ء کے منشورکے ایک حصہ کے مطابق اٹھارویں ترمیم اور این ایف سی ایوارڈ پر عملدرامدکے باوجود پاکستان کے عوام پیپلز پارٹی کے بارے میں صرف دو ناقابل برداشت حقیقتوں کی روشنی میں فیصلہ کریں گے۔
تشدد کے بلیک ہول میں گرنے اور افرط زر کے زہریلے ڈنگ نے خاص طور پر کھانے پینے کی اشیاء کی قیمتوں کو آسمان پر پہنچا دیا ہے۔
آج پاکستانیوں کی خوراک کم ہو چکی ہے کہ انہیں اس کم سے کم غذائی اشیاء کے استعمال کی بھی کہیں زیادہ قیمت ادا کرنی پڑ رہی ہے۔
گوکہ ہماراملک ابھی شام جیسی صورتحال سے دوچار نہیں ہے لیکن پاکستانیوں کا خون اب بہت سستا ہوگیا ہے۔
اب تو بہت سے ایسے سیاستدانوں نے بھی روٹی کپڑا اور مکان کے نعرے کو اپنا لیا ہے جو اس سے قبل اس کا مذاق اُڑایا کرتے تھے، اور سات “بنیادی ترجیحات” مقبول بنانے کے لیے اہمیت اختیار کرگئی ہیں۔ لہٰذا بہت سے لوگ تو نواز شریف کے من و سلویٰ کا انتظار کررہے ہیں۔
تحریک انصاف کے سربراہ عمران خان کی اصل ہنرمندی ان کی پروپیگنڈے کی صلاحیت ہے۔ عمران کی ولولہ انگیز قیادت اور کرکٹ کی دیوانی پاکستان کی نوجوان نسل کو عمران کی شخصیت میں کشش محسوس ہوتی ہے۔ مزید یہ کہ عمران کو ان کی ڈرون حملوں کی مخالفت کی تحریک نے پاکستان کی بے چین اور مشتعل مڈل کلاس میں مقبول بنایا ہے۔
لہٰذا پیپلز پارٹی کا منشور جو نوجوانوں کو بااختیار بنانے کی تائید کرتا ہے، اور پاکستان مسلم لیگ نون کی جنوبی پنجاب کے صوبے کے حوالےسے شکست فاش کو بھی شامل کرلیا جائے ، اور خدانخواستہ ایسا بھی نہیں ہے کہ لوگ یہ سوچنا شروع کردیں کہ پارٹی نہیں جانتی کہ حکومتی رٹ کے خاتمہ اور بدانتظامی کے پس پردہ کیا چل رہا ہے، اس دستاویز میں بہت بڑی آبادی والے شہر کراچی جاری خونی لہر کو روکنے کے لیے ایک امداد کا وعدہ بھی کیا گیا ہے۔
نہیں کہا جاسکتا کہ کس کا منشورزیادہ مقبولیت اختیار کرے گا؟ مسلم لیگ نون شریف برادران کی گویا ملکیت بنی ہوئی ہے، اور انہوں نے اپنے یوٹوپیائی وعدوں کو میٹرو بس کے ذریعے پورا کرکے عوام کو خوش کرنے کی کوشش کی ہے۔
پیپلز پارٹی کے رہنماؤں کے لیے افسوسناک امر یہ ہے کہ ان کے پاس صرف ایک ہی راستہ باقی رہ گیا ہے کہ وہ ذوالفقار علی بھٹو اور بے نظیر بھٹو کی تصویروں کے پیچھے چلتے رہیں۔
ان کے لیے گویا وہ زندہ افراد کی طرح ہیں، جن سے انہیں رہنمائی ملتی ہے، جبکہ بلاول ابھی ناتراشیدہ ہیرے کی مانند ہے، اس کو ابھی شفاف اور چمکدار ہونے میں وقت لگے گا، جبکہ اس کے والد کے لیے سپریم کورٹ نے بیک وقت دو عہدوں پر فائز ہونے کی وجہ سے رکاوٹیں کھڑی کردی ہیں۔

Source: DAWN

اپنا تبصرہ بھیجیں