لاہور: قمر زمان کائرہ کا پریس کانفرنس سے خطاب

لاہور: پاکستان پیپلز پارٹی وسطی پنجاب کے صدر قمر زمان کائرہ نے کہا ہے کہ وفاقی حکومت نے کرونا کے خلاف بروقت اقدامات نہیں کئے، صوبوں کو وسائل بھی نہیں دیئے جا رہے۔ تحریک انصاف کی سیاست کا وطیرہ فاشزم ہے، اگروفاقی حکومت ہماری تجاویز مان لیتی تو آج یہ صورتحال نہ ہوتی، وزیر اعلی پنجاب ہیلی کاپٹر سے اتریں فضا سے کرونا وائرس نظر نہیں آتا۔

قمر زمان کائرہ کا لاہور میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے کہنا تھا کہ گزشتہ روز مراد علی شاہ نے نام لے کر وزیراعظم کا شکریہ ادا کیا اور اچھے الفاظ میں ان کا ذکر کیا لیکن حکومتی ترجمانوں نے ان پر یلغار کردی۔ وزیراعلیٰ سندھ کے جذبے کو ترجمانوں نے خراب کرنے کی کوشش کی۔ دنیا بھر میں لاک ڈاؤن کے فیصلے کو سندھ حکومت کا کریڈٹ قرار دے دیا۔ انہوں نے کہا کہ کورونا کے آغاز پر ہی سندھ حکومت نے بروقت فیصلے کیے جس کی دنیا نے بھی تقلید کی۔ مراد علی شاہ کے جذبوں کو حکومتی ترجمانوں نے خراب کرنے کی کوشش کی۔

سندھ کی تعریف ہوئی تووزیراعظم کو آگ لگ گئی،آج پاکستان کے مزاج والا بندہ امریکی صدر ہے، وہ بھی اپنی غلطیاں کوتاہیاں ماننے کی بجائے گورنرز سے لڑ پڑا ہے،جب ملک کا وزیراعظم ہنگاموں، انارکی اور احتجاج کی بات کرے گا، تو پھر صوبے کی کون بات سنے گا؟انہوں نے پریس کانفرنس میں کہا کہ وزیراعلیٰ سندھ وفاقی اقدامات جن میں کورونا فنڈ اچھا اقدام ہے

قمر زمان کائرہ کا کہنا تھا کہ وفاقی حکومت نے سندھ کی تعریف میں ایک لفظ بھی نہیں کیا، ملک میں 109 کے قریب طبی عملے میں کرونا وائرس کی تشخیص ہوئی ہے اس کا ذمہ دار کون ہے، ہم اسوقت پوائنٹ سکورنگ نہیں کرنا چاہتے، ہم یہ نہیں کہتے کہ سب ٹھیک ہے، قوم سے خطاب میں وزیراعظم نے کہا کہ لاک ڈاؤن نہیں چاہتے اورپھر یوٹرن لے لیا۔

قمر زمان کائرہ کا مزید کہنا تھا کہ وزیراعظم اور کابینہ جو کررہی ہے وہ سیاست ہے،مراد علی شاہ کی کانفرنس کے بعد نوٹیفائیڈ اور غیر نوٹیفائیڈ ترجمانوں نے یلغا ر کردی،کل وزیراعلیٰ نے خود بھی سسٹم میں خرابی کا اعتراف کیا،وزیراعلیٰ کے جذبے کو ترجمانوں نے خراب کرنے کی کوشش کی،یہ کہنا کہ سیاست نہ کریں جہالت ہے، سیاست نہ کرنے سے مسائل پیدا ہوتے ہیں،وفاقی حکومت ہماری تجاویز مان لیتی تو آج یہ صورتحال نہ ہوتی،

قمر زمان کائرہ کا مزید کہنا تھا کہ تفتان بارڈر پر فوری طور پر اقدامات کیے جاتے تو صورتحا ل مختلف ہوتی،سندھ حکومت نے پہلا کیس آتے ہی کراچی، سکھر میں انتظامات کیے، وفاق جو اچھا کرتا ہے ہم کہتے ہیں اچھا کیا، ملک میں 25فیصد لوگ 2ٹائم کی روٹی مشکل سے کھاتے ہیں،ہم نے صرف یہ کہا کہ وفاق نے فیصلے کرنے میں دیر کی۔

انہوں نے کہا کہ اپوزیشن کا کام تجاویز اور نشاندہی کرنا ہوتا ہے جبکہ حکومت فیصلے کرتی ہے۔ قرنطینہ میں لوگوں کو سہولیات نہیں دیں گے تو وہ گھبرا جائیں گے۔

قمر زمان کائرہ نے مزید کہا کہ لاک ڈاؤن کے فیصلے پر وزیراعظم خود تذبذب کا شکار ہیں۔ کبھی کہتے ہیں کہ لاک ڈاؤن نہیں ہونا چاہیے اور کبھی کہتے ہیں کہ لاک ڈاؤن کے سوا کوئی چارہ نہیں۔ وفاقی حکومت بات مان لیتی تو حالات آج اتنے خراب نہ ہوتے۔

