تحریک انصاف کے انتخابی منشور کا معروضی حقائق سے کوئی تعلق نہیں: منیر احمد خان

482736_399800380126789_1492218188_n

پاکستان پیپلز پارٹی پنجاب کے ترجمان منیر احمد خان نے تحریک انصاف کے انتخابی منشور کو لالی پاپ اور ناقابل عمل قرار دیتے ہوئے مسترد کر دیا ہے – پیپلز سیکرٹریٹ پنجاب میں انتخابی مہم کے سلسلہ میں منعقدہ اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ تحریک انصاف کے انتخابی منشور کا معروضی حقائق سے کوئی تعلق نہیں – انہوں نے کہا کہ چند روز قبل عمران خان نے بیان دیا تھا کہ ان کے وزیر اعظم بننے میں چند ہفتے رہ گئے ہیں – اب وہ کہہ رہے ہیں کہ تحریک انصاف کو اقتدار نہیں چاہئے اگر اقتدار کی خواہش ہوتی تو ان کی پارٹی دیگر سیاسی جماعتوں کے ساتھ انتخابی اتحاد بناتی – منیر احمد خان نے کہا کہ جس پارٹی کا سربراہ ذاتی تضادات کا شکار ہو اور ہر روز اپنی ہی بات کے الٹ بیانات دیتا ہو وہ پارٹی ملک و قوم کی کیا خدمت سرانجام دے سکتی ہے – انہوں نے کہا کہ تحریک انصاف کے انتخابی منشور میں وزیر اعظم ہاؤس ، ایوان صدر ، گورنر ہاؤس اور وزیر اعلی ہاؤس کوختم کرکے تعلیمی اداروں میں بدلنے کا اعلان بھی روایتی سیاست کی ایسی بڑھک ہے جو ناقابل عمل ہے – وزیر اعظم ہاؤس ، ایوان صدر ، گورنر ہاؤس اور وزیر اعلی ہاؤس عمارتیں نہیں ادارے ہیں اور ان کو ختم کرنے کا مطلب اداروں کو ختم کرنا ہے جو کہ ملک کے وقار اور شان کی علامت ہیں – انہو ں نے کہا کہ دنیا میں کونسا ملک ہے جہاں حکمرانوں کے دفاتر نہیں ہوتے – انہوں نے کہا کہ بڑھکیں لگانا ، بڑے بڑے دعوے ، جھوٹے وعدے کرنا اور عوام کو سبز باغ دکھانا اب کسی کو فائدہ نہیں پہنچا سکتا ، عوام باشعور ہیں اور وہ وعدوں یا دعووں نہیں کردار و عمل پر یقین رکھتے ہیں – انہوں نے کہا کہ عمران خان نے فوجی آمر پرویز مشرف کی بھرپور حمایت کی تھی اور وزیر اعظم نہ بنائے جانے پر ان کے خلاف ہو گئے تھے ، اسی طرح عوام کو اچھی طرح یاد ہے کہ عمران خان نے ایم کیو ایم کے قائد الطاف حسین کے خلاف برطانیہ میں مقدمات درج کرانے کا دعوی کیا مگر کچھ عرصہ بعد وہ کراچی میں اپنا جلسہ کامیاب کرانے کے لئے ایم کیو ایم کے ترلے کرتے دکھائی دئیے – اسی طرح پنجاب یونیورسٹی نیو کیمپس میں جماعت اسلامی کی ذیلی تنظیم کے ہاتھوں تشدد کا نشانہ بننے والے عمران خان انتخابی مصلحت اور ضرورت کے تحت منصورہ جا کر جماعت اسلامی سے انتخابی اتحاد اور سیٹ ایڈجسٹمنٹ کرنے پر تیار ہو گئے – انہو ں نے کہا کہ عمران خان نے کرپشن کے خاتمے کے لئے بلند و بانگ دعوے کئے مگر دیگر جماعتوں کے بدنام ، رد کئے گئے کرپٹ ترین لوگوں کو اپنی پارٹی میں شامل کر کے بڑے بڑے عہدے دے کر ثابت کر دیا کہ وہ اقتدار کے لئے کسی بھی حد تک جا سکتے ہیں – انہوں نے کہا کہ عوام اب کسی فریب میں نہیں آئیں گے –

اپنا تبصرہ بھیجیں