ذوالفقار علی بھٹو…معمار وطن تو زندہ ہے .. سید خورشید احمد شاہ کی خصوصی تحریر

1479358_560065637402501_1057031676_n
ذوالفقار علی بھٹو شہید ایک زیرک سیاستدان ، مدبر رہنما اور کرشمہ ساز شخصیت تھے ۔ انہوں نے سیاست کو سرمایہ داروں کے ڈرائینگ روموں سے نکال کر غریبوں کی دہلیزوں پر لاکھڑا کیا۔ اس تبدیلی کی بدولت بے زبان عوام کو زبان ملی اور انہیں اپنے حق کیلئے لڑنے کا سلیقہ آیا۔ آج کا نظام بھٹو شہید کی عطا ہے جنہو ںنے نہ صرف جمہوری سیاست کی بنیاد رکھی بلکہ اسے ایک قابل عمل اور قابل تقلید  نظام بنادیا ۔ ماضی قریب کے ورق الٹ کر دیکھیں تو معلوم ہوگا کہ اس ملک میں مفاد پرستوں نے آمروں کے ساتھ مل کر بھٹو شہید کے فلسفے اور نظام   کوآئین سے نکال باہر کرنے میں کوئی کسرباقی نہ چھوڑی۔ مگر آج  بھی اگر ملک کے مسائل کا  درست  اورسب کیلئے قابل قبول کوئی حل موجود ہے تو وہ   صرف  1973   کیجمہوری آئین کی بدولت ہے ۔ جسے بھٹو شہید نے اپنے پیچھے چھوڑا ہے۔ بھٹو کی سیاست کا مقصد عوامی نمائندگی کا حق وڈیروں سرمایہ داروں اور صنعت کاروں کی مٹھی سے نکال عوام کی جھولی میں ڈالنا تھا۔ اسی مقصد کے تحت انہوں نے سرزمین بے آئین کو 1973میں متفقہ آئین دیا ۔ پسے ہوئے طبقات کو شعور دیا، عوام کو عزت نفس اور خود اعتمادی دی۔ بھٹو شہید جانتے تھے کہ عوام کے حق میں مثبت اور پائیدار تبدیلی محض نعروں سے نہیں آ سکتی۔  انہوں نے ایک طرف خلیجی ممالک میں پاکستانی عوام کیلئے روزگار کے بے پناہ مواقع مہیا کئے، تو دوسری جانب پاکستان کو ایٹمی قوت بنانے کی بنیاد رکھی، سٹیل مل کا منصوبہ پایہ تکمیل تک پہنچایا، کامرہ ایروناٹیکل کمپلیکس کی تکمیل کی ۔ بھٹو نے جاگیرداری نظام کا خاتمہ کیا  ، غریبوں کیلئے مفت تعلیم کے دروازے کھولے اور سب سے بڑھ کے تیسری دنیا اور اسلامی دنیا کے اتحاد کے لئے عظیم تر جدوجہد کی بنیاد رکھی۔ بھٹو  پاک چین دوستی کے معمار  تھے اور  1974 کی اسلامی سربراہی کانفرنس اسلامی دنیا سے ہمارے تعلقات کے ضمن میں ایک سنہرا باب ہے۔ بھٹو نے  ملک کو حقیقی جمہوری فلاحی مملکت بنایا۔ بھٹو نے  آئین اور قانون میں  محمد عربی کے خاتم الرسل  ہونے کا اقرار کر کے دین  اسلام کے ایک عاجز خدمتگار کا ثبوت دیا۔ بھارت سے 90 ہزار جنگی قیدی رہا کروائے مگر بھٹو کے ساتھ کیا ہوا ؟ ایک آمر ضیاالحق نے یہ درخشندہ چراغ گل کر دیا، ضیاالحق اسلام کا نام لیوا تھا مگر اس آمر کا اسلام سے کچھ لینا دینا نہیں تھا بلکہ بیرونی اور استعماری قوتوں کے ایجنڈے کی تکمیل  ہی  اس کا مشن تھا۔  جس کی تکمیل کے لئے  اس نے    ناجائز  اقتدار کو طول دے کر بیرونی آقائوں کی جنبش ابرو پر پر ایسے ایسے  اقدامات کئے  کہ ملک میں دہشت گردی، لاقانونیت، منشیات فروشی، اسلحہ کی سمگلنگ اور عدم استحکام کو پنپنے کا  موقع مل سکے۔ کیا  ایک سچا مسلمان دوسروں کے اشاروں پر ایسا کر سکتا ہے، حکمرانی  ضیاء الحق کا حق نہیں تھا مگر اس نے اقتدار پر ناجائز قبضہ کیا۔ 90 دن میں انتخابات کا وعدہ کیا اور بلاوجہ وعدہ توڑا۔ اقتدار کو طول دینے کیلئے قوم سے ریفرنڈم کی صورت میں تاریخی جھوٹ اور منافقت کا سہارا لیا۔ ضیاء الحق نے اپنے دور آمریت کے ابتدائی حصہ میں اسلام کا لبادہ اوڑھ کر پیپلزپارٹی کے کارکنوں رہنمائوں اور عام لوگوں پر کوڑے برسائے اور تاثر دیا کہ ــ”اسلامی دورـ”  میںـ ” اسلامی سزائوں” کا اجراء ہوگیا ہے۔ مگر بھٹو شہید کو ناحق پھانسی پر چڑھانے کے بعد اور اس اطمینان کے بعد کہ بھٹو ایسی عظیم شخصیت کو راستے سے ہٹا کر اس کے اقتدار کو کوئی خطرہ نہیں رہا اس آمر نے کوڑوں کی سزا موقوف کردی۔ میں پوچھتا ہوں کہ نعوذبااللہ کیا ضیاالحق  کو کوئی الہام ہوا تھا کہ اس نے کچھ عرصہ کوڑوں کی سزا دی اور پھر اسے  ہمیشہ کیلئے ترک کردیا۔ اگر اسلام میں کوڑے تھے تو اس نے اپنے تمام دور میں اس سزا کو کیوں  رائج نہ رکھا ؟ اس کا جواب بہت آسان  ہے  ایسا اس نے صرف بھٹو کی مقبولیت کو طاقت سے کچلنے  کیلئے کیا تاکہ اس کے اقتدار پر منڈلاتے حظرات دور ہوسکیں ۔ بھٹو شہید کی پھانسی کے بعد اور” افغان جہاد کے آغاز کے بعد جب اسے مغربی آقائوں کی آشیر باد حاصل ہوگئی تو اس کو اسلامی سزائوں کا  کبھی بھول کر بھی خیال نہ آیا۔   درحقیقت وہ اسلام نہیں تھا بلکہ ضیا کا اسلام تھا جس میں سیاسی کا رکنوں کو کوڑے مارے گئے مگر مجرموں سے رعایت برتی گئی۔ اسے یہ اختیار کس نے دیا  اس کا  وہ کبھی جواب نہ دے سکے ۔
 
