Complete text of #PPP patron-in-chief @BBhuttoZardari’s address on #SZAB's 35th Martyrdom Anniversary

bilawal-pakistan-ppp_4-4-2014_143508_l

میرے ساتھیوں،

آج ہم اپنی تاریخ کے ایسے موڑ پر کھڑے ہیں جہاں ہر طرف بے یقینی ہے۔
ہر آنکھ میں شک ہے اور ہر دل خوف سے بھرا ہواہے۔
ایک طرف دہشت گرد ہیں جو ہم سے ہماری شناخت ،ہماری پہچان
اور ہمارا وجود چھین لینا چاہتے ہیں، اور دوسری طرف جدید دنیا ہے جو ہم سے سوال کر ر ہی ہے کہ تم کون ہو؟

ہماری تہذیب گم ہو رہی ہے، ہماری معیشت دم توڑ رہی ہے ،
ہمار ی سیاست ذاتی مفادات کے تحفظ تک محدود ہو چکی ہے ،
یقین ختم ہو چکا ہے اور اتحاد ختم ہو رہا ہے۔

ایسا کیوں ہے؟ ہمارا جرم کیا ہے؟
ہم نے کونسی غلطی کی ہے کہ تاریخ جسے معاف کرنے پر تیار نہیں؟
یہ سوال اتنا مشکل نہیں کہ ہم ان کا جواب نہ دے سکیں۔

ہاں ہمارا جرم بہت بڑا ہے!!
کہ ہم نے اپنی تاریخ کے عظیم ترین لیڈرذوالفقار علی بھٹو کا عدالتی قتل کیا ہے۔
ہم نے آج سے 35سال پہلے وہ سورج بجھا دیا تھا جس کی روشنی میں ہم نے زندگی کا سفر طے کرنا تھا۔

ہم نے وہ چراغ گل کردیا تھا جس کی روشنی ہماری اندھیری راتوں کا سرمایہ تھی،
ہم نے وہ خزانہ لُٹا دیا تھا جس کے بل پر ہم نے دنیا میں جینا تھا ،

میرے ساتھیوں،
ذوالفقار علی بھٹو صرف ایک وجود نہیں تھا ، ایک سوچ، اور ایک فلسفہ تھا،
ایک نظام کا نام تھا، ایک طرف وہ لوگ تھے جو قیامِ پاکستان کے مخالف تھے،
جو مذہب کے نام پر پوری قوم کو انتہا پسندی کی جنگ میں جلا کر راکھ کر دینا چاہتے تھے،
اور دوسری طرف ذوالفقار علی بھٹو تھے ، جس نے دنیا کو ایک ماڈرن اسلامک نیشن کا ویژن دیا تھا۔۔
جو روشنی کی علامت تھا ،
جس کی پکار پوری قوم ایک ہو کر دنیا میں جینا چاہتی تھی ،
ہاں اُسی ذوالفقار علی بھٹو کو اس ملک کے نام نہاد منصفوں نے تختہِ دار پر لٹکا دیا ،
اُس نے کہا تھا کہ میری شہادت پر ہمالیہ روئے گا، اور دنیا نے دیکھا کہ اُ س سورج کے ڈوبتے ہی جہالت کے اندھیرے پھیل گئے،
ہمارے وہ شہر جہاں کبھی کسی نے ہتھیاروں کا نام بھی نہیں سنا تھا ،
کلاشنکوف کی گولیوں سے گونجنے لگے ،
ہمارے وہ معصوم لوگ جو ایک معاشرے میں امن و امان سے رہتے تھے ،
جو پیار اور محبت کو اپنا سرمایہ مانتے تھے،
فرقوں میں بٹ گئے،
کہیں کوئی سپاہ بن گئی اور کہیں کوئی لشکر بن گیا ،
کسی نے ہمیں علاقے کے نام پر تقسیم؛اور کسی نے ذات اور نسل کے نام پر ہمارے ٹکڑے کر دیئے،

ہاں!!
میرے بھائیوں وہ انسا ن غریب کا سہارا تھا اور آج ہمارا سہارا کون ہے؟؟
کھپے کھپے بھٹو کھپے!!!

وہ جاگیر داروں کے شکنجے میں جکڑے ہوئے کسانوں کا سہارا تھا ،
کھپے کھپے بھٹو کھپے!!!

وہ سرمایہ داروں کے ظلم کی چکی میں پستے ہوئے مزدوروں کی آوا ز تھا ،
کھپے کھپے بھٹو کھپے!!!

وہ بیروز گاری کی آگ میں جلتے ہوئے نوجوانوں کی امید تھا،
کھپے کھپے بھٹو کھپے!!!

وہ مردوں کے اُس معاشرے میں ہوس کا شکار ہونے والی مظلوم عورتوں کی آخری پناہ تھا،
کھپے کھپے بھٹو کھپے!!!

وہ تھا تو دنیا کی بڑی سے بڑی طاقت کو بھی پاکستا ن کی طرف میلی آنکھ سے دیکھنے کی جرأ ت نہیں تھی،
کھپے کھپے بھٹو کھپے!!!

