ڈکٹیٹر کے خلاف غداری کا مقدمہ اور چیف پراسیکیوٹر اکرم شیخ

تصویر

تحریر: امام بخش

یُوں تو وطن ِ عزیز  کے چند”مایۂ نازقانون دان” سابق ڈکٹیٹرپرویز مشرف کی مداح سرائی اور بے گناہی  کےمُدت سے الاپ چاری ہیں مگر  ڈکٹیٹر کے خلاف غداری کے مقدمے کے چیف پراسیکیوٹر اکرم شیخ نے ہمیں حیرت زدہ کر  دیا  جب انھوں نے  عدالت میں استغاثہ کی طرف سے  کہا کہ اُنھیں پرویز مشرف کی وفاداری پر کوئی شک نہیں ہے۔ وہ سابق آرمی چیف بھی رہے ہیں،  انھیں کبھی غدار نہیں کہا گیا بلکہ ملز م کے وکلاء اس کو غداری کا مقدمہ کہہ رہے ہیں۔  انھوں نے مزید کہا کہ عدالت کے سامنے غداری کا نہیں بلکہ آئین شکنی کا مقدمہ ہے۔ 

چیف پراسیکیوٹر نے یہی پر بس نہیں کیا بلکہ رحم طلب نظروں کے ساتھ چل کر ملزم ڈکٹیٹر کے پاس  گئے  اورفدویانہ انداز میں التجا کی کہ وہ اس مقدمے میں اُن کے ضمانتی میجر جنرل ریٹائرڈ راشد قریشی کے کلاس فیلو ہیں۔ اُن کے دل میں اُن کے لیے بےحد احترام ہے اور اُن کے لیے کسی طور پر بھی تعصبانہ رویہ نہیں رکھتے۔ 

قوم کی یادداشت کو کمزور سمجھنے والے  چیف پراسیکیوٹر کو ہم  یاد دہانی کراتے چلیں کہ عدلیہ،  وفاقی حکومت اور اُن کی ذات   شریف ڈکٹیٹر کے خلاف غداری کے مقدمے کے بارے میں کیا موقف رکھتے رہے ہیں: 

1۔ 24 جون 2013 ء کو وفاقی حکومت نے پرویز مشرف کے خلاف غداری کا مقدمہ چلانے کا اعلان کیا  کہ حکومت اس ضمن میں سپریم کورٹ کے فیصلے پر عمل درآمد کرے گی جس کے تحت3 نومبر 2007ء کو اُس وقت کے صدر اور آرمی چیف جنرل پرویزمشرف آئین کو معطل کر کے غداری کے مرتکب ہوئے تھے۔ 

2۔ 3جولائیء 2013 کو سپریم کورٹ نے وفاقی حکومت سے کہا کہ وہ پرویز مشرف کے خلاف آئین کے آرٹیکل چھ کے تحت کارروائی جلد مکمل کرے۔ 

3۔ 17 نومبر 2013ء  کو  وفاقی وزیر داخلہ چوہدری نثار علی خان نے اعلان کیا کہ حکومت سابق صدر جنرل ریٹائرڈ پرویز مشرف کے خلاف آرٹیکل چھ کے تحت مقدمے کا آغاز کر رہی ہے۔ 

4۔ 19 نومبر2013ء کوحکومتِ پاکستان نے سابق فوجی صدر پرویز مشرف کے خلاف آئین کے آرٹیکل چھ کے تحت غداری کے مقدمے کی سماعت کے لیے جسٹس فیصل عرب، جسٹس یاور علی اور جسٹس طاہرہ صفدرپر مشتمل تین رکنی خصوصی عدالت تشکیل دے دی۔ 

5۔ 20 نومبر2013 پاکستان کے اٹارنی جنرل منیر اے ملک نے کہا کہ غداری کے مقدمے میں حکومت کے پاس اتنے ٹھوس شواہد موجود ہیں کہ پرویز مشرف کو اس مقدمے میں سزا ہو سکتی ہے۔ 

6۔ 21 جنوری2014ء کو اکرم شیخ نے  خود فرمایا کہ سابق فوجی حکمران کے خلاف دستاویزی ثبوتوں کی بنیاد پر غداری کا مقدمہ دائر کیا گیا ہے۔ 

تعجب ہے کہ اب چیف پراسیکیوٹر اکرم شیخ فرمارہے ہیں کہ اُنھیں  پرویز مشرف کی وفاداری پر کوئی شک نہیں ہے اور وہ اُن کے لیےمحترم ہیں اوراُن کے کے خلاف  عدالت کے سامنے غداری کا نہیں بلکہ آئین شکنی کا مقدمہ ہے۔ کوئی تو  اِس”  عظیم قانون دان” سے پوچھے کہ کیا  آئین شکنی سے بڑی بھی کوئی غداری  ہوتی ہے؟ 

اب ہم دیکھتے ہیں کہ آرٹیکل چھ کیا ہے؟جس کے تحت  ڈکٹیٹر کے خلاف کاروائی شروع کی گئی ہے۔  آرٹیکل چھ، جس کا عنوان ہی  ‘سنگین غداری’ ہے، مِن ّ و عَن حاضر ہے ۔ جسے قانون سے نابلد  کوئی بھی معمولی پڑھا لِکھا آدمی  ماہر قانون دانوں کی مدد کے بغیرہی  آسانی سے سمجھ سکتا ہے: 

1۔ کوئی شخص جو طاقت کے استعمال یا طاقت سے  یا دیگر غیرآئینی ذریعے سے دستور کی تنسیخ کرے  یا تنسیخ کرنے کی سعی یا سازش کرے، تخریب کرے یا تخریب کرنے کی سعی یا سازش کرے سنگین غداری کا مجرم ہوگا۔ 

2۔ کو ئی شخص جو شق نمبر ایک میں مذکورہ افعال میں مدد دے گا یا معاونت کرے گا، اِسی طرح سنگین غداری کا مجرم ہو گا۔ 

3- مجلس شوریٰ یا پارلیمنٹ بذریعہ قانون ایسے اشخاص کے لئے سزا مقرر کرے گی جنہیں سنگین غداری کا مجرم قرار دیا گیا ہو۔ 

آثار بتاتے ہیں کہ وفاقی حکومت کے  سابق ڈکٹیٹر کے خلاف مقدمے میں ملٹری کی ہدایات  کے  عین مطابق عمل کرنے کے طرزعمل، ججوں کے ساتھ ساتھ حکومتی وکیلوں کو ڈکٹیٹر کے وکیلوں کی طرف سے جھڑکیوں اور گُھوریوں نے اکرم شیخ کو پوری طرح سمجھا دیا ہے کہ نوازشریف نے پراسیکیوٹرشپ کی کلغی کے جھانسے میں اُنھیں پھنسا کر ایک بار پھرکراری دُھلائی کا اعلٰی اہتمام کیا ہے، جیسا کہ پچھلے دورِ حکومت میں نُونیوں نے سپریم کورٹ کی راہ داریوں میں اکرم شیخ  کے سر پر وزیرِ قانون   اور  اٹارنی جنرل بننے کی دُھن جُوتا ٹھکائی کا شاندار عمل فرما کر اُتاری تھی۔ 

ہمیں توبے چارے اکرم شیخ پر ترس آرہا ہے۔

اپنا تبصرہ بھیجیں