لاہور: پاکستان پیپلز پارٹی پنجاب ایگزیکٹیو کا صدر قمر زمان کائرہ کی سربراہی میں ویڈیو لنک اجلاس

لاہور: پاکستان پیپلز پارٹی پنجاب ایگزیکٹیو کمیٹی کا ویڈیو لنک اجلاس صوبائی صدر قمر زمان کائرہ کی زیر صدارت منعقد ہوا، اجلاس میں سید حسن مرتضیٰ کو فوکل پرسن مقرر کیا گیا، جو پنجاب میں حکومت، وزیراعلیٰ، اور اسپیکر پنجاب اسمبلی سے رابطہ کریں گے۔

اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے قمرزمان کائرہ نے کہا کہ وزیراعظم کی ہچکچاہٹ ملک کیلئے مہلک ثابت ہوسکتی ہے۔ چینی آٹا، گھی، سبزیاں اور پھل مہنگے ہونا بدقسمتی ہے۔

انہوں نے مطالبہ کیاکہ مارکیٹ کمیٹیوں کے ذریعے مصنوعی مہنگائی کو روکا جائے اور عوام کی مدد کیلئے معطل شدہ بلدیاتی ڈھانچہ فوری بحال کیا جائے۔

قمر زمان کائرہ نے مزید کہا کہ وبا ء کی صورت حال میں پیپلزپارٹی نے متحرک کردار ادا کیا،سندھ حکومت کے رول ماڈل کو پوری دنیا نے فالو کیا، وزیراعظم کی بجائے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری نے قوم کو واضح لائحہ عمل دیا۔

چیئرمین بلاول بھٹو نے کہا کہ ہم سیاست ایک طرف رکھ کر وزیراعظم کو تسلیم کرتے ہیں۔بد قسمتی سے وزیراعظم کا جوابی رویہ نامناسب تھا ۔ آنے والے دنوں میں اقتصادی بحران مزید شدت اختیار کرسکتا ہے ۔ وبا ء کے حوالے سے وزیراعظم کی تمام تھیوریز ناکام ہوئیں ، اگلے دو مہینوں میں وبا ء کے پھیلنے کا بہت خطرہ ہے،گجرات اور اس کے گردونواح میں باہر سے آنے والوں کی وجہ سے وبا ء پھیل رہی ہے ،وزیراعظم کی کنفیوزن ملک کے لئے مہلک ثابت ہو سکتی ہے،مزدوری اور دیہاڑی تو دو ہفتوں سے ختم ہو چکی ہے ۔

اجلاس میں فیصلہ کیا گیا کہ پیپلز پارٹی مثبت، اور اصلاح کی سیاست کرئے گی، قمر زمان کائرہ کا کہنا ہے کہ سیاست خدمت اور ریاست کے نظام کو چلانے کا اسلوب ہے، اور ہم سیاست کریں گے، اور ہماری تنقید کا مقصد اصلاح ہوگا، اور ہم تجاویز دیں گے۔ قمر زمان کائرہ نے کہا کہ سرکاری ہسپتالوں میں او پی ڈیز بند ہیں، پرائیوٹ ہسپتال اورکلینک بند ہونے ہونے کی وجہ سے مریضوں کے لئے بہت مشکلات اور مسائل ہیں، حکومت اس طرف توجہ دے۔ اس کے علاوہ حکومت ڈینگی کے خطرات کے پیش نظر بھی اقدامات کرے۔

اجلاس میں عمران خان کے غیر جمہوری اور غیر پارلیمانی رویے پر شدید تنقید ہوئی، قمر زمان کائرہ نے کہا کہ عمران خان ارادی طور پر کرونا کے حوالے سے قومی اتفاق رائے اور یکجہتی کو سبوتاژ کررہے ہیں، وہ ایک اڑیل نوجوان کا رویہ اختیار کئے ہوئے ہیں۔ پیپلز پارٹی اس منفی سیاست کو مذید ایکسپوز کرے گی۔

