نگران حکومت نے زرعی ٹیوب ویل کے لئے پیپلز پارٹی کی 16.4 ارب روپے کی سبسڈی روک کر کسانوں کی حق تلفی کی ہے: منیر احمد خان

485895_234044706733292_563595522_n

پاکستان پیپلز پارٹی کے ترجمان منیر احمد خان نے کہا ہے کہ نگران حکومت کے لئے غیر جانبداری بنیادی شرط ہے – پیپلز سیکرٹریٹ میں پارٹی عہدیداروں سے ملاقات کے دوران انہوں نے کہا کہ شفاف انتخابات کاانعقاد نگران حکومت کی ذمہ داری ہے جسے طرفداری یا امتیاز کے بغیر پورا کرنا نگران حکومت پر لازم ہے – انہوں نے کہا کہ نگران حکومت زرعی ٹیوب ویل کے لئے پیپلز پارٹی کی جانب سے سبسڈی کی مد میں مختص کردہ 16.4 ارب روپے کی رقم روک کر اس سے کسانوں کی حق تلفی کی ہے انہوں نے کہا کہ اس اقدام سے نگران حکومت کی غیر جانبداری پر سوال اٹھ رہے ہیں – انہوں نے کہا کہ نگران حکومت کی طرف سے اجتماعی فلاحی مقصد کے لئے مختص کردہ رقم کا روکنا عوامی مفاد کے خلاف ہے – انہوں نے کہا کہ نگران حکومتیں قائم ہوئی تھیں تو وزیر اعظم میر ہزار خان کھوسو ، چاروں نگران وزرائے اعلی بالخصوص وزیر اعلی پنجاب نجم سیٹھی نے اعلان کیا تھا کہ پچھلی حکومتوں کے ترقیاتی کام جاری رکھے جائیں گے ، عوام کو دی سہولتیں نہیں لی جائیں گی اور کوئی منصوبہ نہیں روکا جائے گا – جس کا عوام اور تمام سیاسی پارٹیوں نے خیر مقدم کیا تھا – انہوں نے کہا کہ پیپلز پارٹی کو پنجاب کے کئی منصوبوں پر اعتراض ہے لیکن ہم نے قوم کے وسیع تر مفاد میں نگران حکومتوں کے اس فیصلے کو قبول کیا – انہوں نے کہا کہ غریب کسانوں کو دی گئی یہ سہولت چھیننا بڑی زیادتی ہے – انہوں نے کہا کہ ٹیوب ویلوں پرفلیٹ ریٹ دے کر کسی ایک سیاسی پارٹی کو نہیں بلکہ پوری کسان برادری کو فائدہ پہنچایا گیا تھا – انہوں نے کہا کہ پیپلز پارٹی نے بڑی بڑی تنخواہوں پر پنجاب میں ریٹائرڈ ملازمین کو بڑے بڑے پراجیکٹ دینے پر اعتراض کیا تھا لیکن وہ ریٹائرڈ افسران اب تک ان اداروں پر قابض ہیں – انہوں نے کہا کہ یہ ریٹائرڈ ملازمین سابقہ دور میں رکھے گئے تھے جو اب براہ راست الیکشن پر اثر انداز ہو رہے ہیں – منیر احمد خان نے نگران وزیر اعظم میر ہزار ن کھوسو سے مطالبہ کیا کہ وہ وفاقی وزارت خزانہ کے اس غیر اصولی اقدام کا فوری نوٹس لیں اور کسانوں و پیپلز پارٹی کے ساتھ روا رکھی جانے والی اس ناانصافی کا خاتمہ کرائیں –

کیٹاگری میں : News

اپنا تبصرہ بھیجیں