بے نظیر کی پہلی کامیابی

بے نظیر بھٹو نے 1988 الیکشن کی بھر پور ملک گیر انتخابی مہم کے ذریعے اپنے حامیوں کو تیر پر نشان لگانے پر مجبور کر دیا تھا۔
72095_178804292273070_1125030196_n

فوکر طیارہ جیسے ہی کراچی ایئرپورٹ کے رن وے پر رُکا تو ایئرپورٹ سیکیورٹی فورس کے ایک دراز قد بریگیڈیئر نے اپنے ماتحت کو چلاتے ہوئے کہا کہ ‘جلدی کرو، بے نظیر صاحبہ کی گاڑی لے آؤ’۔پاکستان پیپلز پارٹی کی سربراہ جب طیارے کی سیڑھی سے نیچے اُترنے لگیں تو بریگیڈیئر نے انہیں سلیوٹ کیا اور کہا ‘میڈم ہم نے آپ کے لیے وی وی آئی پی لاؤنج کھلوا دیا ہے اور غیر ملکی صحافیوں کا ایک گروپ آپ کا منتظر ہے، کیا آپ ان سے بات کرنا چاہیں گی؟’جس پر بےنظیر نے ساتھ کھڑے مشیر سے کچھ کہا اور پھر ایک افسر کی رہنمائی میں وہ لاؤنج کی جانب بڑھ گئیں۔یہ سترہ نومبر کی ایک شام تھی جب اپنی پارٹی کو 1988ء کے الیکشن میں انتہائی کامیابی سے ہمکنار کرانے کے بعد وہ پہلی اہم پریس کانفرنس کرنے جا رہی تھیں۔ایک صحافی نے ان سے پوچھا کہ آیا وہ اُنہیں وزیر اعظم کہہ کر مخاطب کر سکتے ہیں؟ تو بی بی نے مسکراتے ہوئے کہا ‘ہم ابھی اتنے مغرور نہیں ہوئے’۔یہ مناظر ہم میں سے بعض صحافیوں کے لیے انتہائی ناقابل یقین تھے کیونکہ ہم کمزور دکھائی دینے لیکن مضبوط ارادوں والی بینظر بھٹو پر کافی رپورٹنگ کر چکے تھے۔ایک وقت تھا جب یہ نوجوان خاتون ایک طاقتور وزیراعظم کی بیٹی کے طور پر ان کی آنکھ کا تارہ رہیں اور پھر ایسا بھی ہوا جب اس بہادر خاتون نے سالوں قید تنہائی بھی کاٹے اور اس دوران والد کو پھانسی دیے جانے پر اکیلے ہی آنسو بہائے۔اس عرصے کے دوران ان کے آس پاس جب بھی کوئی فوجی وردی میں ملبوس نظر آیا تو اس کا مطلب یہی ہوتا تھا کہ یا تو انہیں حراست میں لیا جا رہا ہے یا پھر انہیں جلا وطن کیا جا رہا ہے۔انیس سو اٹھاسی کے انتخابات ایسے وقت میں ہوئے جب فوجی آمر جنرل ضیاءالحق کا 1985 میں غیر جماعتی بنیادوں پر انتخابات کے بعد اپنے منتخب کردہ سویلین وزیراعظم کے ساتھ بھی گزارا مشکل ہو چلا تھا۔نئے انتخابات کی تاریخ بڑی سوچ سمجھ کر ان دنوں میں رکھی گئی جب بےنظیر بھٹو کے ہاں پہلے بچے کی پیدائش متوقع تھی۔تاہم ضیاء کے خفیہ سیٹ اپ نے انہیں انتہائی مایوس کیا کیونکہ سولہ نومبر کو الیکشن سے کچھ ہفتے قبل ستمبر میں ہی نومولود بلاول کی پیدائش ہو چکی تھی۔اس وقت تک ضیاء ایک طیارہ حادثے میں ہلاک ہو چکے تھے لیکن پی پی پی کے خلاف ان کی نفرت ناصرف فوج بلکہ نگران سیٹ اپ میں سرایت کر چکی تھی۔انتخابات سے قبل دھاندلی کے ہتھکنڈوں میں آئی ایس آئی کا ایک سیاسی اتحاد تشکیل دینا بھی شامل تھا، جس کا مقصد تھا کہ پی پی پی مخالف ووٹ صرف ایک متحدہ محاذ کے پاس ہی جائے۔اس سے پہلے دو قومی اور ایک لوکل باڈی الیکشن میں پی پی پی نے انتخابی نشان تلوار استعمال کیا تھا تاہم اس بار انہیں اس نشان سے بھی محروم رکھا گیا۔پارٹی کو تیر کا نشان اپنانے پر مجبور کیا گیا تاہم یہ نشان بھی بے حد مقبول ہوا۔اس مقبولیت میں شازیہ خشک کے گانے ‘بجا تیر بجا’ نے چار چاند لگا دیئے اوریہ گانا پارٹی کا انتخابی گانا ٹھرا۔پی پی پی کی انتخابی مہم میں یہ گانا جہاں بھی بجتا وہاں جیالوں میں ایک جوش اور ولولہ پیدا کر جاتا۔آج بھی 1988ء کی انتخابی مہم میں اس گانے کا ذکر سب ہی کرتے ہیں۔پی پی پی نے یہ الیکشن بھٹو کے نام پر لڑا تھا۔ والد کی شہادت اور بیٹی کی فوجی آمریت کے خلاف ثابت قدمی سے مزاحمت کو انتخابی مہم کا مرکزی حصہ کے طور پر پیش کیا گیا۔اس کے علاوہ روٹی، کپڑا اور مکان جیسے نعروں کو دوباہ بحال کیا گیا اور کچھ ہفتے قبل ہی بلاول کو جنم دینے کے باوجود بی بی ایک تھکا دینے والی ملک گیر انتخابی مہم پر نکل پڑیں۔اس مہم کے دوران جب وہ سڑکوں پر تھیں، ٹرین میں یا پھر جلسے جلوسوں میں، انہوں نے اپنے جوشلیے حامیوں کو اپنی شعلہ بیانی سے تیر پر نشان لگانے پر مجبور کر دیا تھا۔انیس سو اٹھاسی کے انتخابی نتائج لیفٹیننٹ جنرل حمید گل کے سربراہی میں آئی ایس آئی کے لیے یقیناً مایوس کن رہے ہوں گے لیکن ان لوگوں کے لیے نہیں جو بی بی کے ساتھ پوری انتخابی مہم کے دوران سندھ اور دوسرے علاقوں میں محرومیاں اپنی آنکھوں سے دیکھ چکے تھے۔‘بجا تیر بجا’ کی دھن پرانتہائی پُرزور انتخابی مہم کے بعد سولہ نومبر کو الیکشن والے دن اور پھر رات گئے جب انتخابی نتائج آنا شروع ہوئے تو ہم میں سے بہت سوں کو لگا کہ تبدیلی آ چکی ہے۔