وہ تھا تو پاکستان کے 90 (نوے )ہزار فوجی دشمن کی قید سے آزاد ہوئے تھے،
کھپے کھپے بھٹو کھپے!!!

وہ تھا تو عالمِ اسلام کے لیڈرز پاکستا ن کی دھرتی پر اکٹھے ہوئے تھے،
کھپے کھپے بھٹو کھپے!!!

وہ تھا تو اُسنے ایٹم بم بنا کر پاکستان کو ناقابلِ تسخیر بنا دیا ،
کھپے کھپے بھٹو کھپے!!!

بد قسمت تھے ہم،
کہ بھٹو نہ رہا ،
بد قسمت تھے ہم،
کہ چند جھوٹے مُلا اس کی قسمت کے ٹھیکیدار بن گئے،

بد قسمت تھے ہم،کہ ضیاء الحق جیسے ڈکٹیٹر نے جہاد کے نام پر ہمیں دہشت گردی کی دَلدل میں ڈال دیا ،
بد قسمت تھے ہم ، کہ آمریت کی گود میں پلنے والے خون کے پیاسے درندے ،اس کے وارث بن گئے۔۔۔

اور آج جب میں اپنے سندھ کو جلتا ہوا دیکھتا ہوں،
جب میں اپنے بلوچستان کو لٹتا ہوا دیکھتا ہوں،
جب میں اپنے خیبر پختون خواہ (کے پی کے) کو خودکش حملوں سے لرزتا ہوا دیکھتا ہوں،
اپنے پنجاب کو دہشت گردوں کے ہاتھوں میں یرغمال بنتا ہوا دیکھتا ہوں،
تو سوچتا ہوں کہ ذوالفقار علی بھٹو کو شہید نہ کیا جاتا تو کی یہی حالات ہوتے؟

نہیں، ایسا نہ ہوتا ،
اور یہی وجہ ہے کہ وہ سورج بجھا دیا گیا ،
مقصد یہ تھا کہ ہمیں اندھیروں میں رکھا جائے،
اور ہم اندھیروں میں ہیں،
جہالت کے اندھیرے آج اتنے بڑھ گئے ہیں کہ آنکھوں والے مذاکرات کے نام پر اندھوں سے راستہ پوچھتے ہیں،
ہمیں جہالت کی نہیں روشنی کی ضرورت ہے۔۔۔آج اس ملک کو ایک بار پھر بھٹو کی ضرورت ہے۔۔
کھپے کھپے بھٹو کھپے

ساتھیوں ،
ٓآج حکومت پرائیوٹائزیشن کی باتیں کر رہی ہیں۔۔۔ کہا جارہا ہے کہ آج ہماری معیشت کو بچانا ہے تو پرائیوٹائزیشن کرو۔۔
پرائیوٹائزیشن کے نام پر اب ہمارا گھر بیچنے کی تیاری ہورہی ہے تاکہ حکومت اپنا بندر بانٹ/پرسنلائزیشن کا ایجنڈا پورا کرسکیں۔۔

میاں صاحب۔۔۔
آپ کو پتا ہے کہ تھر میں،چولستان میں ، جنوبی پنجاب ،گلگت بلتستان میں، اور پاکستان کے دوسرے علاقوں میں شدید غربت ہے۔۔
آپ میرے ساتھ تھر بھی گئے تھے، آپ نے دیکھا کہ وہ لوگ غربت کا شکار تھے،لیکن اُن کے گلے میں سندھ کے روایتی زیور تھے،
اُن کے ہاتھوں میں تھر کی روایتی چوڑیاں تھیں ،
ُاُن لوگوں کے حالات چاہے جیسے بھی ہو،
وہ لیکن اپنے اثاثے کبھی نہیں بیچیں گے ۔
اس لیے نہیں بیچیں گے کہ یہ اثا ثے اُن کے بچوں کے ہیں، یہ زیور ،
یہ اثاثے ،
اُن کا نہیں بلکہ اُن کی آنے والی نسلوں کا ہے۔
اسی طرح پاکستان کے اثا ثے غریبوں کا سرمایہ ہیں، اور اسے بنانے کے لیے ہمارے مزدوروں نے،
ہماری نسلوں نے اپنا خون اور پسینہ بہایا ہے،

ہم پاکستان کے سرمائے کو آپ کی پرسنلائزیشن کی آگ میں نہیں جلنے دینگے،
ہم اپنی قوم کو بیروزگاری کی دَلدل میں نہیں ڈالینگے۔

