پیپلز پارٹی کی پنجاب کی سطح پر ویڈیو لنک آل پارٹیز کانفرنس کے انعقاد کے بعد صدر پی پی پی وسطی پنجاب قمر زمان کائرہ کی پریس کانفرنس

پیپلز پارٹی پنجاب کے صدر قمر زمان کائرہ کہتے ہیں کہ کورونا کے معاملے پر وفاقی حکومت کا رویہ غیر سنجیدہ ہے۔

قمر زمان کائرہ نے پیپلز پارٹی پنجاب کے تحت ویڈیو لنک کے ذریعے منعقد کی گئی آل پارٹیز کانفرنس (اے پی سی) کے بعد پریس کانفرنس کے دوران کہا کہ وفاقی حکومت کی جانب سے پہلے لاک ڈاؤن کی مخالفت کی گئی، اب اور باتیں کی جا رہی ہیں۔ انہوں نے کہا کہ اب کہا جا رہا ہے کہ سندھ حکومت گڈز ٹرانسپورٹ چلنے نہیں دے رہی، حکومتِ سندھ نے پہلے دن سے ہی گڈز ٹرانسپورٹ کو لاک ڈاؤن سے مستثنیٰ کیا ہوا ہے۔

ویڈیو لنک پریس کانفرنس کے دوران قمر زمان کائرہ نے کہا کہ کورونا وائرس سے پیدا صورتحال میں اپوزیشن جماعتیں متفق ہیں جبکہ حکومت فرائض ادا کرنے میں ناکام ہوئی ہے۔

انہوں نے کہا کہ آل پارٹیز کانفرنس صوبے کی سطح پر تھی، جس کا مقصد سیاسی جماعتوں اور قومی قیادت کو اکھٹا کرنا تھا، اس سے قبل پیپلز پارٹی چئیرمین بلاول بھٹو زرداری کی قیادت میں آل پارٹیز کانفرنس منعقد کرچکی ہے، جس پر ساری جماعتوں نے چئیرمین بلاول بھٹو زرداری کو خراج تحسین پیش کیا ہے، اور سندھ حکومت کی کرونا کے خلاف حکمت عملی اور اقدامت کو سراہا ہے، انہوں نے کہا کہ اے پی سی میں شریک سیاسی جماعتیں متفق ہیں کہ حکومت ناکام ہوچکی ہمیں اپنے فرائض سر انجام دینے میں، اے پی سی میں اس بات کا فیصلہ ہوا ہے کہ ہر دس بارہ دن بعد ایسی ایک اے پی سی ہوگی، جس کے لئے ہماری خدمات حاضر ہیں، اور اگر کوئی اور جماعت دعوت دے گی تو ہم اس میں شامل ہوں گے۔ اے پی سی نے حکومت کے ناقص اقدامات کی نشاندہی کی ہے۔

صدر پیپلز پارٹی پنجاب قمر زمان کائرہ نے یہ بھی کہا کہ اس سوچ اور طرزِ عمل کے ساتھ کورونا سے نہیں نمٹا جا سکتا۔ انہوں نے کہا کہ کرونا بحران میں وفاقی اور پنجاب حکومت قومی رسپانس دینے میں ناکام رہی ہے،حکومت متبادل روزگار فراہم کرنے کی بجائے معاملات کو متنازع بنارہی ہے،ٹائیگر فورس پی ٹی آئی کی سیاسی فوج ہے، ہم اس کو سیاسی احتجاج میں دیکھ چکے ہیں،تمام سیاسی جماعتیں ٹائیگر فورس کو مسترد کرچکی ہیں،ٹائیگر فورس کی بجائے مقامی حکومتوں کو بحال کریں، محلہ کمیٹیاں بنائیں،سندھ حکومت نے لیڈرشپ فراہم کی ہے، اہم فیصلے کئے ہیں، جس کو باقی صوبے فالو کررہے ہیں، عمران خان لاک ڈاؤن میں پھنس چکے ہیں، مرکزی اور پنجاب حکومت نے پنجاب کو نظر انداز کیا ہوا ہے۔

قمر زمان کائرہ نہ کہا کہ سیاست نہ کرنا آمریت کی زبان ہے، ہم سیاست کریں گے، مگر منفی رویہ اختیار نہیں کریں گے۔
انہوں نے کہا کہ جو اقدامات پیپلز پارٹی، اور سندھ حکومت نے کئے ہیں وہ وفاقی حکومت کے کرنے کے تھے، انہوں نے کہا کہ عمران خان خلاف حقائق بات کررہے ہیں، انہوں نے قوم سے چار خطابات کئے ہیں، اور قوم سے خطابات کے خاص مقاصد ہوتے ہیں، ان خطابات میں وہ مقاصد نظر نہیں آئے، ایک طرف وہ لاک ڈاؤن کی مخالفت کررہے ہیں تو دوسری طرف وہ کہہ رہے ہیں کہ گھر سے باہر نہ نکلیں، ملک کے اندر دکانیں بند ہیں، فیکٹریاں بند ہیں، کاروبار بند ہیں، جب یہ صورت حال ہے تو پھر دیہاڑی دار اور مزدور کو کام کیسے ملے گا؟ انہوں نے کہا کہ عمران خان نے قوم کو بتایا کہ ہم نے پہلی میٹنگ پندرہ جنوری کو کی، جبکہ وزیر اعلیٰ پنجاب کہہ رہے ہیں کہ ہم نے پہلی میٹنگ تین جنوری میں کی تھی، مگر اب تک کیا کرنا ہے اس کا کوئی اتہ پتہ نہیں ہے، سندھ حکومت نے فروری میں کرونا کیخلاف اقدامت شروع کئے تھے، اور آج سب سے آگے ہے۔
این ڈی ایم اے اپنے طور پر چین اور بیرونی دنیا سے رابطہ کررہا ہے، جس کی وجہ سے چین سے امدادی سامان پاکستان پہنچا ہے، کہاں ہے وفاقی حکومت اور پنجاب حکومت کی پالیسی اور کارکردگی؟

