Mian Manzoor Wattoo @MManzoorWattoo demands 20% raise in salary & pension of govt employees

10157141_575258609247631_314851195_n
The PPP has asked the PML-N government to give 20pc raise in salary and pension of government employees to offset the impact of inflation.
“The finance minister has declared that there is no proposal under consideration to increase salaries and pensions in this year’s budget. It is a cruel declaration when considered in the context of the inflation,” PPP central Punjab President Mian Manzoor Ahmad Wattoo said here on Thursday.
He said the finance minister had doled out Rs320 billion to industrialists by issuing a number of SROs, granting them exemptions in duties, as well. “It speaks volumes of the government’s friends and foes and its apathy towards the masses,” he said.
Mr Wattoo said the people had been affected by unprecedented inflation. “While 30pc population is food insecure the government’s economic policies are making their lives more miserable,” he said.
He said the PPP government had increased the salaries of government functionaries more than the rate of inflation to provide them relief with them.
Mr Wattoo said the PPP demanded the government give at least 20pc raise in the salaries of the government servants and pensioners.

Expressing solidarity with the government employees, he said the PPP would protest at all forums to force the government to accept the demand.

تنخواہیں نہ بڑھانے کا حکومتی اعلان ظالمانہ ہے

پیپلزپارٹی نے اپنے دور میں سرکاری ملازمین کی تنخواہوں میں خاطر خواہ اضافہ کیا
وزیرِ خزانہ کی کل کی اسمبلی میں تقریر پر تبصرہ کرتے ہوئے پیپلزپارٹی پنجاب کے صدر میاں منظور احمدو ٹو نے کہا کہ اُنکا یہ اعلان کہ آئندہ بجٹ میں سرکاری ملازمین کی تنخواہوں اور پینشنز میں کوئی اضافہ حکومت کے زیرِ غور نہیں ،ایک ظالمانہ اعلان ہے۔اُنہوں نے کہا کہ ملک میں افراطِ زر کی وجہ سے مہنگائی میں تھوڑے عرصے میں اتنا اضا فہ ہوا ہے جسکی مثال نہیں ملتی۔ اُنہوں نے مزید کہا کہ وزیرِ خزانہ نے مختلف ایس آر اوز( SROs)کے ذریعے سرماے داروں کو 320ارب روپے کا ریلیف دیا ہے جس سے حکومت کے دوستوں اور دشمنوں کا کی نشاندہی ہوتی ہے۔اُنہوں نے بڑے افسوس سے کہا کہ حکومت غریبوں سے آخری نوالہ تک چھین لینا چاہتی ہے اور جبکہ اشرفیہ کی جیبیں بھر نے کے لیے کوشاں ہے۔ اُنہوں نے کہا کہ ملک کی اکثر آبادی غربت کی لکیر کے نیچے رہنے پر مجبور ہو گئی ہے کیونکہ مہنگائی کی وجہ سے اُنکی آمدنی روزانہ کم ہو رہی ہے ۔اُنہوں نے کہا کہ ایک سروے کے مطابق 30فیصد لوگوں کو دو وقت کی روٹی بھی نصیب نہیں ہے اور وہ خالی پیٹ سونے پر مجبور ہیں۔ اُنہوں نے کہا کہ پیپلزپارٹی نے اپنے جموری دور میں سرکاری ملازمین کی تنخواہوں میں خاطر خواہ اضافہ کیا ہے جس سے اُنکے معیارِ زندگی میں اضافہ ہوا ہے۔ منظور وٹو نے حکومت سے مطالبہ کیا کہ وہ سرکاری ملازمین کی تنخواہوں اور پینشنرز کے لیے کم از کم 20فیصد اضافہ کرے ۔اُنہوں نے کہا کہ ایسا نہ کرنے کا مطلب یہ ہوگا کہ وہ عوام کو فاقہ کشی پر مجبور کر رہی ہے۔ اُنہوں نے سرکاری ملازمین اور پینشنرز کے ساتھ اظہارِ یکجہتی کرتے ہوئے یقین دلایا کہ پیپلز پارٹی ہر سطح پر اُنکے حق میں آواز اُٹھائے گی اور حکومت کو مجبور کر دے گی کہ وہ اُنکے جائز مطالبات تسلیم کر۔میاں منظور احمدو وٹو نے کہا کہ غریبوں کو بے نظیر اِنکم سپورٹ پروگرام کے تحت فوری اور مناسب نقد امداد کا پروگرام شروع کرے تا کہ اُنکی زندگیوں میں کچھ تو سکون ہو۔

اپنا تبصرہ بھیجیں