میں آپ کو یہ بھی یاد دلا دوں کہ ان اثاثوں میں پچاس فیصد حصہ صوبوں کا ہے اور پچا س فیصد حصہ وفاق کا ہے ،
میں بلوچستان ، خیبر پختون خواہ اور سندھ کے وزراء اعلیٰ سے گزارش کرتا ہوں کہ وفاق سے مطالبہ کریں،
کہ ان اثاثوں میں صوبوں کو اُن کاحق دیا جائے،
وفاق کو یہ اجازت نہ دیں کہ وہ آپ کے اثاثے لے کر اپنے یاروں میں اونے پونے داموں پر سستا بیچ دیں،
آپ قرضوں کی بات کرتے ہیں، میں آپ کو یہ بھی بتا دوں کہ پاکستان پر جتنا بھی قرض ہے وہ وفاق کا لیا ہوا ہے،اُسے ادا کرنے کے لیے آپ صوبوں کے حقوق نہیں چھین سکتے۔۔

یہ پرائیوٹائیزیشن ہمیں بلکل قبول نہیں ، اور میں جاتنا ہوں کہ اس دور میں نیشنلائیزیشن بھی ہمیں نہیں چاہیے،
مگرپرائیوٹائزیشن یانیشنلائزیشن کی بات بھی نہیں، آپ کا منصوبہ تو در حقیقت پرسنلائزیشن کا ہے۔۔۔
اور یہ ہم ہرگز نہیں ہونے دینگے۔۔۔

آپ کی دلیل یہ ہے کہ حکومت کے پاس پیسہ نہیں، حکومت ادارے نہیں چلا سکتی، اس لیے ادارے بیچنا ضروری ہے،
تو پھر جواب بھی سن لے، کچھ لوگ کہتے ہیں اس حکومت سے یہ ملک بھی نہیں چل رہا،تو کیا آپ اس ملک کو بھی بیچ رہے ہیں؟؟؟

حکومتِ وقت OGDCL جیسے منافع بخش اداروں کو پرائیوٹائیز کر رہی ہے میں حیران ہوں کہ کوئی حکومت اپنے ہوش وحواس میں
ایسا سوچ بھی کیسے سکتی ہے!!!

اصل مسئلہ یہ نہیں ہے، اصل مسئلہ نیت کا ہے، ہمیں اس ملک کے لیے ایک مخلص رہنما کی ضرورت ہے،
اُس رہنما کی جو اپنی ذات قربان کر کے بھی ملک کے مفاد پر آنچ نہ آنے دے ،
کھپے کھپے بھٹو کھپے!!!

آپ نے پریشرز کے اندر آکر صدر زرداری کا ایران پاک گیس پائپ لائن کا منصوبہ ختم کر دیا،یہ وہ منصوبہ تھا جس کے شروع ہونے سے ہمارے ملک کا انرجی کرائسز ختم ہو جاتا۔۔۔
کیا صدر زرداری پر پریشرنہیں تھا ۔۔۔۔
کیا شہید ذوالفقار علی بھٹو پر فارن پریشرز نہیں تھا ۔۔۔
کیا اُنہیں (ہینری کسینجر)Henry Kessinger نے خبردار(warn) نہیں کیا تھا ۔۔
مگر وہ تو کبھی فارن پریشرکے اندر نہیں آئے۔۔۔۔
کھپے کھپے بھٹو کھپے!!!

ساتھیوں،
میں چند دنوں سے بہت تشویش کا شکار ہوں۔۔۔۔
مجھے تو سمجھ نہیں آرہی کہ ایسی کیا وجہ تھی۔۔
ایسی کونسی مجبوری تھی کہ راتوں کے اندھیروں میں ایک بیرونی ملک کے ساتھ ڈیل کی جاتی ہے۔۔۔
میری قوم کی قیمت $1.5 بلین ڈالر لگائی جاتی ہے۔۔۔۔
قوم کو اعتماد میں نہیں لیا جاتا۔۔۔
ہمیں بتائے تو سہی کہ ماجرا کیا ہے۔۔۔۔
اگر حکومتِ وقت کی نیت صاف تھی تو یہ بات قوم سے چھپائی کیوں گئی؟
یہ پیسہ کیوں دیا گیا ہے؟ یہ کس چیز کی قیمت ہے؟
کیا یہ میرے ملک کے جوانوں کے سر کی قیمت ہے؟کیا یہ وجہ تھی کہ آپ صرف چند لوگوں کو ڈالر$$ کی قیمت گرنے کا فائدہ دینا چاہتے تھے،کہ آپ نے گوارا ہی نہیں سمجھا کہ ہم اس قوم کو اعتماد میں لیں؟
سب کو پتا ہے ملک کا کونسا نجی بینک تھا جس نے اس اعلان کا سب سے زیادہ فائدہ اُٹھایا ۔۔
کیا یہ وہی دوست ہے،جوپرسنلائزیشن کی آڑ میں ہمیں لوٹنے جارہے ہیں؟۔۔
آپ نے تو کہا تھا ہم کشکول توڑدینگے۔۔
آپ نے تو اس ملک کو پیشہ وربھکاری بنا کر رکھ دیا ہے۔۔
آپ سمجھتے ہو کہ، کسی ملک کی گمنام) (anonymous ڈونیشن سے ہماری اکانومی،
ہماری فوج اور ہماری حکومت چل سکے گی،
تو یہ آپ کی سب سے بڑی بھول ہے۔۔

