لوگوں کی زندگی عزیز ہے، مخالفین کی تنقید کا جواب نہیں دینا چاہتا، وزیراعلیٰ سندھ مراد علی شاہ

وزیراعلیٰ سندھ مراد علی شاہ نے کہا ہے کہ مجھے اس وقت لوگوں کی زندگی اور صحت عزیز ہے اور میں مخالفین یا ناقدین کی کسی تنقید کا جواب نہیں دینا چاہتا۔

سکھر کمشنر آفس میں پریس کانفرنس میں مراد علی شاہ کا کہنا تھا کہ کورونا وائرس سے بچنے کے لیے لائحہ عمل تیار کر رہے ہیں، مساجد اور رمضان المبارک سے متعلق علما اور ماہرین سے مشاورت جاری ہے۔

وزیراعلیٰ سندھ کا کہنا تھا کہ لاک ڈاؤن میں جو چیز کھل رہی ہے وہ قواعد و ضوابط کے مطابق کھل رہی ہے، مساجد اللہ کا گھر ہیں اور عبادت کی جگہ ہیں لیکن علما اور شہریوں کی زندگی بھی اہم ہے، لہٰذا لوگ گھروں میں رہ کر عبادت کریں۔

اپنی بات کو آگے بڑھاتے ہوئے مراد علی شاہ کا کہنا تھا کہ لاک ڈاؤن کرکے ہم خوش نہیں ہیں لیکن اس کے سوا کوئی راستہ نہیں تھا، ساتھ ہی ان کا کہنا تھا کہ ہوسکتا ہے ہم سے غلط فیصلے ہوئے ہوں لیکن فیصلہ نہ لینا نااہلی اور جرم ہے۔

وزیراعلیٰ سندھ کا کہنا تھا کہ سکھر ہمارے فرنٹ لائن پر تھا اور یہاں پر ایران سے 1388 زائرین کو لاکر قرنطینہ کیا گیا تھا تاہم اب سکھر میں صرف 7 مریض موجود ہیں باقی تمام افراد صحتیاب ہوکر اپنے گھروں کو جاچکے ہیں جبکہ صوبے میں صحتیاب ہونے والوں کی تعداد 576 تک پہنچ چکی ہے۔

دوران گفتگو مراد علی شاہ نے کہا کہ اس وائرس کا علاج صرف اور صرف سماجی فاصلے اور احتیاط سے ممکن ہے، لوگ گھروں میں جانے سے پہلے ہاتھ دھوئیں اور گھر جاکر کپڑے بدلیں اور خود کو بزرگوں اور بچوں سے دور رکھیں۔

وزیراعلیٰ سندھ نے کہا کہ ہم نے لوگون کو ان کے گھروں کے دروازوں پر راشن دیا ہے، ہم راشن کی تقسیم پر لوگوں کو اکٹھا نہیں کرنا چاہتے جبکہ ہم راشن کی تقسیم کے ذریعے غریبوں کی کفالت کرنے کی کوشش کررہے ہیں۔

صوبہ سندھ میں کرونا وائرس کی روک تھام کے سلسلے میں سب سے پہلے لاک ڈاؤن نافذ کرنے والے وزیر اعلیٰ سندھ مراد علی شاہ خود بھی وبا سے متعلق ایس او پی پر سختی سے عمل درآمد کررہے ہیں۔

وزیر اعلیٰ سندھ سکھر شہر کے دورے کے لیے گاڑی خود ڈرائیو کر کے ایئر پورٹ سے روانہ ہوئے، ایئر پورٹ پر وزیر اعلیٰ سندھ مراد علی شاہ نے اپنی گاڑی روک کر پولیس موبائلز بھی واپس بھجوا دیں۔

وزیر اعلیٰ نے گاڑی سے اتر کر کہا کہ انھیں کوئی پروٹوکول نہیں چاہیے، مجھے شہر دیکھنے دیں۔ خیال رہے کہ وزیر اعلیٰ سندھ مراد علی شاہ کرونا وبا سے متعلق بنائے گئے ایس او پی کے تحت خود گاڑی ڈرائیو کی، اور ان کے ساتھ گاڑی کی پچھلی سیٹ پر صرف وزیر اطلاعات سندھ ناصر شاہ بیٹھے ہوئے تھے۔

وزیر اعلیٰ نے کہا کہ میں خود کہتا ہوں کہ 2 سے زیا دہ لوگ نہ نکلیں، کسی سیکورٹی اور پروٹوکول کی ضرورت نہیں ہے، جو سندھ میں آنا چاہتے ہیں انھیں یہاں کے قانون کی پیروی کرنی چاہیے، لوگوں سے درخواست ہے کہ اپنی مدد خود کریں، اب سکھر سے لاڑکانہ جا کر وہاں کی صورت حال کا بھی جائزہ لینا ہے، کراچی میں 5 بجے لاک ڈاؤن ہو جاتا ہے میرا جانا بھی مناسب نہیں ہوگا۔

یاد رہے کہ گزشتہ روز وزیر اعلیٰ سندھ مراد علی شاہ نے اگلے 14 دن لاک ڈاؤن مزید سخت کرنے کا اعلان کرتے ہوئے کہا تھا کسی چیز کو نہیں کھولاجا رہا، سندھ میں لاک ڈاؤن صبح 8 سے 5 بجے تک کی پالیسی برقرار رہے گی۔

کرونا ایس او پی کے مطابق گاڑی میں ڈرائیور کے ساتھ صرف ایک شخص اور بیٹھ سکتا ہے، دو سے زائد افراد کے جانے پر پابندی ہے۔ ٹیکسیوں میں بھی ایک شہر سے دوسرے شہر دو سے زائد افراد کے جانے پر پابندی لگائی جا چکی ہے۔

اپنا تبصرہ بھیجیں