SC, ECP should take notice of links between PML-N and Lashkar-e-Jhangvi: Rehman Malik

11671_243161042488325_2135332589_n

Interior Minister Rehman Malik on Friday called upon the Supreme court of Pakistan (SC) and Election Commission (ECP) to take notice of the links between Pakistan Muslim League-Nawaz (PML-N) and banned terror outfit Lashkar-e-Jhangvi (LJ), Dispatch News Desk (DND) reported.
The sunni militant organization is involved in 80 percent terrorist activities in Pakistan, Malik claimed while talking to media before he left for London.
The federal minister said all the information pertaining to LJ had been provided to the Punjab government. He said SC and ECP should take notice of the links between PML-N with Lashkar-e-Jhangvi.
Rehman Malik has blamed the Punjab government for harbouring the Lashkar and Sipah, adding that it must take stern action against them to nip the evil of terrorism in the bud.
He also said if the Punjab government won’t take action against these groups, he would himself raid their hideouts. “The central headquarters of these groups are in the Punjab, while their sub-headquarters are in Karachi”.
About the February 16 suicide hit in Quetta, he said, “Liquid explosives were used for the first time with the composition of diesel and potassium chloride. The tanker bomb was assembled in Lahore by Lashkar-e-Jhangvi and transported to Quetta”.
Rehman Malik said real competition in forth coming election would be among pro Taliban and Anti Taliban.Pakistan Peoples party wanted election on time and would foiled all the attempts to delay he elections.

سابق وزیر داخلہ رحمان ملک نے کہا ہے کہ عام انتخابات کو انجینئرڈ بنانے اور پیپلز پارٹی کو دیوار سے لگانے کی کوشش کی جا رہی ہے۔ شریف برادران الیکشن ملتوی کرانا چاہتے ہیں۔لاہور میں پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے رحمان ملک نے کہا کہ پیپلز پارٹی نے ہمیشہ تمام تر الزامات کا سامنا کھلے دل سے کیا۔ شریف برادران کی باری آنے پر سب کی آنکھیں کیوں بند ہو گئی ہیں۔ الیکشن کمیشن نواز اور شہباز شریف سے متعلق ریکارڈ سامنے لائیں۔ انہوں نے کہا کہ بطور وزیرداخلہ انہوں نے شریف برادران سے متعلق تیس ملین ڈالر کی خردبرد کا کیس نیب کو بھیجا جسے اہم شخصیات کے دباوٴ پر روک دیا گیا۔ انہوں نے واضع کیا کہ وہ شریف برادران کی کرپشن انتخابی مہم کے دوران عوام کے سامنے رکھیں گے۔رحمان ملک کا کہنا تھا کہ آئین کے آرٹیکل باسٹھ اور تریسٹھ کو ختم نہ کرنا سابق پارلیمینٹ کی کمزوری تھی۔ اس ملک میں پانچ وقت کا نمازی بھی صادق اور امین نہیں۔رحمان ملک نے کہا کہ ایک سازش کے تحت پیپلز پارٹی کو انتخابات میں دیوار سے لگانے کی کوشش کی جا رہی ہے لیکن پارٹی کے جیالے کسی ایک جماعت یا ادارے کو من مانی نہیں کرنے دیں گے۔

سابق وزیر داخلہ رحمان ملک نے ایک مرتبہ پھر شریف برادران کے مختلف معاہدوں کو سامنے لانے کا اعلان کرتے ہوئے کہا ہے کہ صرف جن کے نام صادق اور امین ہیں انکے علاوہ ملک می کوئی بھی شخص اس معیار پرپورا نہیں اترتا ، آرٹیکل 62’63کی شقیں ختم نہ کرنا سابقہ پارلیمنٹ کی ناکامی ہے اور میں اس پر معافی مانگتا ہے ‘ شریف برادران پلی بارگیننگ کے تحت سوٹ کیس لیکر بیرون ملک گئے اور اس طرح کا معاہدہ کرنے والا شخص نااہل ہوتا ہے’ پیپلزپارٹی کو دبانے کیلئے انجیئرڈ انتخابات ڈیزائن کرنے کی تیاریاں کی جارہی ہیں لیکن فتح بالآخر پیپلزپارٹی کی ہی ہوگی’ مسلم لیگ (ن) نے جمعہ کے روز ایکشن کیا او ر ہفتہ کے روز میری پریس کانفرنس اسکاری ایکشن ہے اور ایک دو روز میں شریف برادران کے حوالے سے اور بہت سی چیزیں منظر عام پرلائوں گا اور یہ سلسلہ اس وقت تک جاری رہیگا جب تک انکے چہروں سے نقاب نہیں اتر جاتا ۔ ان خیالات کااظہار انہوںنے پیپلزپارٹی کے صوبائی سیکرٹریٹ میں منیر احمد خان’ عزیز الرحمن چن اور دیگر کے ہمراہ پریس کانفرنس کرتے ہوئے کیا ۔ رحمان ملک کی موجودگی میں حلقہ پی پی 154کے کارکنوںنے میرٹ کو نظر انداز کرکے ٹکٹ دئیے جانے پر شدید احتجاج کیا اور نعرے بازی کی ۔ رحمان ملک نے کہا کہ آج کسی کو پیپلز پارٹی اور کسی کو اسکی لیڈر شپ کی شکل پسند نہیں آرہی ،کچھ آرکیٹکٹس پیپلزپارٹی کو سارے معاملے سے باہر رکھنے کے لئے کھیل کھیل رہے ہیںلیکن انہیںناکامی ہو گی ۔ آج ملک میں کوئی بھی شخص صادق اور امین نہیں اور اگر کوئی شخص خود کو صادق اور امین صادق ثابت کر دے تو میں ہمیشہ کے لئے سیاست سے کنارہ کش ہو جائوں گا ۔ جن کے نام صاد ق اور امین ہیں انکے علاوہ کوئی بھی شخص اس معیار پر پورا نہیں اترتا ۔ انہوںنے کہا کہ پیپلزپارٹی نے تو ہمیشہ عدلیہ’ قانون اور عوام کے سامنے سر تسلیم خم کیا ہے ،ہمارے دور میں کوئی سیاسی قیدی نہیں تھا لیکن آج تھوک کے حساب سے لوگوںکو نااہل کیا جارہا ہے ،قانون کو سب کو ایک نظر سے دیکھنا چاہیے ۔