ہماری فوج کو ئی پیشہ ور قاتلوں کی فوج نہیں ہے،
ہماری فوج غیرت مند فوج ہے، ہماری فوج ہمارا سرمایہ ہے ،
کسی کی ذاتی جاگیر نہیں۔

ابھی تک ہماری اپنی جنگ ختم نہیں ہوئی،
اور آپ اپنے ایڈوائزرز کی ایڈوائس پر دوسروں کی جنگ میں چھلانگ لگا نے جارہے ہیں؟

ہمیں نیشنل انٹرسٹ کو ذاتی مفادات پر ترجیح دینا ہوگی۔
کھپے کھپے بھٹو کھپے!!!
میرے ساتھیوں،
جب تھر میں قحط پڑا ، میں اپنے لوگوں کے ساتھ اُن کی مشکلا ت میں شریک ہوا ۔۔۔

ساتھیوں،
پہلی حقیقت تو یہ ہے کہ ، تھر کے حالات اور اس قحط سے لڑنے کے لیے جو اقدامات کیے گئے ہیں، میں اُ ن پر بہت دُکھی ہوں۔
ہم پھر سے ایسی کو تاہی برداشت نہیں کرینگے، شہید ذوالفقار علی بھٹو کی حکومت میں یہ کبھی نہ ہوتا ، اور یہ شہید ذوالفقار علی بھٹو کی پارٹی کی حکومت ہے، اور یہ بات سب کو یاد رکھنی چاہیے۔۔۔

دوسری حقیقت یہ بھی ہے، کہ یہ کوئی ہفتوں یا مہینوں کی بات نہیں تھی اور اسے حل کر نے کے لئے بھی عرصہ لگے گا۔۔
یہ بھی حقیقت ہے بیس سال کے بعد ہم مٹھی سے2013 میں الیکشن جیتے ہیں۔۔
عرصہ بعد 2013میں ہیلتھ منسٹری ہمیں ملی ہے۔۔
ہمیں اس لیے تھر نے الیکٹ کیا ہے کہ ہم پاکستان کی اکلوتی پارٹی ہیں جو غربت سے لڑتی ہے۔۔
ہم جانتے ہیں کہ امیر آدمی تو قحط کو برداشت کر سکتا ہے مگرغریبوں کے لیے یہ قحط صرف اور صرف موت بن کر آتا ہے۔
جن قوموں سے جمہوریت چھین لی جاتی ہے۔۔ جہاں آمر کا راج ہو تا ہے۔۔وہاں کہ غریب اسی طرح غربت کا شکار رہتے ہیں۔۔
غربت سے لڑنا ہے تو جمہوریت کو بچانا ہوگا ۔۔
تھر کے لوگ لمبے عرصے سے مشرف کے ظالم، جابر اور کرپٹ وزیر اعلیٰ کے پنجوں میں جکڑے ہوئے تھے،
اس شخص نے سندھ کے لوگوں کے حقوق کا جنازہ نکال دیا،
گھوسٹ اسکولز،
جعلی ادارے،
لوٹ مار۔۔۔
منارٹیز کاقتل وغارت
وہ کون سا ظلم ہے جو انہوں نے نہیں کیا ۔
ایک بار پھر سے یہ ظالمِ اعلیٰ وفاقی حکومت کے ذریعے اس علاقے پر مسلط ہو نا چاہتا ہے۔۔

اسے دور رکھا جائے۔اُس کی نظر ابھی سے تمام ریلیف فنڈز پر ہے۔۔

آج مگر میرا تھر اس حالات پر پہنچا ہے تو اس کا ذمہ دار یہ شخص بھی ہے۔ جو تھر سے الیکشن لڑ کر سندھ کا وزیر اعلیٰ بنا مگر تھر کی عوام کو ظلم و جبر کے علاوہ کچھ نہ دیا۔۔
ہم پھر سے تھر کی مٹی کو اس کے پیروں میں روندنے کی اجازت نہیں دینگے۔۔۔

ساتھیوں،
راستہ آسان نہیں،
تھر میں،
چولستان میں،
ساؤتھ پنجاب میں،
بلوچستان میں،
سنگین غربت ہے،
ریسورسز محدود ہیں،
لیکن ہم ان غریبوں کی نمائندگی کا حق ادا کرینگے،

ہم قدرتی آفت سے نہیں لڑ سکتے ،
ہم قحط کو آنے سے نہیں روک سکتے ،
ہمارے بس میں نہیں کہ ہم سیلاب اور زلزلے روک سکیں،
لیکن ہم غربت اور بیروز گاری سے ضرور لڑ سکتے ہیں اور لڑینگے۔
غربت ختم کرنے کے لئے،پی پی پی کی حکومت میں ہم نے انقلابی بی آئی ایس پی کا آغاز کیا تھا۔۔۔۔

ماہانہ کیش ٹرانسفرز کے ساتھ ساتھ، ہم نے وسیلہ حق ، وسیلہ روزگار اور بہت سے ایسے پروگرامزکا آغاز کیا تھا جن کی وجہ سے ہم غربت
سے لڑ سکیں۔

