میاں منطور احمد وٹو صدر پاکستان پیپلز پارٹی پنجاب کی پریس کانفرنس

IMG_5116

ن لیگ وفاق کی طرح پنجاب میں بھی ہٹ دھرمی کی پالیسی پر عمل پیرا ہے اور نگران وزیر اعلی کے لئے صاف ستھرے نام پیش کرنے میں ناکام رہی ہے – صدر پیپلز پارٹی پنجاب میاں منظور احمد وٹو نے پیپلز سیکرٹریٹ پنجاب میں پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ پیپلز پارٹی اور ق لیگ کا اتحاد قائم ہے اور قائم رہے گا ، اختلاف رائے جمہوریت کا حسن ہے ، این اے 105 پر احمد مختار ہی طے شدہ فارمولے کے تحت الیکشن لڑیں گے _ ق لیگ کے ساتھ سیٹ ایڈجسٹمنٹ میں جہاں اختلاف رائے نہیں تھا وہاں معاملات کو نمٹا دیا گیا ہے ،انہوں نے کہا کہ صرف وہی حلقے باقی ہیں جن میں پیپلزپارٹی اور ق لیگ کے سابق امیدواران انہیں چھوڑ کر دوسری جماعتوں میں جا چکے ہیں – انہوں نے کہا کہ ان حلقوں میں ق لیگ یا پیپلز پارٹی جس کا امیدوار بھی جیتنے کی پوزیشن میں ہو گا اسے سپورٹ کیا جائیگا ، اس حوالے سے 27 مارچ کو شام چوہدری برادران کے ساتھ مذاکرات ہونگے ، انہو ں نے بتایا کہ مذاکرات میں انکے ساتھ قمر الزمان کائرہ ، نذر محمد گوندل اور تنویر اشرف کائرہ بھی موجود ہونگے – میاں منظور احمد وٹو نے کہا کہ اس وقت پاکستان اور صوبوں میں نگران سیٹ اپ کا قیام اور ٹکٹوں کی تقسیم اہم ایشوز ہیں – وفاق میں نگران وزیر اعظم کے لئے پیپلز پارٹی کی جانب سے دئیے جانیوالے نام میر ہزار خان کھوسو کے حق میں الیکشن کمیشن نے فیصلہ دیا اور مجھے خوشی ہے کہ پیپلز پارٹی نے ایک ایسی باکردار شخصیت کا نام دیا جس پر انگلی اٹھانے کے لئے مخالفین کے پاس کچھ بھی نہیں تھا – انہوں نے کہاکہ نگران وزیر اعظم کے لئے چیف لیکشن کمشنر کے پاس فیصلے کا جانا آئینی طریق کار کے تحت ہوا اور میں اس مستحسن فیصلے پر الیکشن کمیشن کو مبارکباد پیش کرتا ہوں _ انہو ں نے کہا کہ ن لیگ کی جانب سے نہ صرف وفاق میں بلکہ اب پنجاب میں بھی باکردار نام سامنے نہیں آ سکے جبکہ پنجاب میں ہم نے ایسے نام پیش کئے جن پر ن لیگ سمیت کوئی جماعت اعتراض نہیں کر سکی – انہو ں نے کہا کہ بالآخر ن لیگ کو ہمارے ہی دئیے گئے ناموں پر اتفاق کرنا ہوگا – انہوں نے کہاکہ ن لیگ نے نگران وزیر اعظم اور اب نگران وزیر اعلی پنجاب کے لئے جو نام پیش کئے ہیں کیا وہ نام کریڈیبل ہیں؟ – انہوں نے کہا کہ پاکستان کی جمہوری تاریخ میں پہلی بار عزت و احترام کے ساتھ نئے وزیر اعظم نے حلف لیا اور جانیوالے وزیر اعظم کو عزت کے ساتھ رخصت کیا گیا ،یہ ایک انقلاب اور جمہوری عمل کو تسلسل دینے کی طرف پہلا قدم ہے اور اس عمل میں شریک سب لوگ خراج تحسین کے مستحق ہیں ، انہوں نے کہا کہ جمہوریت ، پارلیمنٹ کے استحکام اور جمہوری عمل کے تسلسل پر پوری قوم مبارکباد کی مستحق ہے- ایک سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ پیپلز پارٹی کے امیدواروں میں ٹکٹوں کی تقسیم کے حوالے سے پنجاب کے پارلیمانی بورڈ نے ایک ایک امیدوار کے انٹرویو کے بعد سفارشات مرتب کی ہیں امید ہے کہ سینٹرل پارلیمانی بورڈ ہمارے فیصلوں کی توثیق کر دے گا اور ٹکٹوں کی تقسیم کے بعد پنجاب بھر میں الیکشن مہم کا باقاعدہ آغاز ہو گا – ایک سوال کے جواب میں انہو ں نے کہا کہ پیپلز پارٹی کے پاس انتخابی نشان تلوار بھی ہے اور تیر بھی ، انہوں نے کہا کہ اس تلوار کے بارے میں لوگوں کو خواب آیا کرتے تھے کہ تلوار آسمان پر دیکھی جا رہی ہے آج وہی ذوالفقار علی بھٹو شہید کی تلوار ہمیں واپس ملی ہے ، تاہم انہو ں نے کہاکہ الیکشن پاکستان پیپلز پارٹی پارلیمنٹرین انتخابی نشان تیر کے ساتھ لڑے گی یا تلوار کے ساتھ اسکا فیصلہ مرکزی قیادت کرے گی – ایک سوال کے جواب میں انہو ں نے کہا کہ انتخابی جلسوں سے بلاول بھٹو زرداری کے خطاب کے حوالے سے ہم نے درخواست کر رکھی ہے کہ کم از کم چند مقامات پر بلاول بھٹو ضرور خطاب کریں – انہو ں نے کہا کہ وہ جوڑ توڑ کے ماہر نہیں ہیں بلکہ سیدھی سیاست کرتے ہیں اور ایمانداری سے محنت کرتے ہیں – میاں منظور احمد وٹو کے ہمراہ پریس کانفرنس میں منیر احمد خان ، راجہ عامر خان اور دیگر پارٹی رہنما بھی موجود تھے

اپنا تبصرہ بھیجیں