سابق وزیر داخلہ رحمان ملک نے ایک مرتبہ پھر شریف برادران کے مختلف معاہدوں کو سامنے لانے کا اعلان کرتے ہوئے کہا ہے کہ صرف جن کے نام صادق اور امین ہیں انکے علاوہ ملک میں کوئی بھی شخص اس معیار پرپورا نہیں اترتا ، آرٹیکل 62‘63کی شقیں ختم نہ کرنا سابقہ پارلیمنٹ کی ناکامی ہے اور میں اس پر معافی مانگتا ہے ‘ شریف برادران پلی بارگیننگ کے تحت سوٹ کیس لیکر بیرون ملک گئے اور اس طرح کا معاہدہ کرنے والا شخص نااہل ہوتا ہے‘ پیپلزپارٹی کو دبانے کیلئے انجیئرڈ انتخابات ڈیزائن کرنے کی تیاریاں کی جارہی ہیں لیکن فتح بالآخر پیپلزپارٹی کی ہی ہوگی‘ مسلم لیگ (ن) نے جمعہ کے روز ایکشن کیا او ر ہفتہ کے روز میری پریس کانفرنس اسکاری ایکشن ہے اور ایک دو روز میں شریف برادران کے حوالے سے اور بہت سی چیزیں منظر عام پرلاؤں گا اور یہ سلسلہ اس وقت تک جاری رہیگا جب تک انکے چہروں سے نقاب نہیں اتر جاتا ۔ ان خیالات کااظہار انہوں نے پیپلزپارٹی کے صوبائی سیکرٹریٹ میں منیر احمد خان‘ عزیز الرحمن چن اور دیگر کے ہمراہ پریس کانفرنس کرتے ہوئے کیا ۔ رحمان ملک کی موجودگی میں حلقہ پی پی 154کے کارکنوں نے میرٹ کو نظر انداز کرکے ٹکٹ دئیے جانے پر شدید احتجاج کیا اور نعرے بازی کی ۔ رحمان ملک نے کہا کہ آج کسی کو پیپلز پارٹی اور کسی کو اسکی لیڈر شپ کی شکل پسند نہیں آرہی ،کچھ آرکیٹکٹس پیپلزپارٹی کو سارے معاملے سے باہر رکھنے کے لئے کھیل کھیل رہے ہیں لیکن انہیں ناکامی ہو گی ۔ آج ملک میں کوئی بھی شخص صادق اور امین نہیں اور اگر کوئی شخص خود کو صادق اور امین صادق ثابت کر دے تو میں ہمیشہ کے لئے سیاست سے کنارہ کش ہو جاؤں گا ۔ جن کے نام صاد ق اور امین ہیں انکے علاوہ کوئی بھی شخص اس معیار پر پورا نہیں اترتا ۔ انہوں نے کہا کہ پیپلزپارٹی نے تو ہمیشہ عدلیہ‘ قانون اور عوام کے سامنے سر تسلیم خم کیا ہے ،ہمارے دور میں کوئی سیاسی قیدی نہیں تھا لیکن آج تھوک کے حساب سے لوگوں کو نااہل کیا جارہا ہے ،قانون کو سب کو ایک نظر سے دیکھنا چاہیے ۔ انہوں نے کہا کہ پلی بار گیننگ کرنے والا شخص انتخابات میں حصہ نہیں لے سکتا ‘ نواز شریف اور شہباز شریف اپنے محسن جو اب انکے دوست بن چکے ہیں او رانکے خلاف نہ بولنے کی قسم کھا رکھی ہے پرویز مشرف سے دس سالہ معاہدہ کر کے باہر گئے ۔ نواز شریف نے مسجد نبویؐ میں بیٹھ کر جھوٹ بولا کہ وہ کسی معاہدے کے تحت سعودی عرب نہیں آئے لیکن جب کچھ دباؤ آیا تو کہا لگتا ہے پانچ سال کا معاہدہ ہوا تھا ۔ بڑے بڑے وکیل جو انتخابی مہم چلا رہے ہیں میں سب کو عوام میں ایکسپوز کروں گا اور میں آج سے ان چہروں سے نقاب اتارنے کیلئے جہاد کا اعلان کرتا ہوں ۔ انہوں نے کہا کہ نواز شریف نے بینظیر بھٹو سے کہا تھاکہ جو پرویز مشرف کے ہوتے ہوئے انتخابات میں حصہ لے گا وہ غدار ہوگا ۔ میں ایک دو ہفتے تک بینظیر بھٹو اور پرویز مشرف کے درمیان معاہدے ( جسے بینظیر بھٹو شہید نے جمہوریت کی طرف سفر ) کا نام دیا گیا اس میں نوا ز شریف کے حوالے سے طے پانے والے باتیں عوام کے سامنے لیکر آؤں گا ۔ انہوں نے کہا کہ میں وقت آنے پر بتاؤں گا کہ نیب میں 30ملین ڈالر کا کیس کیوں رکا اور اسے روکنے والے کون تھے؟وہ کونسے چہرے تھے جنہوں نے راتوں کے اندھیروں میں معافیاں مانگیں۔انہوں نے کہا کہ شریف برادران کہتے ہیں کہ انہوں نے کوئی قرضہ نہیں لیا لیکن 3.5ارب کدھر گئے ؟ رائیونڈ کی زمین ‘ گھر اور محل کہاں سے آ گئے کیا انکم ٹیکس گوشواروں ‘ کاغذات نامزدگی فارم میں اسکا ذکر ہے ‘ اگر یہ اسکی قیمت چار لاکھ روپے بتاتے ہیں تو میں آٹھ لاکھ دیکر لینے کو تیار ہوں ۔ انہوں نے کہا کہ آج سے ہر جیالا باہر نکلے گا اور انتخابی مہم چلائے گا ہم کسی قوت کواپنی مرضی نہیں کرنے دیں گے ۔ بہت سے لوگ خود کو لیڈر تو کہتے ہیں لیکن ان میں اس طرح کی خاصیتیں نہیں ہیں ۔ پانچ سالوں میں صرف ایک ہی مرغا پھنسا ہے اور وہ پیپلز پارٹی ہے لیکن ہم بتانا چاہتے ہیں کہ ہمارے اوپر جتنا ظلم کرو گے ہم اتنا ہی چمکیں گے لیکن یہ پیسے کی چمک نہیں ہو گی ہم اپنے کام سے چمک دکھائیں گے ۔ انہوں نے کہا کہ مجھے بلاول زرداری میں بھٹو کی جھلک اور اپنی ماں کی تربیت کاعکس نظر آیا ہے انشا اللہ ہم پورے ملک میں انتخابی مہم چلائیں گے ۔ انہوں نے کہا کہ ہمارے دور میں دہشتگردی 90فیصد کم ہوئی اور جب دہشتگردی کے حوالے سے تاریخ لکھی جائیگی تو اس میں لشکری جھنگوی کا نام آئیگا اور جب یہ نام آئیگا توا س میں مسلم لیگ (ن) کا بھی نام آئیگا ۔ انہوں نے کہا کہ آئندہ عام انتخابات میں اینٹی طالبان او رپرو طالبان میں مقابلہ ہوگا اور میری دعا ہے کہ انتخابات ملتوی نہ ہوں ۔انہوں نے کہا کہ پیپلزپارٹی سامنے ہو تو سو موٹو ہو جاتا ہے لیکن جب (ن) لیگ ہو تو آنکھیں بند کر لی جاتی ہیں ، الیکشن کمیشن میں انکے حوالے سے ریکارڈ بھجوا یا ہوا ہے سب کو ایک ہی ترازو میں تولنا ہوگا ۔سابق وفاقی وزیر داخلہ رحمان ملک کا کہنا ہے کہ اس وقت ملک میں جن کانام صادق اور امین ہیں صرف وہی صادق اور امین ہیں،ایسا لگ رہا ہے جیسے آج کسی کو پیپلز پارٹی کا نام اور اسکے چہرے پسند نہیں۔ آج کل جتنی شقیں آ رہی ہیں اور اسکروٹنی ہو رہی ہے وہ سب کے سامنے ہیں۔

کیٹاگری میں : News

اپنا تبصرہ بھیجیں