میاں صاحب،ایک مہینہ گزر گیا ہے۔۔
آپ نے بہت اچھا قدم اُٹھایا کہ آپ خود تھر آئے۔۔

ہم آپ کے بہت شکر گزار ہیں۔۔ وفاقی حکومت کی ذمہ داری ہے کہ نیشنل ڈیزاسٹرز میں صوبوں کی مدد کرنا ۔۔
آ پ نے تھر میں ان غریبوں کی مدد کا اعلان کیا تھا ، اور ہم آپ کے اس اعلان کی قدر کرتے ہیں۔۔
مگر آپ کی ٹیم نے ہم سب کو مایوس کیا ہے۔۔۔ بی آئی ایس پی کی پیمینٹس تک روک دی گئیں ۔۔آپ کو نوٹس لینے پر مجبور کر دیا گیا ۔۔
بی آئی ایس پی تو اُن کا حق تھا اُ س کے علاوہ آپ کی ٹیم تھر کے لوگوں کے لئے کیا کر رہی ہیں۔۔آپ اپنی ٹیم سے پوچھیں تو سہی۔۔
صرف بیانات۔۔صرف سیاست۔۔صرف وعدے۔۔اور جھوٹی امیدیں؟؟ بس؟؟؟

ساتھیوں،
تھرمیں در حقیقت جو اموات واقع ہوئی ہے اُن کی ایک بڑی وجہ شفاف پانی کی غیر موجود گی ہے، جس سے لاکھوں بیماریاں جنم لیتی ہیں۔
انشاء اللہ سندھ حکومت 2018تک ، تھر کے ہر گھر / ہر گوٹھ میں سالر انرجی کے ذریعے پینے کا صاف پانی دے گی ۔۔ تاکے ہم ان بیماریوں سے چھٹکارا پا سکیں۔۔

کھپے کھپے بھٹو کھپے!!

ساتھیوں،
ہمیں اپنی ثقافت، اپنی تہذیب کو اپنا ہتھیار بنا نا ہو گا۔۔
موئن جو ڈارو، مکلی جیسی تاریخی سائٹس ہمارے لیے ٹورزم کی شکل میں سینکڑوں انویسٹمینٹ اپرچونیٹیز(Investment Opportunities) لا سکتے ہیں۔۔

پچھلے سندھ فیسٹیول نے یہ ثابت کر دیا ہے کہ ہمارا کاریگر تھر جیسے دور دراز علاقے سے بھی آتا ہے تو وہ بھی اس ملک کو پروسپیریٹی سے فائدہ اُٹھا سکتا ہے۔۔اُ س کے دن بھی بدل سکتے ہیں۔۔۔
مگر افسوس،چند لوگ ایسے بھی تھے جنہیں سندھ فیسٹیول کی ترقی ہزم نہیں ہوئی۔۔۔
اُنہوں نے اس کی بلاوجہ مخالفت کی،یہ وہی لوگ ہیں جن کو ہماری ثقافت سے خوف ہے۔۔
اُنہیں سمجھ ہی نہیں ہیں، کہ آج اگر ہمیں اس انتہا پسندی کے مائنڈ سیٹ سے لڑنا ہے تو اپنی تہذیب کو اپنا ہتھیار بنا نا ہوگا ،
اپنی ثقافت پر ناز کر نا ہوگا۔

مگر یہ تو وہ لوگ ہیں جو ان کا لعدم تنظیموں کو پہلے پروٹوکول دیتے ہیں،
پھر پناہ دیتے ہیں،
ماہانہ خرچا بھی دیتے ہیں اور پھر اُنہی درندوں سے سمجھوتا کرتے ہیں تاکہ ان کی حکومت کو کوئی آنچ نہ آئے۔۔۔
مگر !!!!
بے گنا ہ لوگوں کے خون کی قیمت ان کے لیے کوئی معنی نہیں رکھتی۔
جو لوگ ہمیشہ پی پی پی پر نا جائز الزام لگاتے ہیں کہ ہم لاشوں کی سیاست کرتے ہیں،
آج وہی لوگ بچوں کی معصوم لاشوں پر سیاست کر رہے ہیں۔۔
ہم تو اپنے شہداء کی آواز بلند کرتے ہیں یہ تو معصوم بچوں کی لاشوں پر اپنی سیاست چمکانے کی کوشش کر رہے ہیں۔۔
کس قسم کے چھوٹے لوگ اس طرح کے قومی ڈیزاسٹرز پر سیاست کرتے ہیں؟؟۔۔۔
میں اُنہیں خبردار کرتا ہوں، یہ وقت سیاست کرنے کا نہیں ہے،
اب وقت ہے اپنے ملک کو بچا نے کا ۔۔ سیاست 2018میں ہو سکتی ہے۔

