قمر زمان کائرہ نے حکومت کے 1240 ارب روپے کے کورونا پیکج کی تفصیل سے حقیقت بتادی

لاہور: پیپلز پارٹی وسطی پنجاب کے صدر قمر زمان کائرہ نے حکومت کے 1240 ارب روپے کے کورونا پیکج کی تفصیل سے حقیقت بتادی ہے۔

1240 ارب روپے کے کورونا پیکج کی تفصیل:

1. 100 ارب روپے کاروباری برادری کے لئے ٹیکس ری فنڈ کے رکھے گئے ہیں۔ یہ تو وہ پیسہ ہے جو کاروباری برادری کا 250 ارب ایڈوانس حکومت کے پاس ہے، وہ تین سال سے مانگ رہے ہیں، اس کا خزانہ پر کیا اثر ہو گا کہ یہ تو بجٹ کا حصہ نہ ہے۔ اس پر مزید یہ کہ پہلے بھی کئی دفعہ وعدے کر کے حکومت نے یہ رقم نہ دی ہے۔

2. 100 ارب کاروباری افراد کی طرف سے لئے گئے قرض کے اصل زر اور سود کو ایک سال کے لئے ڈیفر کیا ہے، اس کا حکومت کے خزانہ پر کیا اثر ہو گا کہ حکومت نے تو کوئی خرچ نہ کرنا ہے، بنکوں کو کہا گیا ہے کوئی مالی اثر نہ ہے۔

3. 260 ارب روپے گندم کی خریداری کے لئے رکھے گئے ہیں۔
یہ تو ہر سال حکومت سٹریٹیجک ریزرو کی خریداری میں استعمال کرتی ہے، اس کا کورونا وائرس سے کوئی تعلق نہ ہے۔

4. 75 ارب روپیہ تیل کی قیمت کم کرنے پر خرچ ہو گا۔
حالانکہ عالمی سطح پر تیل کی قیمتیں گرنے کی وجہ سے تیل سستا ہو گیا ہے اور حکومت کو اس مد میں 150 ارب سے زائد کی بچت ہوئی ہے جو عوام تک جانا چاہیئے، یہ تو صرف 75 ارب روپے دے رہے ہیں۔

5. 30 ارب روپے چھوٹے صارفین کے لئے بجلی اور گیس کے بل ایک ماہ مؤخر کرنے کا کہا گیا ہے جو کہ انہوں نے قسطوں میں آنے والے مہینوں میں ادا کرنا ہے تو اس کا کورونا ریلیف سے کیا تعلق، اس حکومت کا کوئی خرچ نہ ہورہا ہے۔

6. 200 ارب روپے ان مزدوروں کے لئے رکھے گئے ہیں جو بیروزگار ہوں گے یا ملازمت سے نکال دیا جائے گا۔
اس کی تو کیلکولیشن نہ ہے، نہ ہی کوئی طریقہ کار طے ہوا ہے، بس ایک فِگردے دیا گیا ہے نہ کوئی کام ہو رہا ہے۔

7. 100 ارب روپے کسانوں اورایس ایم ای کے لئے رکھا گیا ہے، اس کا کوئی بیسز نہ بتایا گیا ہے، اسکو کس طرح کسانوں اور چھوٹی و درمیانی صنعتوں کو دیا جائے گا، ابھی تک صرف لفاظی ہے۔

8. 150 ارب روپے 12 ملین افراد جو کہ ڈیلی ویجر یا بینظیر انکم سپورٹ پروگرام والے ہیں، یہی رقم اصل میں بینظیر انکم سپورٹ پروگرام کے مستحقین کو دی جا رہی ہے، اس میں ماہانہ اقساط جو کہ بجٹ کا حصہ تھا، گذشتہ کئی ماہ سے ادا نہ کی گئی ہیں اور اب 4 ماہ کی امداد یک مشت دے رہے ہیں تو اس میں کچھ لوگ نئے اور بیشتر پہلے سے موجود ہیں لہذا اس کا خزانہ پر 150 ارب کا اثر نہ ہوگا یا کافی کم ہو گا۔

9. 50 ارب روپے یوٹیلٹی سٹور کے لئے رکھے گئے ہیں، دراصل پچھلے پورے سال میں یوٹیلٹی سٹور کی کل سیل ساڑھے 26 ارب روپے تھی، جو ادارہ سال میں کل سیل ساڑھے 26 ارب روپے کر سکتا ہو، وہ 50 ارب کا ریلیف کیسے دے سکتا ہے۔ کیا یوٹیلٹی سٹور 50 ارب کا سامان مفت دے گا۔

10. 50 ارب روپے کوکورونا سے متعلقہ سامان اور مشینری وغیرہ کی خرید و فروخت کے لئے رکھا گیا ہے، خرچ کتنا ہو گا؟

11. 25 ارب روپیہ این ڈی ایم اے کے لئے رکھا گیا ہے جس سے مختلف سامان ٹیسٹنگ کٹس، وینٹیلیٹرز وغیرہ اوردیگر سامان خرید رہے ہیں۔

12. 100 ارب روپیہ بلاک ایلوکیشن کے لئے رکھا گیا ہے کہ مستقبل میں جہاں ضرورت ہوئی، خرچ کریں گے۔
اس کو یہاں دکھانے کی ضرورت نہ تھی بلکہ جب ضرورت ہوتی اس کی منظوری دے دی جاتی، کونسا پارلیمینٹ سے فوری منظوری کی ضرورت ہے۔ کیا آپ نے سارے پیکج کی وھاں سے منظوری لی ہے؟

یہ صرف لفظ ہیں
یہ ہے کورونا پیکج کی تفصیل

اپنا تبصرہ بھیجیں