انہوں نے کہا کہ ہمارا مطالبہ ہے کہ حکومت فی الفور بلدیاتی ادارے بحال کرے جو کرونا وائرس کے خاتمے میں مددگار ثابت ہوں گے،کرونا کے مسئلے کو فرقہ وارانہ رنگ نہیں دینا چاہیے، زائرین ہوں یا تبلیغی جماعت، جو بھی مسائل پیدا ہوئے ہیں یہ آفت پر قابو کرنے کے بعد احتساب ہونا چاہیے ،وزیراعلی بلوچستان کہہ چکے ہیں، زائرہن کے مسئلے پر کسی نے انہیں سپورٹ نہیں کیا،ہم آج بھی لاک ڈاون مزید سخت کرنے کے حق میں ہیں،کورونا پر حکومتی اداروں کے درمیان باہمی کوآرڈینیشن نہیں ہے، ہر کوئی اپنے فیصلے کررہا ہے،سندھ حکومت نے تمام مکاتب فکر کے علماء کو اعتماد میں لے کر مساجد، امام بارگاہوں میں اجتماعات پر پابندی عائد کی۔

انہوں نے کہا کہ وبا ء کے حوالے سے وزیراعظم کی تمام تھیوریز ناکام ہوئیں ، اگلے دو مہینوں میں وبا ء کے پھیلنے کا بہت خطرہ ہے،گجرات اور اس کے گردونواح میں باہر سے آنے والوں کی وجہ سے وبا ء پھیل رہی ہے ،وزیراعظم کی کنفیوزن ملک کے لئے مہلک ثابت ہو سکتی ہے،مزدوری اور دیہاڑی تو دو ہفتوں سے ختم ہو چکی ہے ۔

انہوں نے حکومت کے 665 ارب روپے کے ریلیف پیکیج کو پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ سیلز ٹیکس ریفنڈ کے لئے 100 ارب روپے مختص کیے گئے ہیں ، جو در حقیقت برآمد کنندگان کا ہے جو انہیں ایڈوانس ٹیکس کے طور پر ادا کیا گیا تھا۔

اسی طرح ، انہوں نے کہا ، حکومت نے 100 ارب روپے کے قرضوں کو ملتوی کردیا ہے ، جس کا پھر سے سرکاری آمدنی پر کوئی اثر نہیں پڑے گا۔ گندم کی خریداری کے لئے 260 ارب روپے مختص کیے گئے ہیں ، جو ایک مستقل عمل ہے ہر سال حکومتیں کرتی ہیں اور اسے کرونا وائرس سے نمٹنے کی کوششوں میں شامل نہیں ہونا چاہئے۔ انہوں نے کہا کہ حکومت نے پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں کمی کے اثرات کے طور پر 75 ارب روپے کا اندازہ لگایا ہے ، جو حقیقت میں 250 ارب روپے ہے لہذا حکومت کو عوام کو زیادہ سے زیادہ فائدہ پہنچانا چاہئے۔

انہوں نے کہا کہ حکومت نے تین ہزار سے پانج ہزار روپے تک کے یوٹیلیٹی بلوں کو موخر کیا ہے کیونکہ یوٹیلیٹی بلوں کی سادہ موخر کرنا کافی نہیں ہے ، کیوں کہ صارفین کو تین ماہ بعد اسے ادا کرنا پڑے گا۔

حکومت نے مزدوروں کے لئے 200 ارب روپے دینے کا اعلان کیا ہے لیکن ابھی تک کوئی ٹھوس پالیسی نہیں دی گئی ہے۔ اس میں کوئی اندازہ نہیں ہے کہ فیکٹریوں میں کتنے مزدوروں میں یہ رقم تقسیم کی جائے گی ، اس کا مطلب یہ ہے کہ حکومت کی طرف سے کوئی پالیسی موجود نہیں ہے۔ زراعت اور سمال اینڈ میڈیم انٹرپرائزز کے لئے 100 ارب روپے مختص کیے گئے ہیں لیکن اس کی کوئی تفصیل نہیں ہے۔ یومیہ اجرت دہندگان کے لئے ایک سو پچاس ارب روپے مختص کیے گئے ہیں لیکن ملک میں روزانہ اجرت دینے والوں کی تعداد کے بارے میں کچھ پتہ نہیں ہے۔ حکومت کے پاس تقسیم کا کوئی طریقہ کار دستیاب نہیں ہے۔ اس سارے پیکج میں حکومت کیا حصہ ڈال رہی ہے؟