ایگزیکٹیو کمیٹی کے اجلاس میں کرونا کے حوالے سے عمران خان کی ٹائیگر فورس بنانے کے اعلان کو مسترد کردیا گیا، اس حوالے سے قمر زمان کائرہ نے کہا کہ ٹائیگر فورس، درحقیقت پی ٹی آئی فورس بنے گی، اگر کوئی فورس بنانی ہے تو اس میں سب کو شامل کیا جائے۔

اجلاس میں مطالبہ کیا گیا کہ کرونا کے حوالے سے ریلیف کے لئے بلدیاتی حکومت کے نظام کو بحال کیا جائے، لوکل گورنمنٹ پر مبنی نظام بہتر انداز میں ریلیف فراہم کرسکتا ہے، اس میں اپوزیشن کے لوگوں کو بھی شامل کیا جائے۔

سندھ حکومت نے جہاں کرونا کے خلاف قابل تحسین کردار ادا کیا ہے، اور دوسرے صوبے بھی اس کی تقلید کررہے ہیں، اس نے ریلیف کے لئے ڈسٹری بیوشن کا بھی ایک فامولا دیا ہے، سندھ حکومت نے ریلیف کے لئے بجلی، گیس کے بل معاف کردئیے ہیں، ایک ویب سائٹ بنادی ہے، جس میں آپ اپنا نام، پتہ، شناختی کارڈ فیڈ کریں، سندھ حکومت نے اس حوالے سے دیگر رفاہی تنظیمیوں کے ساتھ بھی ایک رابطہ قائم کیا ہے۔

اس موقع پر قمر زمان کا ئرہ نے کہا کہ یہ میری ذاتی رائے ہے کہ پارٹی کو عمران خان کو جواب دے دینا چاہیئے، نہ ہم عمران خان کے بلانے پر آئیں گے، اور نہ ہی اُس میٹینگ میں شریک ہوں گے، جس میں عمران خان ہوں گے۔ البتہ پارٹی، حکومت، وزارتوں۔ اسمبلی، پارلیمنٹ اور دیگر اداروں کے ساتھ تعاون کرے گی۔ اجلاس میں یہ بھی مطالبہ کیا گیا کہ بے نظیر انکم سپورٹ پروگرام میں پاورٹی سکورنگ کارڈ کو بڑھانے سے پچاس لاکھ لوگ مزید اس پروگرام میں شامل ہوجائیں گے۔

اجلاس میں چئیرمین بلاول بھٹو زرداری کی قیادت میں سندھ حکومت کی مثالی کارکردگی کو خراج تحسین پیش کیا گیا، اور اس کے علاوہ ڈاکٹرز، نرسز اور پیرا میڈیکل سٹاف کو خراج تحسین پیش کرتے ہوئے، ان کے لئے حفاظتی کٹس، گلوز، ماسک اور مراعات کا مطالبہ کیا گیا۔

اجلاس میں وفاقی، اور پنجاب حکومت کی ناکامی پر بات کرتے ہوئے اس بات پر زور دیا گیا کہ پارٹی تجاویز پر مبنی اصلاحی تنقید کرے گی۔

اس موقع پر چوہدری منظور احمد نے کہا کہ کرونا کے بحران نے سسٹم کو ایکسپوز کیا ہے، لیڈر شپ کو ایکسپوز کیا ہے، اس بحران میں چئیرمین بلاول بھٹو زرداری اور سندھ حکومت نے لیڈ کیا ہے، انہوں نے کہا کہ عمران خان جب لاک ڈاؤن کی مخالفت کررہے تھے اُس وقت پنجاب، خیبرپختونخواہ، اور بلوچستان حکومتوں نے لاک ڈاؤن کردئیے تھے، ڈی جی آئی ایس پی آر نے بھی لاک ڈاؤن کا اعلان کردیا۔ جو کام وزیراعظم کے کرنے کے ہیں وہ دیگر ادارے کررہے ہیں۔