یہ وقت ہے ایک قوم بننے کا نہ کہ بکھرے ہوئے ٹکڑوں میں تقسیم ہونے کا ۔۔

میرے ساتھیوں،

یہ درست ہے کہ آج ذوالفقار علی بھٹو ہم میں نہیں ہے، مگر کیا ہم ہار مان جائیں؟
نہیں ہم ایسا نہیں کرینگے،
یہ ہمارے قائد ، ہمارے شہید کا پیغا م نہیں تھا ۔
ذوالفقار علی بھٹو کا پیغام یہ تھا ، کہ جان جاتی ہے تو جائے، پھانسی ملتی ہے تو ملے، ہم سچائی کا راستہ نہیں چھوڑینگے، یہ سر کٹ تو سکتا ہے لیکن کسی قسم کی طالبان کی ڈکٹیٹر شپ کے سامنے جھک نہیں سکتا ،
اس لئے آج میں کہتا ہوں بھٹو کھپے۔۔۔

اگر بھٹو کھپے کا نعرہ سمجھنا ہے تو اُس کی بیٹی کو راولپنڈی کی سڑکوں پر شہید ہوتا ہوا دیکھو جس نے جان دے دی لیکن دہشت گردوں سے سمجھوتہ نہیں کیا ،
بھٹو کھپے کا مطلب سمجھنا ہے تو صدر زردار ی کو دیکھو، جس کو 11سال جیل میں رکھ کر اُس کا عزم ختم کرنے کی کوشش کی گئی،لیکن اُ س کا عزم تو کیا ختم ہوتا وہ اُس کے چہرہ سے مسکراہٹ بھی نہ چھین سکے،
بھٹو کے معنی کو محسوس کرنا ہے تواُن ہزاروں جیالوں کو دیکھو، جو آج بھی دہشت گردوں کے سامنے سینہ تان کر کھڑے ہیں،
بھٹو آج بھی تمہیں ایک ہی پیغام دے رہا ہے کہ جینا ہے تو سر اُٹھاکر جیو،
جھکے ہوئے سروں کو نہ اس جہاں میں پنا ہ ملتی ہے اورنہ اُس جہاں میں اُن کا کوئی مقام ہوتا ہے،

اُسے خبر نہیں تاریخ کیا سکھاتی ہے
کہ رات جب کسی خورشید کو شہید کرے
تو صبح اک نیاسورج تراش لاتی ہے۔۔