وزیراعظم نے پہلے خطاب میں کہا کہ لاک ڈاؤن نہیں ہونا چاہیے، جبکہ سندھ حکومت لاک ڈاؤن کی پوزیشن لے چکی تھی۔لاک ڈاؤن کرنے والے بھی قوم کے خادم ہیں۔سندھ کے بعد پنجاب اور خیبرپختونخواہ نے لاک ڈاؤن کیا۔ہم نے جس پیٹرن کو فالو کررہے ہیں، پوری دنیا میں وہی پیٹرن استعمال ہوا اور وباء پر کنٹرول کیا گیا۔ جن ممالک میں مرکزی حکومت اور وزیر اعظم کا فارمولا استعمال ہوا، وہاں وباء پھیل گئی۔
جو صورتحال آج پاکستان میں ہے، اسی مزاج والا بندہ امریکی صدر ہے۔وہ یہی کام کررہا ہے، وہ بھی اپنی غلطیاں کوتاہیاں ماننے کی بجائے گورنرز سے لڑ پڑا ہے، یہاں وزیراعظم سندھ حکومت کے پیچھے پڑ ے ہوئے ہیں۔یہ فاشسٹ مزاج ہے۔ قوم سے خطاب میں کہا لاک ڈاؤن نہیں کرنا، سندھ نے لاک ڈاؤن کیا، بعد میں پنجاب اور خیبرپختونخواہ میں لاک ڈاؤن ہوا۔پھر وزیراعظم نے کہا کہ جزوی لاک ڈاؤن ہونا چاہیے جبکہ کرفیو نہیں ہونا چاہیے۔

پھربلوچستان کی تعریف کی، جبکہ سندھ کے بارے ایک الفاظ ادا نہیں کیا، زبان نہیں گھس جاتی۔انہوں نے کہاکہ تازہ ڈیٹا جو ہے اس کے تحت 54فیصد کیسز لوکل ٹرانسمیشن ہے۔ یعنی مقامی سطح پر پھیلنا شروع ہوگیا ہے۔لیکن اس پر وزیراعظم کہہ رہے ہیں کہ اگر لاک ڈاؤن ہوا، تو ہنگامے ہوں گے، انارکی پھیلے گی، لوگ باہر نکل آئیں گے۔بھئی یہ باتیں معلومات کی بنیاد پر بند کمروں کی گفتگو ہوتی ہے، اگر ملک کاوزیراعظم قوم سے خطاب میں یہ باتیں کرے گا تو پھرصوبائی حکومتوں کی بات کون مانے گا؟پھر علماء ، تاجر،یا لوگ کیوں توجہ دیں گے؟ اس میں شک نہیں ہے کہ ہمارے پاس وسائل کی کمی ہے۔

ڈی جی خان، اور ملتان میں جن لوگوں کو رکھا وہاں وائرس نے تباہی پھیلا دی، ڈاکٹرز متاثر ہوئے ہیں۔ہم نے کہا کہ آپ نے وقت پر فیصلے نہیں۔ مارچ کے پہلے ہفتے میں جب وباء پھیلی تو ہم نے پہلے ہفتے میں کہاکہ خدارا راشن سپلائی کام مشکل ہے، اس میں لوگوں کا حتجاج رہے گا۔پہلے ہی ملک میں 25فیصد لوگ روٹی سے تنگ ہیں۔ میں نے کہا تھا کہ ایک پلیٹ فارم ہے، بے نظیر انکم سپورٹ پروگرام ہے، پھر حکومت کو یہی کرنا پڑا۔

ان کا کہنا تھا کہ ہم جو کچھ کر رہے ہیں، یہ سیاست ہے۔ یہ کہنا کہ سیاست نہ کریں جہالت ہے۔ سیاست نہ کرنے کی وجہ سے مسائل پیدا ہوتے ہیں۔ تحریک انصاف کی سیاست کا وطیرہ فاشزم ہے۔ وزیراعظم سندھ حکومت اور ٹرمپ اپنے گورنر کے پیچھے پڑ گئے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ سندھ حکومت نے بروقت احتیاطی تدابیر اختیار کیں لیکن وفاقی حکومت نے بروقت حفاظتی اقدامات نہیں کیے۔ تفتان بارڈر پر بہتر حفاظتی اقدامات کیے جاتے تو صورتحال بہتر ہوتی۔

انہوں نے حکومتی ریلیف پیکج کا پوسٹ مارٹم کرتے ہوئے کہاہے کہ حکومت قوم سے سچ بولے ریلیف پیکج میں حقائق کے برعکس رقوم مختص کی گئیں
1240 ارب روپے کے کورونا پیکج کی تفصیل:

1. 100 ارب روپے کاروباری برادری کے لئے ٹیکس ری فنڈ کے رکھے گئے ہیں۔ یہ تو وہ پیسہ ہے جو کاروباری برادری کا 250 ارب ایڈوانس حکومت کے پاس ہے، وہ تین سال سے مانگ رہے ہیں، اس کا خزانہ پر کیا اثر ہو گا کہ یہ تو بجٹ کا حصہ نہ ہے۔ اس پر مزید یہ کہ پہلے بھی کئی دفعہ وعدے کر کے حکومت نے یہ رقم نہ دی ہے۔

2. 100 ارب کاروباری افراد کی طرف سے لئے گئے قرض کے اصل زر اور سود کو ایک سال کے لئے ڈیفر کیا ہے، اس کا حکومت کے خزانہ پر کیا اثر ہو گا کہ حکومت نے تو کوئی خرچ نہ کرنا ہے، بنکوں کو کہا گیا ہے کوئی مالی اثر نہ ہے۔

3. 260 ارب روپے گندم کی خریداری کے لئے رکھے گئے ہیں۔
یہ تو ہر سال حکومت سٹریٹیجک ریزرو کی خریداری میں استعمال کرتی ہے، اس کا کورونا وائرس سے کوئی تعلق نہ ہے۔

4. 75 ارب روپیہ تیل کی قیمت کم کرنے پر خرچ ہو گا۔
حالانکہ عالمی سطح پر تیل کی قیمتیں گرنے کی وجہ سے تیل سستا ہو گیا ہے اور حکومت کو اس مد میں 150 ارب سے زائد کی بچت ہوئی ہے جو عوام تک جانا چاہیئے، یہ تو صرف 75 ارب روپے دے رہے ہیں۔

5. 30 ارب روپے چھوٹے صارفین کے لئے بجلی اور گیس کے بل ایک ماہ مؤخر کرنے کا کہا گیا ہے جو کہ انہوں نے قسطوں میں آنے والے مہینوں میں ادا کرنا ہے تو اس کا کورونا ریلیف سے کیا تعلق، اس حکومت کا کوئی خرچ نہ ہورہا ہے۔

6. 200 ارب روپے ان مزدوروں کے لئے رکھے گئے ہیں جو بیروزگار ہوں گے یا ملازمت سے نکال دیا جائے گا۔
اس کی تو کیلکولیشن نہ ہے، نہ ہی کوئی طریقہ کار طے ہوا ہے، بس ایک فِگردے دیا گیا ہے نہ کوئی کام ہو رہا ہے۔

7. 100 ارب روپے کسانوں اورایس ایم ای کے لئے رکھا گیا ہے، اس کا کوئی بیسز نہ بتایا گیا ہے، اسکو کس طرح کسانوں اور چھوٹی و درمیانی صنعتوں کو دیا جائے گا، ابھی تک صرف لفاظی ہے۔

8. 150 ارب روپے 12 ملین افراد جو کہ ڈیلی ویجر یا بینظیر انکم سپورٹ پروگرام والے ہیں، یہی رقم اصل میں بینظیر انکم سپورٹ پروگرام کے مستحقین کو دی جا رہی ہے، اس میں ماہانہ اقساط جو کہ بجٹ کا حصہ تھا، گذشتہ کئی ماہ سے ادا نہ کی گئی ہیں اور اب 4 ماہ کی امداد یک مشت دے رہے ہیں تو اس میں کچھ لوگ نئے اور بیشتر پہلے سے موجود ہیں لہذا اس کا خزانہ پر 150 ارب کا اثر نہ ہوگا یا کافی کم ہو گا۔

9. 50 ارب روپے یوٹیلٹی سٹور کے لئے رکھے گئے ہیں، دراصل پچھلے پورے سال میں یوٹیلٹی سٹور کی کل سیل ساڑھے 26 ارب روپے تھی، جو ادارہ سال میں کل سیل ساڑھے 26 ارب روپے کر سکتا ہو، وہ 50 ارب کا ریلیف کیسے دے سکتا ہے۔ کیا یوٹیلٹی سٹور 50 ارب کا سامان مفت دے گا۔

10. 50 ارب روپے کوکورونا سے متعلقہ سامان اور مشینری وغیرہ کی خرید و فروخت کے لئے رکھا گیا ہے، خرچ کتنا ہو گا؟

11. 25 ارب روپیہ این ڈی ایم اے کے لئے رکھا گیا ہے جس سے مختلف سامان ٹیسٹنگ کٹس، وینٹیلیٹرز وغیرہ اوردیگر سامان خرید رہے ہیں۔

12. 100 ارب روپیہ بلاک ایلوکیشن کے لئے رکھا گیا ہے کہ مستقبل میں جہاں ضرورت ہوئی، خرچ کریں گے۔
اس کو یہاں دکھانے کی ضرورت نہ تھی بلکہ جب ضرورت ہوتی اس کی منظوری دے دی جاتی، کونسا پارلیمینٹ سے فوری منظوری کی ضرورت ہے۔ کیا آپ نے سارے پیکج کی وھاں سے منظوری لی ہے؟

اپنا تبصرہ بھیجیں