پنجاب میں جو آج مہنگائی ہے اس کی ذمہ دارشہباز حکومت ہے جنہوں نے اسے روکنے کی بجائے فروغ دیا: میاں منظور احمد وٹو

DSC_0723

پاکستان پیپلز پارٹی پنجاب کے صدر میاں منظور احمد وٹو نے کہا ہے کہ پنجاب میں جو آج مہنگائی ہے اس کی ذمہ دارشہباز حکومت ہے جنہوں نے اسے روکنے کی بجائے فروغ دیا – – جرائم میں دن بدن اضافہ ہو ا ، دن دیہاڑے ڈکیتیاں ہوتی رہیں ، حد تو یہ ہے کہ اغواء برائے تاوان کے ساتھ ساتھ ڈکیتی برائے تاوان کے رواج نے بھی شہباز دور حکومت میں ہی زور پکڑا- 18 ویں ترمیم کے تحت صوبوں کو وسائل اور انہیں حق دیا گیا کہ بجلی پیدا کریں مگر یہ لوگ ناکام رہے اور اب بے بنیاد دعوے کر کے کہ تین سال میں ملک میں لوڈ شیڈنگ ختم کر دینگے عوام کو دھوکہ دے رہے ہیں- انہوں نے کہا کہ صرف 27 کلومیٹر فاصلے کی حامل میٹرو بس سروس 70 ارب خرچ کر کے بنا دینا ہی کامیابی کی ضمانت نہیں ہے -اپنی رہائشگاہ پر پارٹی عہدیداروں سے ملاقات کے دوران انہوں نے کہا کہ کبھی مرغی کا کاروبار سنبھال کر اسکی قیمت بڑھائی گئی تو کبھی اپنے دیگر کاروبار چمکانے کے لئے مصنوعی قلت پیدا کر کے عوام کے لئے اشیائے خورد و نوش کو بھی نایاب بنا دیا گیا – اور پھر من چاہی قیمتیں بڑھاکر اپنے ناجائز منافع خو ری سے اپنی جیبیں بھری گئیں – انہوں نے کہا کہ سولر لیمپس دینے کی بجائے 18 ویں ترمیم کا فائدہ اٹھایا جاتا اور صوبے میں بجلی کی پیداوار کے بارے میں سوچا جاتا – انہوں نے کہا کہ پیپلز پارٹی نے نا مساعد حالات میں 4000 میگاواٹ بجلی سسٹم میں شامل کی – انہوں نے کہا کہ پچھلے پانچ سال میں پنجاب میں 200 گنا مہنگائی میں اضافہ ہوا ، تعلیم حاصل کرنے والے کم و بیش 70 فیصد طلباء نوکریوں کے حصول میں ٹھوکریں کھاتے پھر رہے ہیں-پنجاب کے عوام تو اسی طرح غربت کی چکی میں پس رہے ہیں ، بے روزگاری جوں کی توں رہی ،انہوں نے کہا کہ شریف برادران ملک میں معاشی تبدیلی کا نعرہ لگاتے ہیں اور بے روزگاروں کو روزگار فراہم کرنے اور پورے ملک میں میٹروبس سروس پھیلانے کا دعوی تو کرتے ہیں مگر آج تک منصوبے کی حقیقی لاگت کا پتہ نہیں لگا سکے-انہوں نے کہا کہ اگر میٹرو بس ہی تبدیلی ہے تو پھر عوام کو غربت ، بے روگاری اور چھت نہ ہونے پر بھی احتجاج نہیں کرنا چاہئے – انہوں نے کہا کہ پاکستان کو ایشین ٹائیگر بنانے کا وعدہ کر کے اقتدار حاصل کرنے والے اس وعدے کو وفا نہیں کر سکے اور دلیل یہ ہوتی ہے کہ انہیں موقع نہیں دیا گیا ، اس بار تو 62 فیصد پاکستان پر انکی حکومت نے مدت پوری کی – انہوں نے کہا کہ پاکستان کو چھوڑیں صرف پنجاب کو ہی پورے ایشیاء کا مثالی صوبہ بنا دیتے –انہوں نے کہا کہ لیپ ٹاپ کی تقسیم میں بنا سوچے سمجھے ملکی سرمایہ خرچ کیا گیا – اور بڑے پیمانے پر بدعنوانیاں کی گئیں ،، انہوں نے کہا کہ کیا یہ بہتر نہیں تھا کہ مفت لیب ٹاپ دینے کی بجائے ان لیپ ٹاپز کی رعایتی قیمتوں پر فراہمی ممکن بنائی جاتی تاکہ وہ ہر کسی کی دسترس میں ہوتا – انہوں نے سوال کیا کہ کیا یہی وہ تبدیلی ہے جس کا شریف برادران دعوی کرتے پھر رہے ہیں ؟، میاں منظور احمد وٹو نے کہا کہ پیپلز پارٹی کے انتخابی منشور میں مزدور کی کم از کم اجرت 18 ہزار مقرر کی گئی ہے جبکہ تعلیم ، صحت ، روزگار سب کے لئے کو منشور کی اساس بنایا گیا ہے – انہوں نے کہا کہ شہید بھٹو کی فکر اور شہید محترمہ بینظیر بھٹو کے وژن پر کامیابی سے عملدرآمد کرتے ہوئے صدر مملکت آصف علی زرداری نے ملک میں انتقامی سیاست ختم کر کے وسیع تر قومی مفاہمت کو فروغ دیا ہے اور اہم قومی امور میں اپوزیشن سمیت سب کو ساتھ لے کر چلے ہیں – انہوں نے کہا کہ اپنے انقلابی انتخابی منشور کے باعث پیپلز پارٹی کی عوامی مقبولیت اور ووٹ بینک میں اضافہ ہوا ہے –

اپنا تبصرہ بھیجیں