کھپے کھپے بھٹو کھپے۔۔۔

آج کچھ لوگ اسلام کے نام پر اپنی وحشت کا قانون نافذ کرنا چاہتے ہیں،
وہ کہتے ہیں کہ اُن کے قانون کا نفاذ کروورنہ ہم آپکو تباہ کردینگے۔
میں اُنہیں بتا دینا چاہتاہوں کہ یہ اسلام نہیں ہے،
تم لاشیں سجا کراُن میں اسلام ڈھونڈنا چاہتے ہووہاں تم کو اسلام نہیں ملے گا۔
تم تباہی مچاکر جنت کی حوریں لینا چاہتے ہو،
وہ نہیں ملیں گی۔۔
یہ تمہاری بھول ہے۔۔
میں اُنہیں بھی خبردار کرتاہوں جو لوگ اپنے صوبے میں دہشت گرد وں کو سیاست کے نام پر پناہ دیتے ہیں۔۔
اور یہ بھی یاد رکھنا کہ اس ملک کے چھوٹے صوبوں میں اُس وقت تک امن نہیں ہوگا ،
جب تک اس ملک کا سب سے بڑا صوبہ دہشت گردوں کو پنا ہ دینا نہیں چھوڑیگا۔۔
جاگ میرے پنجاب پاکستان جل رہا ہے۔۔۔
ساتھیوں ،
آج کچھ لوگ ہمارے مندر جلا کر دنیا کو بتانا چاہتے ہیں کہ پاکستان کے عوام انتہا پسند ہیں،
وہ دنیا کو بتانا چاہتے ہیں کہ پاکستانی اپنے ملک میں کسی اور مذہب کو برداشت نہیں کرتے،
مگر سندھ میں سازش کرنے والا یہ بھول گیا، کہ ن لیگ کے حکمرانوں اور پی پی پی کے لوگوں میں فرق ہے۔۔
جوزف کالونی میں چرچ کو آگ لگادی جاتی ہے۔۔۔ ایک شخص تک گرفتار نہیں ہوتا۔۔ مگر ہم چُپ نہیں بیٹھے ۔۔
ہم پنجاب کے حکمرانوں کی طرح خاموش نہیں رہے۔۔۔ہم نے کاروائی کی۔۔۔
یاد رکھیں کہ ہم شہیدوں کے وارث ہیں،
ہم سندھ میں کسی دہشت گرد کو یہ اجازت نہیں دینگے کہ وہ مذہب اور رنگ ونسل کے نام پر فساد پھیلاکر ہمیں دنیا میں بدنام کرے۔
دہشت گردوں سن لو!!!
ابھی ذوالفقارعلی بھٹو کا یہ نواسہ زندہ ہے،
ابھی شہید بی بی کا یہ بیٹا موجود ہے،
اگر کسی نے منارٹیز پر حملہ کرنے کا سوچا بھی،
تو وہ یہ یاد رکھیں کہ یہ مظلوم ، معصوم اور بے گناہ لوگ اکیلے نہیں ہیں، بلاول بھٹو زرداری اور اُس کا جیالا اُن کے ساتھ چٹان کی طرح کھٹرا ہے۔۔
ان کی طرف اُٹھنے والی ہر میلی آنکھ کو بلاول بھٹو سے ٹکرانا ہوگا۔۔
پی پی پی منارٹیز کو اکیلے نہیں چھوڑیں گے ، اور تمام ریاست ایسا کرنے والوں کے خلاف بھرپور کاروائی کریگی۔۔
کوئی ہندوہو،
کوئی عیسائی ہو،
کوئی مسلمان ہو،
ہم سب پاکستانی ہیں،
یہ سندھ اور پاکستان کو بدنام کرنے کی سازش ہے اور ہم اسے کبھی کامیاب نہیں ہونے دینگے۔
میرے ساتھیوں،
آج ہماری حکومت مذاکرات کی رٹ لگاتے نہیں تھکتی ،
یہ لوگ اُس تباہی کو نہیں محسوس کر رہے جو ہماری طرف آرہی ہے،
میں پوچھتاہوں کہ جب قائداعظم نے پاکستان بنایا تھا تو کیا یہی لوگ نہیں تھے جو پاکستان کی مخالفت کرتے تھے،
ہمارے قائداعظم کو کافرِاعظم کہتے تھے،
اگر قائد اعظم ان لوگوں کے سامنے جھک جاتے تو کیا آج ہمارا اپنا ملک ہوتا؟
آج آپ اُنہی سے مذاکرات کرناچاہتے ہیں؟ ہم کیسے قبول کریں کہ یہ ہماری شریعت کو ہم سے زیادہ جانتے ہیں۔۔۔
یہ کون ہوتے ہیں ہمیں اسلام سکھانے والے۔۔۔
آپ کہتے ہو،
مذاکرات کریں، ضرور کریں، لیکن کیا ہوگا؟
ہم نے 1977 (اُنیس سو ستتر ) میں غلط سوچا تھا کہ ہم ان لوگوں کے ساتھ ڈائیلاگ کرسکتے ہیں،
سمجھوتہ کرسکتے ہیں،۔۔
اُنہوں نے ہمیں اُس وقت بھی دھوکہ دیا ۔۔۔
2008 میں بھی دھوکہ دیا،
صرف تین دن میں طالبان کا اصلی چہرہ سامنے آگیا، اور اب ایک نیا دھوکہ دینے جارہے ہیں۔۔
اس دھوکے کا جواب میں بتاتا ہوں ۔۔۔
جواب پوچھنا ہے تو جاؤ اُس بہادر باپ سے پوچھوجو اپنے جوان فوجی بیٹے کو دفناتے وقت پاکستان زندہ باد کا نعرہ لگاتا ہے،
جواب سننا چاہتے ہو تو اُس ماں سے پوچھو جو اپنے پولیس افسر شوہر کی شہادت پر اعلان کرتی ہے،
کہ اس ملک کے لیے میں اپنی اولاد قربان کرنے کے لیے بھی تیار ہوں،
مگر ہم ان درندوں کے سامنے نہیں جُھکیں گے۔
جواب سننے کی ہمت رکھتے ہوں تو میر ی قوم کی بیواؤں سے پوچھو،
جرات ہے تو پوچھواُن لاوارث بچوں سے جن کے والدین شہید کیے گئے،
اُن بھائیوں سے پوچھو جن کی بہنیں سرعام قتل کردی گئیں،
ان لوگوں سے پوچھوجو سینکڑوں میل کا سفر طے کر کے گڑھی خدا بخش آئیں ہیں تاکہ وہ اپنے شہداء کوسلام پیش کرسکیں۔۔
صدر زرداری سے پوچھو جس نے اپنی شہید محترمہ بے نظیر بھٹو کو دفناتے وقت پاکستان کھپے کا نعرہ لگایا۔۔۔
مجھ سے پوچھو،
بی بی شہید کے بیٹے سے پوچھو، بلاول بھٹوزرداری سے پوچھو، ہم ہیں شہداء کی آواز ۔۔
ہم سے پوچھو۔۔ ہم جانتے ہیں کیا وہ لکھیں گے جواب میں ۔۔۔
اُن کا جواب میری قوم کے معصوموں کے لہو میں لکھا جائے گا۔۔�آآپ کو ایک سال ہوگیا ہے حکومت میں آئے ہوئے، مجھے توسمجھ نہیں آرہی کہ آپ کا پلان کیا ہے۔۔
ایک سال گزر گیا ہے ۔۔ آپ ایک کمیٹی تک فائنل نہیں کرپائے۔۔۔
کبھی آپ مُلا محسود کے لیے آنسوبہاتے ہیں تو کبھی آپ ہماری فوج کے شہداء کے لیے تعزیت کرتے ہیں۔۔۔