چوہدری منظور احمد نے کہا کہ وزیراعلیٰ سندھ نے وفاق کو کہا ہے کہ ان کے فنڈز ریلیز کیے جائیں، اب عثمان بزدار کو بھی ان کے نقش قدم پر چلنا پڑا ہے۔

انہوں نے کہا ہے کہ قصور میں تفتان کی طرز کےقرنطینہ سےپورے پنجاب کو خطرہ ہے۔

وزیراعلی پنجاب نے بھی وفاق کو کہا ہے کہ ان کے فنڈز ریلیز کئے جائیں ،عثمان بزدار کو بھی سندھ کے وزیر اعلی کے نقش قدم پر چلنا پڑا ہے ۔

ہم اپنے پارلیمانی لیڈر سید حسن مرتضی کو فوکل پرسن مقرر کرتے ہیں تاکہ وہ وزیر اعلیٰ اورسپیکر کو ملیں اور انہیں پنجاب میں موثر اقدامات کی تجاویز دیں،پنجاب میں خاطرخواہ ٹیسٹنگ ہو رہی ہے نہ ہی ڈاکٹروں اور پیرامیڈیکس کو احتیاطی لباس فراہم کیا گیا ہے، مارکیٹ کمیٹیوں کے ذریعے مصنوعی مہنگائی کو فوری روکا جائے۔

سیکرٹری اطلاعات سید حسن مرتضیٰ نے کہا کہ کرونا کے دوران پنجاب حکومت ہمیں ایسے سمجھ رہی ہے جیسے ہم اچھوت ہوں، انہوں نے کہا کہ میرے حلقے میں کرونا ٹیسٹوں، علاج اور قرنطینہ کے کوئی انتظامات نہیں، یہاں مشتبہ افراد کو لایا جارہا ہے، اور اگر خدانخواستہ یہاں کرانا پھیلتا ہے تو اس کے خطرناک نتائیج برامد ہوں گے۔

سید حسن مرتضی نے کہا کہ وباء کے حوالے سے پنجاب حکومت بڑی طرح ناکام ہو چکی ہے،ہم مطالبہ کرتے ہیں پنجاب کے پارلیمانی لیڈر زکا فوری طور پر ویڈیو لنک پر اجلاس بلایا جائے۔پنجاب اسمبلی کا بھی اجلاس وڈیو لنک پر بلایا جانا چاہیے ۔ اس نا اہل حکومت کو عوام کے سامنے بے نقاب کیا جانا چاہئے۔۔پنجاب کے لوگوں کے ٹیسٹ نہیں ہو رہے تو کیسے پتا چلے کہ اصل تعداد کتنی ہے۔ یہ موقع ہے کہ اس نا اہل حکومت کو عوام کے سامنے بے نقاب کیا جائے ۔

اجلاس میں پی پی پی وسطی پنجاب کے جنرل سیکرٹری چوہدری منظور احمد، سیکرٹری اطلاعات سید حسن مرتضیٰ، سنئیر نائب صدر اسلم گل، ڈپٹی جنرل سیکرٹری عثمان سلیم ملک، تسنیم قریشی، دیوان شمیم بھٹی، شاہ سید عنائت،سردار سلیم حید ر، اعجاز سما، رائے شاہجہان بھٹی، ذوہیب بٹ، علامہ یوسف اعوان اور دیگر نے بھی شرکت کی۔

قمر زمان کائرہ نے آخر میں عہدیداروں اور کارکنوں کو ہدایت دیتے ہوئے کہا کہ احتیاط ضرور کریں، مگر آپ کے جو فرائض اور ذمہ داریاں ہیں اُن کو بھی احتیاطی تدابیر اختیار کرتے ہوئے پورا کریں۔

کیٹاگری میں : News

اپنا تبصرہ بھیجیں