انہوں نے مطالبہ کیا کہ سرکاری ہسپتالوں میں او پی ڈیز بند ہیں، پرائیوٹ ہسپتال اورکلینک بند ہونے ہونے کی وجہ سے مریضوں کے لئے بہت مشکلات اور مسائل ہیں، حکومت ان کو فی الفور کھولے، انہوں نے مطالبہ کیا کہ بے نظیر انکم سپورٹ پروگرام میں پاورٹی سکورنگ کارڈ کو بڑھانے سے پچاس لاکھ لوگ مزید اس پروگرام میں شامل ہوجائیں گے۔ اور لو گوں کو پیسے کیش کی صورت میں دیں، انہوں نے وزیراعظم کے ریلیف پیکج پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ ریلیف پیکج میں دیہاڑی داروں میں امداد کیسے قسیم ہوگی اس کا کوئی میکنزم نہیں رکھا گیا، انہوں نے مطالبہ کیا کہ ریلیف فنڈ میں یوٹیلٹی سٹورز کے لئے رکھے گئے پچاس ارب کا سامان عوام میں مفت تقسیم کیا جائے۔

انہوں نے کہا کہ تبلیغی جماعت کا ایشو ہے کہ تبلیغی جماعت کے لوگ تبلیغ پہ گئے وہ بڑے نیک لوگ ہے بہت اچھے لوگ ہے ہم ان کے ساتھ ہے وہ پاکستان کے لئے ، دنیا بھر کے لئے امن مانگنے والے ہیں لیکن جہاں لوگ اکھٹے ہوتے ہیں اس وجہ سے یہ وباء پھیلی ہے اس کے کئے کچھ اقدامات اٹھانے کی ضرورت ہے اس کی اس جماعت کو الزام دینا انکے مراکز کو الزام دینا یہ نہیں ضرور ی بعد میں دیکھیں گے کون کس کا زمہ دار تھا آج ہم سب کو ملکر کرونا کے خلاف یکجہتی سے جنگ لڑنا ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ آفت پر قابو پانے کے بعد کورونا وائرس سے جو بھی مسائل پیدا ہوئے ہیں ان پر احتساب ہونا چاہیے۔

اس موقع پر پیپلز پارٹی پنجاب کے پارلیمانی لیڈر سید حسن مرتضیٰ نے کہا کہ ہم نے اے پی سی کے لئے تحریک انصاف کو بھی دعوت دی تھی، تاکہ وہ اپنا موقف پیش کرسکے، ہمارا مقصد حکومت پر محض تنقید کرنا نہیں، بلکہ مثبت رائے اور تعمیری تجاویز دینا ہے، اور ہم اپنی رائے دیتے رہیں گے۔ انہوں نے کہا کہ پنجاب میں کرونا کے خلاف اقدامات بہت تاخیر سے لئے گئے،پنجاب حکومت پنجاب اسمبلی کو اعتماد میں لے،سپیکر پنجاب اسمبلی کا ویڈیو لنک اجلاس بلائے،اگر پنجاب اسبملی کا اجلاس ممکن نہیں تو پارلیمانی لیڈرز کا اجلاس بلایا جائے،پنجاب حکومت مجبوری میں سندھ حکومت کو فالو کررہی ہے۔

On the invitation of Pakistan Peoples Party #Central #Punjab an #All #Parties #Conference Punjab level to review the…

Posted by Qamar Zaman Kaira on Wednesday, April 1, 2020

قبل ازیں، پیپلزپارٹی پنجاب کے زیر اہتمام وڈیولنک پر آل پارٹیز کانفرنس منعقد ہوئی، جس کی کی میزبانی پیپلزپارٹی پنجاب کے صدر قمر زمان کائرہ ، جنرل سیکرٹری چوہدری منظور احمد اور سیکرٹری اطلاعات سید حسن مرتضیٰ نے کی، اس میں مسلم لیگ ن کی طرف سے رانا ثناءاللہ خان ، اویس لغاری اور عطا تارڑ شریک ہوئے، پیپلزپارٹی کے اسلم گل،ملک عثمان ڈاکٹر خیام حفیظ اور عاصم بھٹی نے شرکت کی، مسلم لیگ ق کے کامل علی آغا اور لیفٹ فرنٹ کے فاروق طارق بھی اے پی سی میں شریک ہوئے، جماعت اسلامی پنجاب کے امیر جاوید قصوری اے پی سی میں شریک ہوئے،عوامی نیشنل پارٹی کے منظورخان اور جے یو آئی ف کے ڈاکٹر عتیق الرحمن شریک ہوئے، اور عوامی ورکرز پارٹی کے عمار رشید اور برابری پارٹی کے جواداحمد نے بھی اے پی سی میں شرکت کی اور خیالات کا اظہار کیا۔

اپنا تبصرہ بھیجیں