وقت سب سے بڑا منصف ہے اور وقت کا انصاف ہم نے دیکھ لیا کہ بھٹو شہید نے عوام اور ملک سے اپنی سچی لگن کی بدولت قبر سے بھی ملک اور عوام کے دلوں پر حکومت کی اور  ضیاء الحق آج تک محر وم و تنہا ہے۔  عوام بھٹو شہید کے نظریات، عمل اور قربانی کو ہمیشہ یاد رکھیں گے کہ اس نے قتل گاہوں سے خوف کھا کر سچائی کا راستہ نہیں چھوڑا بھٹو نے جو کہا وہ کر دکھایا ” میرا جینا مرنا عوام کے ساتھ ہے۔  میں مسلمان ہوں اور مسلمان کی تقدیر خدا کے ہاتھ میں ہوتی ہے   اور میں اپنے شفاف ضمیر کے ساتھ اپنے  رب کا سامنا کر سکتا ہوں۔  بھٹو نے کہا اور  پھرایسا ہی کیا۔  یہی وجہ ہے کہ آج ان کی شہادت کے 35 سال بعد بھی بھٹو زندہ ہے اور عوام کے دلوں کی دھڑکن ہے۔ یہ جناب ذوالفقار علی بھٹو کی عظیم جدوجہد اور قربانی کا ثمر ہے کہ آج جمہوریت پھل پھول رہی ہے اورــ ” ظلمت کو ضیائ” کہنے والا اب کوئی نہیں۔ 4 اپریل 1979 کو جناب ذوالفقار علی بھٹو نے قائداعظم سے کیا گیا اپنا وعدہ سچ کردکھایا اور غریبوں اور محروموں کو عزت نفس اور توقیر دینے والا اپنی خود داری اور انا کا سودا کئے بغیر پھانسی کے تختہ پر جھول گیا۔ 1945میں بھٹو شہید نے قائداعظم کو ایک خط تحریر کیا جبکہ وہ اس وقت سکول کے طالب علم تھے انہوںنے لکھا ” ہماری تقدیر پاکستان ہے ہماری منزل پاکستان ہے اور ہمیں کوئی نہیں روک سکتا۔ آپ نے ہم کوانسپائر کیا اور ہمیں آپ پر فخر ہے۔ ابھی میں سکول میں ہوں اور اپنی مقدس سرزمین کے حل و عقد کی کوئی مدد نہیں کرسکتا ۔ لیکن ایک وقت آئے گا جب میںپاکستان کیلئے اپنی جان بھی قربان کردوں گا ” بھٹو نے یہ کر دکھایا اور اس کی قربانی بہت عظیم تھی ۔ اسی لئے مجھے یہ کہنے میں کوئی عار نہیں کہ جس طرح سقراط زندہ ہے مگر اس کے قاتل مٹ چکے ہیں۔ اسی طرح بھٹو زندہ رہے گا اور اس کے قاتل بے نام و نشان ہو کر تاریخ کے اوراق میں گم ہوجائیں گے۔
 

اپنا تبصرہ بھیجیں