خوب پردہ ہے،
کہ چلمن سے لگے بیٹھے ہیں،
صاف چھپتے بھی نہیں ،
سامنے آتے بھی نہیں،

آج پاکستان کو اسلام کے نام پر جہالت کے اُس دور میں پھینکا جارہا ہے جو اسلام سے پہلے عرب میں ، ظلم اور جبر کی علامت تھا،

بھول گئے سوات کے وہ دن جب ہمارے سوات کے لوگوں نے غلط سوچا تھا کہ یہ طالبان مسلمان ہیں۔۔۔
اُنہیں انصار کی طرح پناہ دی گئی۔۔
گھر دیا گیا۔۔

مگر بدقسمتی سوات کے لوگوں کی کہ پھر اُنہی طالبان نے اُن کے ساتھ وہ سلوک کیا جس کی مثال تاریخ میں نہیں ملتی۔۔
یہ درند ے ہیں۔۔
مسلمان نہیں۔۔

اگر اس ملک میں ظالمان کا نفاذ قائم ہو گیا تو یاد رکھنا کہ پھر سے ہماری بیٹیاں زندہ دفن ہونگی،
عورت کی زندگی ایک غلام کی زندگی بن کر رہ جائیگی،
اور ہماری آنے والی نسلیں غلامی کے اُسی اندھیرے میں گم ہو جائیں گی۔
طالبان کی اسی سوچ نے جہاد کے معنے تبدیل کر دیئے ہیں۔
یہ جہاد نہیں۔۔
جہاد تو وہ تھا جب72 ایک کربلا میں ، ایک اسلام کے لیے آئے تھے، اور آج انہوں نے اُن 72 کے لیے 72 اسلام بنا دیے ہیں۔۔۔

یہ جہاد نہیں۔۔
یہ منافقت ہے۔۔
جہاد تو یہ تھا،
جب شہید محترمہ بینظیر بھٹو نے،
ایک نہتی عورت نے فوجی آمر کے خلاف آواز اُٹھائی تھی،
کیا یہ جہاد نہیں؟؟؟

جہاد تو یہ تھا جب ایک دلیر عورت نے،ہماری شہید بی بی نے اپنی بہادری سے طالبان کو للکار کر تمام مردوں کو شرمندہ کر دیا ۔۔۔
کیا یہ جہادِ اکبر نہیں؟؟؟
پاکستان پیپلز پارٹی کا جہاد تو یہی ہے، جس کے اصل معنی بھٹو صاحب کے دنوں میں لکھے گئے پاکستان پیپلز پارٹی کے فاؤنڈیشن پیپرز میں واضح کیے گئے ہیں۔۔۔

جو کل بھی ہمارا جہا دتھا۔۔۔ جو آج بھی ہمارا جہاد ہے۔۔

تو اُن لوگوں کے لئے
جو مظلوم ہیں
جو نوجوان ہیں
اور جو اتحادِ عوام کے لئے کو شاں ہیں
جہاد کی راہ ہی سیدھی راہ ہے
جہاد نام ہے ایسا معاشرہ قائم کر نے کا
جس میں کوئی مظلوم اور کوئی محکوم نہ رہے
حریت ، اخوت، اور مساوات کے اصول جاری وساری ہوں
جہاد نام ہے ایسا نظامِ حکومت قائم کرنے کا
جس میں عوام میں بنیادی ضروریات پوری کی جائیں
مرد اور عورت کو ترقی کے یکساں مواقع دیے جائیں
قانون کی عمل داری ہو
اور جمہوریت سر بلند ہو
جہاد نام ہے حق کے لیے سینہ سپر ہو جانے کا
اور ظلم کے خلاف شہادت دینے کا
جہاد نام ہے اس ہمہ گیر تیاری کا
جو ملک اور قوم کو ناقابلِ تسخیر بنا دے
اور جس کے باعث ، دشمنوں کے دل ہیبت سے لرزتے ہوں
اور جس سے دنیا بھر کے مظلوموں اور محکوموں کو تقویت ملتی ہو
اس لیے ہم سب عوام
کسان، مزدور،سپاہی،کاریگر، دکاندار،دفتری،کارکن، طالب علم، استاد،دانشور،مرد اور عورت
اتحاد عوام کا اعلان کرتے ہیں
اورعہد کرتے ہیں
ہم جہاد کریں گے
جہالت کے خلاف اور علم کے حق میں
منافقت کے خلاف اور دیانت کے حق میں
ظلم کے خلاف اور انصاف کے حق میں
استحصال کے خلاف اور مساوات کے حق میں
غلامی کے خلاف اور آزادی کے حق میں
ہم جہاد کرینگے
اپنی جان سے ، مال سے، زبان سے، قلم سے
ہم جہاد کرینگے
یہاں تک کہ خدا کی زمین خدا کے نور سے جگمگا اُٹھے گی
کھپے کھپے بھٹو کھپے

کیٹاگری میں : News

اپنا تبصرہ بھیجیں