عام انتخابات میں اصل مقابلہ طالبان کے حامیوں اور مخالفوں میں ہو گا, جہاں لشکر جھنگوی کا نام آئے گا وہاں شریف برادران کا نام ضرور آئے گا: رحمان ملک

644235_399803186793175_285886697_n

پاکستان پیپلز پارٹی کے مرکزی رہنما اور سابق وفاقی وزیر داخلہ رحمان ملک نے کہا ہے کہ آنیوالے عام انتخابات میں اصل مقابلہ طالبان کے حامیوں اور مخالفوں میں ہو گا ، انہوں نے کہا کہ پاکستان پیپلز پارٹی بروقت الیکشن چاہتی ہے ، التواء کی کوششوں کو ناکام بنا دیں گے ، پیپلز سیکرٹریٹ پنجاب میں پیپلز پارٹی پنجاب کے ترجمان منیر احمد خان ، نائب صدر عزیز الرحمان اور دیگر پارٹی رہنماؤں کے ہمراہ پریس کانفرنس کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ ایسے لگ رہا ہے کہ ” کچھ لوگوں ” کو پیپلز پارٹی کا نام اور ہمارے رہنماؤں کی شکل صورت پسند نہیں آ رہی اس لئے سکروٹنی اور الٹی سیدھی نئی نئی شقوں کے ذریعے ہمارے امیدواروں کو نا اہل قرار دیا جا رہا ہے – انہوں نے کہاکہ جس طرح ماضی میں دولت کی چمک سے ایک وزیر اعظم کے خلاف کیا گیا فیصلہ کالعدم قرار دیا گیا اب پھر اسی طرز پر آئین کی دفعات 62,63 کو جواز بنا کر پیپلز پارٹی۶ کو دیوار کے ساتھ لگانے کی کوششیں کی جا رہی ہیں – رحمان ملک نے کہاکہ وہ آمرانہ ترامیم کے خاتمہ کے لوے ہونے والی آئینی ترامیم کے وقت 62 اور 63 کو جو کہ ایک فسطائی آمر نے 1985 ء میں مخصوص مقاصد کے لئے تھیں کو ختم نہ کیا جانا پوری پارلیمنٹ کی غلطی ہے – انہوں نے کہا کہ آئینی دفعات 62 اور 63 پر عمران خان ، نواز شریف ، شہباز شریف سمیت کوئی بھی پورا نہیں اترتا – انہوں نے کہا کہ ہماری قیادت نے طے کیا تھا کہ ہم انتقامی سیاست نہیں کریں گے ، آپ دیکھ لیں پانچ سال میں ایک بھی سیاسی قیدی نہیں ، کسی کے خلاف سیاسی انتقام نہیں لیا گیا – انہوں نے سوال کیا کہ ہماری باری ہو توعدلیہ ، الیکشن کمیشن ، مخصوص میڈیا لابی فوری حرکت میں آجاتی ہے مگر شہباز شریف کے خلاف فوجداری مقدمہ ابھی تک سپریم کورٹ میں زیر التوا ہے اور پھر ایک آمر کے ساتھ شریف برادران کا مک مکا ، 10 سالہ جلا وطنی کا معاہدہ کہ جس سے پہلے وہ مکر گئے پھر پانچ برسکا معاہدہ مانا مگر حقیقت سامنے آئی تو چپ سادھ لی – کیا عدلیہ اور الیکشن کمیشن کو یہ نظر نہیں آتا کہ ایک آمر سے مک مکا ، انکار اور پھر دستاویزی ثبوت کے ساتھ حقیقت سامنے آنے پر ان کے خلاف 62,63 کی کارروائی کیوں نہیں کی جاتی – رحمان ملک نے کہا کہ میثاق جمہوریت ہمیشہ کا معاہدہ تھا جسے نواز شریف نے توڑا ، عدلیہ ، الیکشن کمیشن اور میڈیا میثاق جمہوریت معاہدہ کی دستاویز منگوا کر دیکھے اور جائزہ لے کہ کس نے دستخط کئے ، کس نے معاہدہ توڑا ، انہوں نے کہا کہ شریف برادران بتائیں رائیونڈ سٹیٹ کہاں سے آئی انہوں نے انتخابی گوشواروں میں اس کا اندراج کیوں نہیں کیا – وہ بتائیں کہ اپنے اندرون و بیرون ملک اثاثے کیوں ظاہر نہیں کئے ، ٹیکس تفصیلات کیوں جاری نہیں کیں ، خدا کے لئے عوام کو بے وقوف نہ بنائیں ، انہوں نے کہا کہ پاکستانی سیاست کو جو بھی ڈیزائن کر رہا ہے وہ یہ غلط فہمی ذہن سے نکال دے کہ پیپلز پارٹی کو ان منفی ہتھکنڈوں سے دبایا جا سکتا ہے – انہوں نے کہا کہ لوگ کہتے ہیں پیپلز پارٹی نے الیکشن مہم شروع نہیں کی انہیں علم ہونا چاہئے کہ بلاول بھٹو گڑھی خدا بخش سے انتحابی مہم شروع کر چکے ہیں جبکہ ملک بھر میں ہر جیالا الیکشن مہم جاری رکھے ہوئے ہے – اب ہر جیالا باہر نکلے گا اور کسی بھی قیمت پر پیپلز پارٹی کے مخالفین کو من مرضی نہیں کرنے دی جائیگی – انہوں نے کہا کہ پیپلز پارٹی کو زبردستی الیکشن سے باہر رکھنے کی کوشش ہوئی تو پھر ملک بھر میں دما دم مست قلندر ہو گا – ایک سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ فرقہ وارانہ دہشتگردی میں لشکر جھنگوی ملوث ہے اور جہاں لشکر جھنگوی کا نام آئے گا وہاں شریف برادران کا نام ضرور آئے گا – کیونکہ انہوں نے پیشگی اطلاعات کے باوجود لشکر جھنگوی کے خلاف کوئی کارروائی نہ کر کے نا اہلی یا پھر ملی بھگت کا ثبوت دیا – رحمان ملک نے کہا کہ پیپلز پارٹی کی منتحب جمہوری حکومت کی کوششوں اور ٹھوس اقدامات سے دہشتگردی 95 فیصد کم ہو گئی ہے ، ایک سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ نواز شریف الیکشن 2008 ء کا بائیکاٹ کرنا چاہتے تھے – محترمہ بینظیر بھٹو اور آصف علی زرداری نے انہیں ایسا کرنے سے روکا – انہوں نے کہا کہ شریف برادران کو بھی چاہئے کہ وہ ہمارے قائدین کا احترام کریں بصورت دیگر ہمیں بھی وہ نام آتے ہیں جو شریف برداران کو بہت مرغوب ہیں – انہوں نے کہا کہ شریف برادران میرے ساتھ میڈیا کا سامنا کریں اور کھل کر بات کریں کہ الیکشن کون ملتوی کرانا چاہتا ہے – رحمان ملک نے الیکشن سبوتاژ کرنے کی سازش ے پس پردہ حقائق سامنے لانے اور تمام حقائق عوام تک پہنچانے کا اعلان بھی کیا – پریس کانفرنس کے دوران جیالے ” ایک زرداری سب پہ بھاری ” اور ” اگلی واری فیر زردرای کے نعرے لگائے تو رحمان ملک نے انہیں روکا اور کہا کہ صرف جئے بھٹو کا نعرہ لگائیں –

اپنا تبصرہ بھیجیں