“Can we call you prime minister”? Ms Bhutto responded: “We can’t be that arrogant,” adding after a deliberate pause and a big smile, “yet”.
THE turboprop Fokker came to a stop on the tarmac. The tall brigadier, the commander of the Airport Security Force in Karachi, shouted to a subordinate: “Have Benazir Sahiba’s car brought here. Hurry up.”As the PPP leader took the few steps down the ladder to the tarmac, the brigadier smartly saluted her: “Madam, we have opened the VVIP Lounge for you. A battery of foreign journalists is waiting for you. Would you like to talk to them?”A beaming Ms Bhutto turned to confer with an aide and, with the tall officer showing the way, headed towards the lounge to address the first major press conference after leading her party to emerge as the largest single winner in the 1988 election.This was the evening of Nov 17, 1988. When a journalist asked her: “Can we call you prime minister”? Ms Bhutto responded: “We can’t be that arrogant,” adding after a deliberate pause and a big smile, “yet”.This was an unbelievable sight for some of us who had reported on at least some of the travails of the frail-looking but steel-willed young woman who went from being the apple of the eye of a powerful prime minister to someone who braved long years of solitary confinement during which she grieved in isolation as her father was executed.Until then, the uniformed presence around Ms Bhutto had meant that she was either being escorted to confinement or exile.The 1988 election was set when military ruler Gen Ziaul Haq couldn’t bear to coexist even with a handpicked civilian prime minister who assumed office after the 1985 party-less polls. The date for the new election had been set to coincide with the anticipated birth of the PPP leader’s first child.Zia’s intelligence apparatus had let him down and baby Bilawal was born several weeks before polling day. By that time the dictator had perished in an air crash. But his pathological hatred for the PPP appeared to have been inherited by his institution as well as the caretaker set-up.Among other nasty pre-poll rigging measures, an alliance was cobbled together by the ISI to ensure the anti-PPP vote went en bloc to one entity; the PPP was denied its election symbol (sword) from the earlier two national, and one local body election. The party was forced to accept the arrow as the symbol but responded heartily. Thus was born crooner Shazia Khushk’s Dila teer bija, the iconic campaign song, which electrified PPP cadres and whose tune is the one thing everyone recalls from that campaign.The election was fought in the Bhutto name. The perceived martyrdom of the father and the steadfast defiance of the military regime by the daughter were the central planks.Slogans such as “roti, kapra aur makaan” were revived and BB, though having become a mother just a few weeks earlier, embarked on a hectic campaign which took her to every nook and cranny of the country. Her constant refrain to her teeming supporters whether she was on the road, on the campaign train or in rallies was driving home the need to stamp the arrow.The ISI under Lt-Gen Hamid Gul may have been surprised at the result but to those who travelled along the campaign route of the PPP leader it wasn’t difficult to see the defiant adulation of the dispossessed in Sindh and elsewhere. The disappointments, the poor governance, the corruption allegation were all in the future.After the feverish campaign to the beat of Dila teer bija, polling on Nov 16 and the results that started to arrive by midnight, many of us thought change had arrived.
Source: DAWN

اپنا تبصرہ بھیجیں